Long Urdu Novels

میرا نام کنزہ ہے اور میری عمر 21 سال ہے جب میں بہت چھوٹی تھی میرے ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے میں اکلوتی ہی تھی میرے چچانے میری پرورش کا ذمہ لیا پہلے پہلے تو میرا بہت خیال رکھتے میری ہر ضرورت پوری کرتے پھر آہستہ آہستہ ان کا پیار میرے لیے کم ہو گا پھر میں ان کے لیے بوجھ بن گئی میرا سکول چھڑا کے مجھ سے چچی سارا دن کام لیتی اور ان کے بچے سکول جاتے میں پہلے تو بہت روتی پھر صبر آگیا میں نے رونا دھونا چھوڑ دیا اور گھر کے کام کرتی سارا دن سب نے مجھے نوکرانی سمجھ لیا میں تو انھیں مفت کی نوکرانی مل گئی تھی پھر ایک دن مجھے پتہ چلا چچا میری شادی کر رہے ہیں میں حیران ہو گئی چا میری شادی کیوں کھنا چاہتے ہیں اور میری شادی سے اتنا خوش کیوں ہیں 

میں تو ان کی مفت کی نوکرانی ہوں انھیں میری شادی کر کے کیا ملے گا پھر میں خاموش ہو گئی میرا خیال تھا شادی کے بعد میری اس جہنم سے جان چھوٹ جائے گی شادی والے دن جب میرا شوہر کمرے میں داخل ہوا نشے میں چور تھا میں اس سے دیکھ کے ڈر گئی اور خود میں سمٹ گئی جھٹکا تو مجھے تب لگا جب اس نے میرے بالوں سے پکڑ لیا اور مجھے مارنے لگا اور میں روتی ہوئی اپنا گناہ سوچنے لگی مجھے کس کی سزا مل رہی ہے چچا کے گھر باتوں سے وار کر کے مجھے زخمی کیا جاتا ذ ہنی طور پر مجھے مارا جاتا پر یہاں تو مجھے جسمانی طور پر بھی اذیت دی جانے لگی میں خاموش ہو جاتی اور سوچنے لگتی آخر چچانے میری شادی اس شخص سے کیوں کی ہے

 میں اپنے شوہر کے کپڑے بستری کر رہی تھی جب اچانک دروازہ کھول کر کمرے میں آئے اور مجھے بالوں سے پکڑ کر میرے ہاتھ پے استری رکھ دی میں درد سے بلبلا اٹھی میری آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور غصہ میں بولے یہ رونے والا ڈرامہ میرے سامنے مت کیا کرو میں تم جیسی عورتوں کو اچھی طرح جانتا ہوں میں حیران ہو گئی وہ مجھے عورت کہہ رہا تھا اور اس کے کہنے کا مطلب میں نہ سمجھ سکی وہ کیسی عورت مجھے سمجھ رہا ہے میں ابھی اپنے پر ہوئے ظلم کے بارے میں پوچھنے ہی لگی تھی وہ غصہ میں وہاں سے چلا گیا میرے ہاتھ پر جلن ہونے لگی میں اس سے کچھ پوچھنے لگتی میری ہمت جواب دے جاتی شادی کو کئی سال گزرنے کے بعد بھی میں نے اس شخص کے لبوں پر مسکراہٹ نہ دیکھی مجھے حیرت ہوتی یہ شخص ایسا کیوں ہے

اس کو لڑکیوں سے اتنی نفرت کیوں ہے پر میں کبھی پوچھ ہی نہ سکی جب بھی آتنا مار پٹائی کر کے نہ جانے کہاں چلا جاتا اور میں اپنی قسمت کو بیٹھ کے روتی رہتی۔ میں رات کے وقت گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک آکر مجھ پر چلانے لگا۔ یہاں کیوں بیٹھی ہو رات کے وقت اس وقت کس کا انتظار کر رہی ہو میں تم جیسی عورتوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور تم آج گلی میں کیوں گئی تھی تم جیسی عورتیں۔ بڑی تیز ہوتی ہیں لڑکوں کو اپنی ادائیں دیکھا کر پھنسا لیتی ہیں مجھے اس کی باتیں سن کر غصہ آنے لگا اس شخص نے عورتوں کے بارے میں اتنی غلط فہمیاں کیوں پال رکھی تھیں ہر وقت عورت کی برائی ہر وقت مجھے برا بھلا کہتا اور میں اس سے دیکھتی رہ جاتی گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹکا ہوا ہوتا۔

 وہ مجھے بازو سے پکڑ کے اندر لے آیا اور مجھے بیڈ پر پھینکا اور بری طرح مارنے لگا میرے تو آنسو بھی خشک ہو گئے رو رو کر۔ وہ وہیں آرام سکون سے سو گیا اور میں اپنے زخموں پر مرہم لگانے لگی  اس شخص کو بہت سکون ملتا مجھے مار کر اور میں یہ ہی سوچتی کیوں اتنی نفرت کرتا ہے یہ شخص۔ پوری رات یوں ہی جاگتے جاگتے گزر گئی نیند تو کوسوں دور تھی۔ صبح ہی صبح طعبیت خراب ہو گئی مجھے لگا رات جاگنے کی وجہ سے خراب ہے میں معمول کے مطابق کام لگی رہی رات کے وقت میرا شوہر گھر آیا اور میں نے اس کے آگے کھانا رکھ دیا وہ غصہ میں بولا یہ جب بھی میں گھر آتا ہوں سامنے کھانا رکھ دیتی ہو اور کوئی کام نہیں ہے میں کوئی گھر میں کھانے آتا ہوں وہ غصہ میں بولا میں نے پہلے دفعہ ان کے سوال میں جواب دیا کھانے کے علاوہ مارنے بھی آتے ہیں 

 پر میرے خیال میں بھی نہیں تھا اس شخص کو میری بات پر اتنا غصہ آئے گا اس نے کھانے والی ٹرے صحن کے درمیان میں پھینک دی میں ہکا بکا اس سے دیکھنے لگی وہ شخص اب میرا حال بگاڑنے والا ہے وہ غصہ میں میری طرف قدم بڑھانے لگا میرا سر چکرایا اور میں زمین بوس ہو گئی اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی میں کمرے میں موجود تھی ڈاکٹر میرے شوہر کو کوئی ہدایت رھ رہیں تھیں ان کا بہت زیادہ خیال رکھنا اس حالت میں ان کے لیے کوئی بھی ٹینشن ٹھیک نہیں ہے میں سوالیہ نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی پر ڈاکٹر نے جو اگلی بات کی مجھے ساری صورتحال سمجھ آگئی ڈاکٹر کہہ رہی تھیں اگر کوئی ٹینشن دی تو ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچے کی جان کو بھی خطرہ ہو گا ڈاکٹر کی بات سن کے میرے لبوں پر مسکراہٹ آگئی 

 اور میں اپنے شوہر کو دیکھنے لگی میں نے پہلی دفعہ اس کے چہرے پر غصہ نہ دیکھا مگر غصہ نہیں تھا تو مسکراہٹ بھی نہیں تھی بس وہ خاموشی سے ڈاکٹر کی باتیں سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر چلی گئی تو وہ بھی باہر چلا گیا اور مجھ سے کوئی بات نہ کی میری مسکراہٹ ایک دم سمٹ گئی اور میں بلاوجہ اپنے ہاتھ دیکھنے لگی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں شائد کوئی خوشی کی کئیر ہی نہیں تھی میں نے اپنے گرنے والے آنسو صاف کیے اور سوچنے لگی چا کے گھر میں اور اس گھر میں کتنا فرق تھا کچھ زیادہ فرق نہیں تھا مجھے یہ جاننا تھا چچانے میری اس سے شادی کیوں کی جو شخص عورت ذات سے اتنی نفرت کرتا ہے اور اتنی نفرت کیوں کرتا ہے میں پوچھتی بھی کس سے میں تو کسی کو جانتی تک نہیں تھی کون مجھے بتاتا

 اس شخص کے  بارے میں یہ تو تنہا ہے نہ اس کی کوئی ماں نہ باپ نہ بہن نہ بھائی صرف ایک یہ ظاطم شخص پر میں خوش تھی کوئی تو تھا میرا چاہے جیسا بھی ہو میں اپنی سوچوں میں گم نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں چلی گئی صبح جب آنکھ کھلی تو میرا شوہر گھر پر موجود نہیں تھا میں اٹھی اور فریش ہوئی ابھی میں نے ناشتہ کرنا ہی تھا کے ہمسائی آگئی مجھے حیرانگی ہوئی پہلی دفعہ کوئی عورت میرے گھر آئی تھی اس نے مجھے بتایا میں ساتھ والے گھر رہتی ہوں پھر عجیب سے بات کہہ گئی بہن اپنے شوہر کو اپنے قابو میں رکھو میں حیرانگی سے اس جاتا ہوا دیکھنے لگی میرے شوہر نے کیا کر دیا ہے جو میں اس سے قابو میں رکھوں۔ زندگی گزرنے لگی میرے شوہر نے مجھ پے ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا تھا 

وہ خود بھی گم صم سا رہتا پر یہ میری حیرانگی  زیادہ دن نہ کی اور اگلے دن ہی مجھے تھپڑ پڑ گیا پر میں کر بھی کیا سکتی تھی بلاوجہ اس شخص کا غصہ اور بلاوجہ مجھے ذلیل کرنا شائد اس شخص کا مشغلہ تھا اس شخص کے ساتھ اتنے سال بتانے کے بعد بھی اس سے سمجھ نہ سکی وہ کیا میں رات کے وقت گارڈن میں ٹہل رہی تھی ابھی تک پھیرے سرتاج جی گھر نہیں پہنچے تھے مجھے نیند آنے لگی میں کمرے میں چلی گئی پر میں ان کے آنے سے پہلے تک سو بھی نہیں سکتی تھی ویسے ہی بیٹھ کر اپنی گزری زندگی کے بارے میں سوچنے لگی مجھے تو یاد بھی نہ آیا کب میں کھل کر مسکرائی تھی چانک سے دروازہ کھلا مجھے لگا میرے شوہر آگئے ہیں میں بمشکل بیڈ سے اٹھی مگر سامنے کسی انجان شخص کو دیکھ کر پھیرے رونگٹے کھڑے ہو گئے

 اور میں نے ڈر کر کمرے کی  ساری لائٹس آن کر دیں وہ پہلے تو مجھے غصہ میں دیکھتا رہا اس کی آنکھیں لال سرخ تھیں اچانک اس کا غصہ غائب ہونے لگا وہ پیچھے قدم کرتا کمرے سے باہر نکلا میں بھی اس کے پیچھے گئی وہ وہاں بنار کے ہی چلا گیا اسی دوران میرا شوہر میری طرف آیا اس سے پہلے میں کچھ پوچھتی وہ مجھ سے پوچھنے لگا یہ کون تھا اس کے چلا کر پوچھنے پر مجھے اپنی جان جاتی ہوئی محسوس۔ ہوئی۔ میں نے نفی میں سر ہلا کر کہا ہم میں نہیں جانتی مگر اس شخص نے اتنے زور سے تھپڑ رسید کیا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ چلا چلا کر مجھے برا بھلا کہنے لگا شائد وہ ہوش میں نہیں تھا مجھے بری طرح مارنے لگا اس نے مجھے بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور خود ہی بولتا گیا تم جیسی لڑکیوں کے نہ جانے کتنے یار ہوتے ہیں 

اور نہ جانے کس کس سے  چکر چلایا ہو گا تم نے اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا اور غصہ میں کہا اس گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے تمہارے لیئے بند ہو گئے ہیں جہاں مرضی جاؤ بلکہ کہاں جاؤ گی اپنے اسی یار کے پاس جاؤ گی اس نے یہ کہہ کر میرے منہ پے دروازہ بند کر دیا اور میں بے بسی سے روتی رہی دروازہ کھٹکھٹاتی رہی پر دروازہ نہ کھلا اور نہ ہی میرے لیئے کھلنا تھا میں سڑکوں پے در بدر پھرنے لگی کہاں جاسکتی تھی چچا کے گھر بھی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ اس گھر میں جانے سے اچھا میں مر جاتی پر میں اپنے ساتھ ساتھ ایک ننھی سے جان کو نہیں مارنا چاہتی تھی پھر ایک رات وہ ننھی سی جان اس دنیا میں آگئی میں اس کا اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے سارا دن لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگتی لوگوں کی ٹھوکریں کھاتی  

میرا بیٹا سارا دن روتا اور میں اس سے دیکھ کر نہ جانے کس کرب سے گزرتی میں روز جی جی کر مرتی مجھے اپنی سانسیں بوجھ لگنے لگتیں میں اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے سڑکوں پر پھرتی اور اس شخص کو بدعائیں دیتی نہ جانے وہ کون تھا اور کیوں مجھے اسطرح برباد کر گیا تھا مجھے اپنا شوہر یاد آتا جیسا بھی تھا میں اس کے ساتھ محفوظ تھی ایک چھت کے نیچے رہتی تھی۔ بہت زور کی بارش ہونے لگی سارے لوگ وہاں سے کہیں نہ کہیں جانے لگے میرا بیٹا سردی سے بری طرح کانپنے لگا میں اس سے سینے سے لگائے بارش سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی میرے بیٹے کو بخار ہونے لگا میں اس سے چوم رہی تھی  

اچانک کوئی میرے سامنے آکر بیٹھ گیا میں نے لگا ہیں اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا میرے تن بدن میں آگ لگ گئی وہ مجھے بڑے آرام سے کہنے لگا اٹھو میرے ساتھ چلو اس نے میرے ہاتھ سے میرے بیٹے کو پکڑ لیا میں نے غصہ میں کہا تم کون ہو اور میں کیوں چلوں تمہارے ساتھ میں نے اس سے اپنا بیٹا چھین لیا بعد میں مجھ سے جھگڑ لینا تمہارے بیٹے کو بخار ہے اگر اس کی زندگی چاہتی ہو تو اٹھو یہاں سے چلو میرے ساتھ میں نے اپنے روتے بلکتے بیٹے کو دیکھا اور اس کے ساتھ چل پڑی وہ مجھے اپنے گھر لے آیا وہ گھر کم اور محل زیادہ لگ رہا تھا میں نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا اور غصہ میں اس سے کہا کیوں مجھے برباد کیا کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا تم نے مجھے برباد کیا ہے خوشیاں تو میرے پاس پہلے بھی نہیں تھیں پر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا کیوں

میں نے اس کا گریبان  پکڑا اور پوچھنے لگی مگر وہ آرام سے وہاں سے چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد آکر مجھے کپڑے دیئے اور کہا اپنے بیٹے کے بھی بدل دو اور اپنے بھی بدل لو وہ یہ کہہ کر رکا نہیں اور وہاں سے چلا گیا میں نے کپڑے چینج کیئے اور اپنے بیٹے کو سلانے لگی تھوڑی دیر بعد پھر وہ آیا اور بولا میرا نام کاشان ہے میں نے غصہ میں کہا میں آپ کے نام کا کیا کروں آپ میر ساتھ آئیں اور میرے شوہر کو بتائیں ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے میں اس کا ہاتھ پکڑے باہر کی طرف جانے لگی مگر وہ وہیں کھڑا رہا اور بولا تمہارا شوہر اس دنیا میں نہیں ہے وہ خود کشی کر چکا ہے وہ اتنے آرام سے بتانے لگا تم جھوٹ بول رہے ہو میں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا وہ کچھ نہ بولا تم بھی شادی کر لو

 پھر اس نے کہا۔ اس کی بات سن کرمجھے غصہ آگیا تم کون ہوتے ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں تم نے میری زندگی برباد کی ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی میں نے نہ جانے اس سے کھڑے کھڑے کتنی باتیں سنا دیں پر مجھے حیرانگی ہوئی وہ شخص اپنے آنسو چھپاتا ہوا وہاں سے چلا گیا دن گزرنے لگے وہ شخص میرے بیٹے سے بہت محبت کرتا اس سے کھلاتا اس کے لیے کھلونے لاتا اور میں اپنے بیٹے کو اس سے دور رکھتی وہ مجھے ایک ہی بات کہتا شادی کر لو پر میں اس کی بات کا جواب نہ دیتی میں اکثر اس سے تنہائی میں روتا ہوا بھی دیکھتی وہ بہت کم مسکراتا۔ تم اگر کسی اور سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہو گی

میں ایسے تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اور اگر تم کہیں اور جانا چاہتی ہو تو جا سکتی ہو اس بات سننے کے بعد میرے ذہن میں چا کا گھر آیا پر میں ادھر جا نہیں سکتی تھی میں نے اس کے ساتھ شادی کے لیے ہامی بھر لی اور اس کا اور میرا نکاح ہو گیا میں اکثر غصہ میں اس سے پوچھتی تم رات میرے کمرے میں کیوں آئے پر مجھے جواب میں اس کی نگاہوں میں شرمندگی نظر آتی وہ کوئی جواب نہ دیتا ایک دن میں اچانک سیڑھیوں سے کر گئی اس کے بعد وہ میرا بہت خیال رکھتا پوری پوری رات میرے پاس بیٹھا رہتا میرے بیٹے کو کھلاتا میں نے اس سے بے بسی سے کہا پلیز خدا کے لیئے مجھے سچ بتا دو وہ نگاہیں جھکا کر بولا تمہارے شوہر کو لڑکیوں سے نفرت تھی. کیونکہ اس سے کسی لڑکی نے دھوکا دیا اور پھر تمہارے شوہر نے تمہیں تمہارے چچا سے خریدا وہ اپنا سارا غصہ تم پر نکالتا تھا ایک دن ایسے ہی میرا اس سے چھوٹی سی بات پر جھگڑا ہوا کام کی وجہ سے کیونکہ وہ میرے پاس ہی کام کرتا تھا مجھے نہیں معلوم تھا اس نے اس چھوٹے سے جھگڑے کو اتنا بڑا کر دیتا ہے  

 اس نے میری بیوی کو مار دیا جو ماں بننے والی تھی مجھے بہت دکھ ہوا اور میں انتقام کی آگ میں جلنے لگا میں نے فیصلہ کر لیا تھا میں بھی اس کی بیوی کو ذلیل کر کے مار دوں گا اس رات میں تم نہیں مارنے کے ارادے سے آیا تھا پر تمہاری حالت دیکھ کر مجھے اپنی بیوی یاد آگئی اور میں وہاں سے چلا گیا پر میں نہیں جانتا تھا سہ اتنا شک کرے گا اس کے بعد مجھے کہیں سکون نہ ملتا میں غریبوں کی مدد کرتا پھر اکثر میں تمہیں دیکھتا اور سوچتا کہیں دیکھا تھا پھر مجھے یاد آگیا اور معلوم کرنے پر یہ ہی پتہ چلا تمہارا یہ حال میری وجہ سے ہوا ہے پر میں نہیں جانتا میں کس منہ سے تم سے معافی مانگوں میں بہت شرمندہ ہوں وہ بتاتے بتاتے رونے لگا میں نے اس کے جڑے ہوئے ہاتھ پکڑ لیئے اور اس سے معاف کر دیا اس کے بعد میری زندگی میں خوشیاں آگئیں اور میں اپنے رب کا شکر ادا کرتی اتنے غموں کے بعد مجھے خوشیاں ملیں ہم خوشی خوشی رہنے لگے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *