Long Urdu Novels

میرا نام آمنہ ہے اور میں ایک گاؤں میں رہتی ہوں. ہمارا گاؤں پہاڑوں میں واقع ہے. میں پڑھی لکھی نہیں ہوں. اور نہ ہی کبھی اپنے گھر سے باہر گئی ہو. میری عمر 18 سال ہے. میرے ابو کے چھوٹے بھائی شہر میں کام کرتے ہیں اور ان کے سب گھر والے شہر میں ہی رہتے ہیں. ان کا بیٹا سرفراز جو کہ دوسرے ملک میں کام کرتا ہے. میری اس سے شادی طے کر دی گئی۔ مجھے نہیں پتا کہ شادی کیا چیز ہے اور نہ ہی کبھی اس سے پہلے اس کے متعلق بات چیت ہوئی تھی دن دس دن بعد سرفراز نے گھر واپس آنا تھا. اور اس کے ایک دن بعد ہماری شادی تھی.

میرے گھر میں بھی شادیوں کی تیاریاں خو چل رہی تھی. مہمان آ رہے تھے شادی کا دن آگیا میں کمرے میں بیٹھی تھی. اور سرفراز باہر بارات لے کر ہمارے گھر آئے. پھر ہمارا نکاح ہوا میری رخصتی ہوگئی. ہم لوگ رات کو آٹھ بجے گھر پہنچے میں سج سنور کر کمرے میں بیٹھی تھی. پھولوں سے ہمارا کمرہ سجا ہوا تھا. ایک گھنٹے بعد میرا شوہر کمرے میں آیا. مجھے سلام کیا اور میں نے سلام کا جواب دیا.

انہوں نے پوچھا تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں تم نے کھانا کھا لیا میں نے جواب دیا نہیں پھر ہم نے کمرے کھانا کھایا. میں نے کہا میں بہت تھک گئی ہوں میں سو جاؤں تو بولے پہلے یہ جیولری وغیرہ تو اتار لو. پھر میں نے ہاتھ منہ دھویا اور آ کر لے لیٹ گئی میں سمجھتی تھی شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی ایک ساتھ رہتے ہیں مگر یہ نہیں پتا تھا کہ کیسے رہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں. جیسے ہی میں لیٹی تو فراز نے میرے گال پر ہاتھ پھیرا اور بولےکہ آپ بہت خوبصورت ہو اور میرے اوپر جھک گئے.

میں نے کہا کیا کر رہے ہیں آپ فراز بولے یہ تو پیار ہے میں خاموش ہو گئی اور وہ میرے اوپر لیٹے اور چھیڑ کھانی کرنے لگے میں پہلے تو خاموشی سے لیٹی رہی لیکن جیسے یہ وہ میرے کپڑے اتارنے لگے. میں شور مچاتی ہوئی سے باہر بھاگ گئی. میرے ساس, سُر اور مہمان وہاں موجود تھے. مجھے شور مچاتے دیکھ کر وہ بولے کیا ہوا تو میں نے کہا سرفراز میرے ساتھ گندی حرکت کررہا ہے میرے ساس مسکرائی اور مجھے لے کر کمرے کی طرف چل پڑی.

اور بولی چلو ہم بھی اس پوچھتے ہیں. وہ مجھے مہمانوں سے تھوڑا دور لے کر گئی اور بولی بیٹا کیا کر رہا تھا سرفراز. میں نے بتایا مجھے چوم رہا تھا اور کپڑے اتارنے کی کوشش کر رہا تھا.وہ بولی بیٹا اب وہ آپ کا شوہر ہے اور میاں بیوی میں سب ہوتا ہے میں نے کہا وہ کیسے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے جب آپ کی امی اور ابو نے یہ سب کیا تو آپ آئیں اور جب میں نے اور تمہارے چچا نے کیا. تو سرفراز آیا تم پریشان نہ ہو یہ کوئی غلط نہیں ہے سارے کے سارے مہمان میرا مذاق اڑا رہے تھے پھر وہ مجھے کمرے میں چھوڑ آئی میں نے سرفراز سے کہا مجھے معاف کر دیں مجھے پتا نہیں تھا یہ کچھ بھی ہوتا ہے تو وہ ہنسنے لگے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *