full romantic urdu novels

میرا نام نجمہ ہے میری عمر انیس سال ہے میں اپنی امی اور ایک بہن کے ساتھ گاؤں رہتی تھی ہماری گاؤں میں بہت سی زمینیں تھی جسے میرے ماموں سنبھالتے تھے کیونکہ میرے ابو دوسرے شہر نوکری کرتے تھے میں گاؤں کے ایک سستے سے سکول میں پڑھتی تھی اور اپنی بہن کو بھی پڑھاتی تھی میری امی نے میرے ماموں کے بیٹے ساتھ میرا رشتہ طہ کر دیا تھا اس وقت میری عمر گیارہ سال تھی میرا کزن مجھ سے کافی بڑا تھا ہم گاؤں میں کافی مزے کرتے تھے میری جسامت کافی نارمل تھی حالانکہ میں دودھ دہی وغیرہ کھاتی پر پھر بھی اپنے حسن میں اپنی ماں سے کم ہی تھی میری امی کافی خوبصورت تھی

اس کا بدن کافی ہشاش بشاش تھا جو اپنا بہت خیال رکھتی تھی جب بھی میں ان سے پوچھتی تھی کہ وہ ایسا کیا کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اتنی خوبصورت ہیں اور ان کا حسن اتنا پر کشش ہے تو وہ کہتی کہ یہ ایک ایسار از ہے جو مجھے بھی شادی کے بعد معلوم ہو جائے گا میں ان سے یہی کہتی کہ ابو تو دوسرے شہر ہوتے ہیں پھر اس میں شادی کہاں بیچ میں آگئی لیکن میری امی مجھے ٹال دیتی تھی اور کہتی تھی کہ حسن تو قدرت کی دین ہوتی ہے جسے چاہے زیادہ دے دیتا ہے اور جسے چاہے کم میں چپ ہو جاتی تھی میں نے اپنی دوست سے اس بات کا ذکر کیا تھا وہ کہنے لگی کہ شادی کے بعد تمہارا شوہر تمہیں دیکھے گا اور محسوس کرے گا

تو تمہارا حسن خود بہ خود بڑھ جائے گا میں حیران ہوتی تھی کہ میں شادی سے پہلے ہی پر کشش ہو نا چاہتی ہوں اس پر وہ مجھ سے کہنے لگی کہ اپنے منگیتر کے ساتھ یہ کام کر لو شادی سے پہلے ہی تم بھر جاؤ گی میں نے اس کی بات پر سوچنا شروع کر دیا میں اپنے منگیتر سے بہت دوستانہ رویہ تھا میں نے اس سے پو چھا کہ کیا میں اسے اچھی لگتی ہوں یا مجھے خود کو پینج کرنا چاہیے تو میرا منگیتر میری بات نہ سمجھا جب میں نے اسے آسان لفظوں میں سمجھایا کہ اگر میرا حسن بڑھانا چاہتے ہو تو مجھے بتاؤ وہ حیران ہوا کہ اور کہنے لگا کہ کیا تمہارا حسن بھی ہیروئن کی طرح ہو سکتا ہے تو میں نے اسے بتایا کہ مجھے کسی نے کہا ہے کہ اگر ہونے والا شوہر آپ کا حسن محسوس کرے تو آپ کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے

 جس پر وہ حیران ہوا کہ نجمہ ہم شادی سے پہلے سے سب نہیں کر سکتے ہیں میرے اندر ایک آگ لگ گئی تھی میں نے اس کو سمجھایا کہ آگے جا کے اس کی مجھ سے ہی شادی ہونی ہے تو ہم یہ کام احتیاط سے کریں گی پر وہ نامانا مجھے اس پر شک ہوا کہ وہ کہی اور دلچسپی لیتا ہو گا جسبی مجھے سے نہیں کرنا چاہتا ہے میں نے پھر اس سلسلے میں اس سے بات نہ کی میری دوست کچھ دن بعد مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا کچھ ہوا میں نے اسے مایوسی سے کہا کہ وہ نہیں مان رہا ہے میری دوست مجھے کہنے لگی کہ کیا پتا وہ کمزور ہو اور شرماتا ہو میں نے اس کی بات سنی اور انکار کیا

کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ بہت مضبوط مرد ہے اس کی داڑھی بہت لمبی تھی جو اس کے طاقتور ہونے کا ثبوت تھی پر وہ میری بات نہ مانی اور کہنے لگی کہ کوئی بھی مرد اپنی منگیتر کو انکار نہیں کر سکتا ضرور کوئی اور چکر ہے شاید اسے بھی تم اتنی پر کشش نہیں لگتی میں اس کی بات سے راضی تھی کیونکہ اگر میر احسن بھی لاجواب ہوتا تو وہ مجھے کبھی بھی انکار نہ کرتا میری سہیلی نے مجھے ایک مشور ودیا تھا کہ تم کسی اور لڑکے کو پھالو اور اس کے ساتھ رہ کر تم پر کشش ہو سکتی ہو میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا میں اب جب بھی کسی تر و جزو لڑکی کو دیکھتی تو میرے اندر احساس کمتری ہو جاتی تھی

کہ کاش میرے پاس بھی ایسا مال ہوتا دن ایسے ہی گزرتے جا رہے تھے ایک دفع میں اپنے ابو کے کہنے پر اپنی زمین میں گئی تو مجھے میرے ماموں نظر آئے جو دور کھیتوں میں چھپ کر کچھ کرنے میں مصروف تھے پہلے تو مجھے کافی غصہ آیا تھا کہ میرے ابو کی زمین پر ایسے کام ہو رہے ہیں لیکن پھر میں نے اپنے ماموں کو دیکھنے کا سوچا کہ اگر ان کا دیکھ لوں گی تو اپنے منگیتر کا بھی اندازہ ہو جائے گا کیوں کہ بیٹا اپنے باپ پر ہی جاتا ہے میں یہی سوچ کر چھپ کر ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دیکھ ک حیران ہونے لگی تھی یہ حرکت میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کی تھی میر اول کیا تھا کہ کاش ان کی جگہ میرا منگیتر ہوتا

تو میں اس سے چپک جاتی اور اپنی ہر خواہش پوری کرتی پر میری قسمت اتنی اچھی نہ تھی میں واپس گھر آگئی میرے ماموں اچانک سے میرے گھر زیادہ آنے لگے تھے میں نے نوٹ کیا پر اسے ایک معمولی بات سمجھا کچھ دنوں کے بعد مجھے امی نے بتایا کہ ماموں اب ہمارے ساتھ ہی رہے گے کیونکہ میرا منگیتر بھی دوسری شہر چلا گیا ہے اس لیے وہ اکیلے نہیں رہ سکتے ہم نے ماموں کو اوپر ایک خالی روم دے دیا تھا میری امی بھی کافی خوش تھی کہ اب رونق لگی رہے گی پر میری میرے ماموں سے اتنی نہیں بنتی تھی جب کہ میری بہن بھی خوش تھی

میں اپنے ماموں کو جی بھر کر دیکھتی تھی وہ بہت جوان تھے ان کا بس ایک ہی بیٹا تھا اب کی بیوی کا انتقال تب ہی ہو گیا تھا۔ جب میں پانچ سال کی تھی میری امی اور میری ممانی کی کبھی بھی نہیں بنی تھی میری امی اکلوتی بہن تھی جس کی وجہ سے وہ میرے ماموں کا ہر چیز میں ساتھ دیتی تھی مجھے کافی حیرانی ہوتی کہ بھائی بہن میں اتنالگاؤ نہیں ہونا چاہیے تھا پر میری سوچ اس سے آگے نہیں جاتی تھی ایک دفع میں رات کو کچن میں تھی جب مجھے میری امی میرے ماموں کے روم سے نکلتی نظر آئی جو کہ کافی لال لگ رہی تھی اور آہستہ آہستہ چل رہی تھی میں حیران ہوئی کہ امی آپ کو کیا ہوا ہے آپ کی حالت اتنی خراب کیوں ہے تو امی کہنے لگی کہ ان کا بلڈ پر یشر زیادہ ہو گیا ہے۔

میں نے انہیں سہارا دیا ور ان کے روم میں لے گئی ان کے کپڑے درست نہیں تھے میں نے ان کی قمیض سیٹ کی تو کہنے لگی کہ وہ واشروم گئی تھی میں حیران تھی کہ ماموں کے واشروم کیوں جاتا تھا جب وہ کہنے لگی کہ ان کے واشروم کا شاور خراب تھا میں نے انہیں ریسٹ کرنے کا کہا اور خود اپنے روم میں آگئی میں اب گہری سوچ میں پڑ گئی تھی کہ میری امی کو کیا ہوتا جارہا ہے دن ایسے ہی تیزی سے گزرتے رہے میں نے اپنے ماموں سے بات چیت کرنا شروع کی اور انہیں مشورہ  دیا کہ میری اور ان کے بیٹے کی شادی کے ساتھ ساتھ وہ بھی اپنی دوسری بیوی لے آئیں تاکہ ان کا دل بھی لگا رہے

کیونکہ اکیلے انسان کی کوئی زندگی نہیں ہوتی میرے ماموں مسکرانے لگے اور کہنے لگے کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ میری امی ان کو کمپنی دینے کے لیے ہیں میں بھی ان کی بات کو مزاق میں کے گئی ایک دن میں اپنی امی کے روم میں گئی تو وہ روم میں موجود نہیں تھی میں انہیں تلاش کرتے ہوئے اوپر چلی گئی جدھر ماموں کا روم تھا اچانک ہی روم کے اندر سے آواز آنے لگی وہ عجیب سی آواز میری ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی میں نے کان دروازے کے ساتھ لگائے تو میری امی ماموں کو زور سے کرنے کا کہہ رہی تھی مطلب کہ وہ کام کروارہی تھی مجھے کافی دکھ ہوا تھا کیونکہ میری امی میرے ابو کے ہوتے ہوئے بھی یہ کام ماموں سے کروارہی تھی اب مجھے ساری سمجھ آگئی تھی کہ ان کا گھر اہوار آپ کسی وجہ سے ہوتا تھا میر اب روز کا معمول بن چکا تھا

جب بھی رات ہوتی میں ایسے ہی ماموں کے روم میں چلی جاتی تھی اور ان کی آوازیں سنتی رہتی تھی مجھے اب رات کو نیند نہیں آتی تھی اپنی امی سے بھی میں ناراض رہنے لگی تھی پر مجھے میں اتنی ہمت نہ ہوتی کہ ان کا سامنا کروں میں نے سوچ لیا تھا کہ اب سیدھا اپنے ماموں سے بات کرو گی لیکن اچانک ہی مجھے خیال آیا کہ اگر میری امی اسی طرح پر کشش ہیں تو کیوں نا میں بھی یہی کام کروں اور پرکشش ہو جاؤ میں اپنے ماموں کو سوچنے لگی تھی کھیتوں میں ان کی وہ حالت میرے ذہن میں آنے لگی تھی میر اول زور سے دھڑکنیں لگا تھا کہ میری امی کو وہ نصیب ہوا ہے اب مجھے بھی وہ نصیب ہو جائے

 میری امی کسی کام سے باہر گئی تو میں اپنے ماموں کے روم میں گئی لیکن وہ اپنے روم میں موجود نہیں تھے میں جان گئی تھی کہ وہ باہر گئے ہیں ان کے آنے کا انتظار کرنے لگی جیسے ہی ان کے آنے کا ٹائم ہوا تو میں نے پانی والا پائپ آن کر دیا اور پانی میرے پورے وجود کو بھیگ چکا تھا میں نے اپنے کپڑوں کو گیلا کر دیا تھا جس سے وہ میرے ساتھ چپک گئے تھے اور میں واضع ہونے لگی تھی میرے ماموں نے مجھے دیکھا میں نے دوپٹہ بھی نہیں لیا تھا میں نے ایسا شو کیا کہ مجھ سے شاور بند نہیں ہو رہا تب ماموں بھی میری مدد کرنے کے لیے میرے قریب آگئے میں نے خود کو ماموں کے مزید قریب کر دیا تھاتا کہ انہیں میں محسوس ہونے لگوں ماموں کو اس چیز سے کافی مزا آرہا تھا۔ 

مجھے بھی ماموں محسوس ہونے لگے تھے وہ بھی اب جان کر موقع کا فائدہ اٹھا کر خود کو سکون دینے لگے میں حیران ہوئی تھی کہ کام تو خود ہی پورا ہو رہا ہے پر میرے ماموں بھاک کر اپنے روم میں چلے گئے تھی تین چار دن ایسے ہی گزر گئے تھے امی دوبارہ سے باہر کام پر چلی گئی تھی جب میں ماموں کے روم میں گئی تو وہ سو رہے تھے میں نے اپنے ماموں کو سوتے ہوئے محسوس کیا اور ان پر جھک گئی تھی ان کا ہاتھ اب اپنے حسن سے لگا رہی تھی 

اچانک ہی ان کی آنکھ کھل گئی اور مجھ سے کہنے لگے کہ یہ کیا حرکت ہے میں نے ماموں سے کہا کہ میں نے چیک کروانا تھا کہ کہی مجھے بخار تو نہیں ہو گیا اس لیے آپ کا ہاتھ خود کو لگارہی تھی میرے ماموں میرے جھوٹ کو پکڑ چکے تھے جب مجھے کہنے لگے کہ سچ سچ بتاؤ کہ کیا چاہتی ہوں میں نے اپنے ماموں سے کہا کہ میں ان کو امی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھ چکی تھی اور میں اب یہی چاہتی ہوں کہ آپ بھی وہی کام میرے ساتھ کرے تو میرے ماموں مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے تھے اور کہنے لگے کہ تمہارے اندر وہ بات نہیں ہے

 جو تمہاری امی کے اندر ہے میں نے ان سے کہا کہ اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ کے چھونے سے میں بھی کل کو امی کی طرح پر کشش دکھنے لگوں تو وہ حیران ہوئے اور کہنے لگی کہ آج انہیں کام ہے اس لیے نہیں کر سکتے میں نے ان سے کہا کہا اگر انہوں نے نا کیا تو میں ابو کو سب کچھ جا کر بتا دونگی اس طرح ان کی آمدنی بھی ختم ہو جائے گی اور اس کی بہن بھی طلاق یافتہ ہو جائے گی وہ ڈر گئے تھے اور کچھ دیر سوچنے کے بعد میری بات مان گئے میں بھی بہت خوش ہو گئی تھی میں نے اپنے ماموں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے ایسا کام چاہیے کہ میری ساری بے سکونی مٹ جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *