مالکن نے 50 ہزار دے کر میرا نکاح بوڑھے مالی سے کروا دیا۔ میرے لیے پچاس ہزار بھی بہت بڑی رقم تھی۔ لیکن مالکن کے احسان دن بہ دن بڑھنے لگے تو مجھے تشویش ہونے لگی۔ کیونکہ اب مالکن ہر رات مجھے اپنے ساتھ سلانے لگی تھی ایک رات میری آنکھ کھلی تو ہوش اڑ گئے مالکن بیڈ پر۔ میں دلہن بنی بیٹھی تھی، کچھ دیر بعد میرا نکاح اس شاندار گھر کے بوڑھے مالی سے کیا جانا تھا۔ میں نے اپنی مٹھی میں دبے پچاس ہزار کو للچائی نظروں سے دیکھا اور اپنے دل میں اٹھتی حسرتوں کو دبا لیا۔ میں جوان اور حسین لڑکی تھی، میری شادی میرے جیسے عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی جوان لڑکے سے ہو سکتی تھی مگر میں نے مالکن کے ایک بار کہنے پر ہی صرف پچاس ہزار کی خاطر اس کو ٹھی پر کام کرنے والے بوڑھے مالی سے نکاح کرنے کی حامی بھر لی تھی۔

میں اندر سے پریشان تھی کیونکہ میرے گھر والے میرے اس فیصلے سے بالکل انجان تھے پھر بھی لالچ نے مجھے بالکل اندھا کر دیا تھا۔ کچھ دیر بعد ہی میرا نکاح مالکن کی ہدایت پر بوڑھے مالی سے ہو گیا۔ مجھے تب حیرت ہوئی جب بوڑھا مالی نکاح کے فوراً بعد پودوں کو پانی دینے جا چکا تھا، اس نے مجھے دیکھنے یا ملنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ مجھے لگا کہ شاید اسے بھی میری طرح پیسہ دے کر نکاح کے لیے منایا گیا ہو گا۔ میں نے نکاح کے فوراً بعد مالکن کی اجازت پا کر وہ پچاس ہزار گاؤں میں رہنے والے اپنے گھر والوں کو بھیج دیئے اور پر سکون ہو گئی۔ مجھے تو لگا تھا کہ نکاح کے بعد بھی میری زندگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا مگر چند دنوں میں ہی میں مالکن کے رویہ سے حیران رہ گئی تھی۔ نکاح کے بعد سے ہی مالکن مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھنے لگیں، میں کام کے لیے بھی یہاں وہاں ہونے لگتی تو مالکن مجھے بلا کر اپنے پاس بٹھا لیتی۔

میں اندر ہی اندر دل میں اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی تھی حالانکہ میرا بوڑھا شوہر اب بھی ویسے ہی کام کرتا رہتا تھا۔ مالکن کی توجہ اور نرمی بھرے روئیے نے مجھے خوش کر دیا تھا۔ میں جب بھی کام کرنے لگتی مالکن مجھ سے کہتی کہ ابھی تم نئی دلہن ہو تم زیادہ کام مت کرو۔ میں خوش ہو جاتی اور مالکن کے پاس بیٹھ جاتی۔ مالکن کی نرمی اور مہربانی مجھ پر بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ مجھے حیرت تھی کہ جو نکاح میں نے پیسہ لے کر خود اپنی مرضی سے کیا تھا اس نکاح پر مجھے مالکن اتنی عزت کیوں دے رہی تھی جبکہ میرے بوڑھے شوہر کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ میں اس تجسس میں مبتلا ہو کر اپنے بوڑھے شوہر کے معمولات پر غور کرنے لگی تھی مگر میرا شوہر تو نکاح کے بعد جیسے مجھے بھول ہی چکا تھا۔ اگر مالکن مجھے اپنی توجہ سے احساس نا ولاتی تو شاید میں بھی اپنے نکاح کو چند دنوں میں بھلا دیتی۔

 میرے دل میں مالکن کی قدر بڑھ گئی تھی۔ مجھے لگنے لگا کہ مالکن بہت نرم دل کی مالک ہے مگر ایک روز مالکن کی بات نے مجھے حیرت سے گنگ کر دیا۔ مالکن نے مجھ سے کہا کہ میں آئندہ رات کو ان کے پاس سویا کروں۔ میں یہ سن کر حیران ہو گئی تھی کہ اگر میں مالکن کے ساتھ سوؤں گی تو مالک کہاں جائیں گے اور مالکن بھلا مجھے اپنے پاس کیوں جگہ دے رہی تھی۔ میں نے جب جھجک کر یہ بات مالکن سے کی تو وہ بولیں کہ تمہارے مالک ابھی کسی ضروری کام کی وجہ سے دوسرے شہر گئے ہوئے ہیں اور میں تنہائی محسوس کرتی ہوں اس لیے میں چاہتی ہوں کہ تم میرے پاس سویا کرو۔ میں مالکن کی بات سمجھ گئی، میں نے فورا حامی بھر لی اور روزانہ رات کو مالکن کے پاس سونے لگی۔ مالکن مجھے اپنے بستر پر ہی اپنے پاس سلانے لگی ، مجھے اب مالکن کی دی جانے والی اس قدر اہمیت سے تشویش ہونے لگی تھی۔

مالکن کا رویہ مجھے ٹھٹکا رہا تھا۔ مالکن چاہے جتنی اچھی ہو جاتیں مگر میں جب سے ان کے ہاں کام کر رہی تھی میں نے مالکن کو اپنی چیزوں اور خاص طور پر ان کے کمرے میں ہر چیز کو لے کر بہت زیادہ حساس دیکھا تھا۔ مالکن کے کمرے کی صفائی کرنے والی ملازماؤں کو زیادہ وقت ان کے کمرے میں رکنے کی بھی اجازت نہ تھی کجا کہ اب مالکن مجھے اپنے ہی ساتھ ایک بستر پر سونے کی جگہ دے رہی تھی۔ میں کچھ دن سے اسی سوچ میں مبتلا رہنے لگی تھی کہ ایک روز میری رات کو اچانک نیند سے آنکھ کھلی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ مالکن میرے سرہانے بیٹھ کر جو کر رہی تھی وہ مجھے حیرت سے دنگ کر گیا تھا۔ میں ایک بہت چھوٹے گاؤں میں رہتی تھی۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ میرا باپ شہر کی ایک کوٹھی میں ملازم تھا اور ہر ماہ ایک معقول رقم بھیجتا

جس سے ہمارا گھر چل رہا تھا۔ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے۔ وہ اپنی شادی کے پندرہ سال تک بے اولاد رہے اور جب وہ مایوس ہو چکے تب اللہ نے انہیں اولاد سے نواز دیا تھا۔ ہم دو بہنیں اور تین بھائی تھے۔ میرے بھائی ہم دونوں بہنوں سے بہت چھوٹے تھے۔ ہمارا گزر بسر اچھا ہو رہا تھا جب اچانک ہمارے گھر پر ابا کی ناگہانی موت سے قیامت ٹوٹ پڑی۔ ابا ویسے بھی ہمارے ساتھ نہیں رہتے تھے مگر ہمیں ایک سہارا تھا کہ ہمارا باپ ہمارے سر پر موجود ہے۔ مگر ابا کی وفات کے بعد تو ہم بہن بھائی سہمے سہمے سے رہنے لگے۔ اماں سمجھ دار تھی، انہوں نے برے وقتوں کے لیے بہت سی جمع یونجھی کر رکھی تھی۔ کچھ عرصہ تو ہمارا گھر اسی جمع پونجی پر چلتا رہا۔ اماں نے بہت سمجھ داری سے اور ہاتھ کھینچ کھینچ کر گھر کا خرچہ چلایا تھا مگر اب کہیں سے کمائی کا کوئی ذریعہ نہ تھا تبھی کچھ ہی عرصہ میں ہماری جمع پونجی بھی ختم ہو گئی۔ 

 اماں اس عمر میں کمائی نہیں کر سکتی تھیں اور ہم بہن بھائی گاؤں میں کوئی نوکری نہیں کر سکتے تھے۔ اسی پریشانی میں ہمارے دن گزر رہے تھے۔ فی الحال رشتہ داروں کی مدد سے ہمارا کھانا پینا چل رہا تھا، ماں کی طبیعت بھی ابا کے بعد سے خراب رہنے لگی تھی۔ میں اپنے گھر والوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی مگر میں بے بس تھی کیونکہ نا میرے پاس کوئی ہنر تھا نا ہی تعلیم کہ میں گاؤں کے سکول میں نوکری کر سکتی۔ میں بولائی بولائی سی گھومتی رہتی تھی کہ ایک روز نہایت بڑی گاڑی ہمارے گھر کے باہر آ کر رکی۔ اس گاڑی میں سے ایک سوٹڈ بوٹڈ امیر بندہ نکلا۔ ہم گھر والے اسے دیکھ کر چونک گئے تھے۔ وہ شخص اماں سے بولا کہ وہ اس کوٹھی کا مالک ہے جہاں ابا کام کرتے تھے۔ اماں نے پوری عزت سے ان صاحب کو اپنے بوسیدہ پرانے گھر میں بٹھایا۔ وہ آدمی نہایت رنجید گی سے ابا کی موت کی تعزیت کرنے لگا۔

ہم بہن بھائی مرعوبیت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اماں کو ہزار ہزار کے چند نوٹ بھی پکڑائے اور کہا کہ ابا ان کے بہت خاص ملازم تھے اس لیے انہیں ابا کی موت کا بہت افسوس ہے۔ اماں افسردہ سی بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ میں نے محسوس کیا کہ وہ آدمی کچھ ہی دیر بعد بے چینی سے پہلو بدلنے لگا تھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ پھر خاموشی کا وقفہ طویل ہوا تو وہ مرد کچھ توقف کے بعد اپنے اصل مقصد کی طرف آ گیا ۔ اس نے اچانک اماں سے کہا کہ اس نے ابا کے پاس اپنے کچھ ضروری کاغذات رکھوائے تھے جو ابا کی اچانک موت کی وجہ سے وہ نہیں لے پاۓ۔ اب انہیں ان کاغذات کی تلاش تھی۔ اماں چونک گئی اور تیزی سے سر ہلا کر اپنے کمرے میں ایک کونے پر رکھے بوسیدہ بکسے کے پاس کئیں۔ اس بکسہ پر تالا لگا ہوا تھا۔ اماں نے وہ تالا کھول کر سامان کے بالکل نیچے ایک فائل نکالی اور جا کر ابا کے مالک کو پکڑا دی.

اور بولیں کہ ابا نے جب یہ کاغذ لا کر گھر میں سنبھالے تھے تو تب ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ان کے مالک کی امانت ہے۔ اماں کو یہ بات ان کی موت کی وجہ سے بھول گئی تھی مگر ابا کے مالک سے مل کر یاد آگئی تھی۔ وہ مرد بہت خوش ہوا اور اپنے کاغذ سنبھال کر رکھے جانے پر اماں کا بہت شکریہ ادا کر رہا تھا۔ میں کب سے پر سوچ نظریں اس مرد پر گاڑھے بیٹھی تھی، اچانک میں نے ایسی بات کہہ دی جسے سن کر نا صرف اماں بلکہ وہ مرد بھی چونک گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے اپنے ساتھ شہر لے جائے اور اپنی کو ٹھی میں ابا کی جگہ نوکری پر رکھ لے۔ اماں حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی، میں نے مالک سے درخواست کی کہ ابا کی وفا داری کے بدلے مجھے کام دے دے تاکہ ہمارے گھر کے حالات بہتر ہو سکیں۔ ابا کی موت کے بعد ہمارا کوئی کفیل نہیں رہا تھا۔ ابا کے مالک نے مجھے سر تا پیر غور سے دیکھا اور مسکرا کر سر ہلا دیا۔ 

اماں کو میری بات سے اختلاف تھا۔ مگر ابا کے مالک نے اماں کو سمجھا دیا کہ میں ان کے گھر کے چھوٹے موٹے کام آرام سے کر سکتی ہوں اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ میں نے خوشی خوشی اپنا سامان باندھ لیا اور سب گھر والوں سے مل کر دل میں اچھے حالات کی امید لیے مالک کے ساتھ شہر آگئی۔ مالک نے مجھے مالکن کے حوالے کر کے کہا تھا کہ وہ مجھے سے جو کام چاہیں لے سکتی ہیں کیونکہ مجھے اور میرے گھر والوں کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ شاید یہ مالک کا کوئی اشارہ تھا جو انہوں نے میرے بارے میں مالکن کو دیا تھا۔ مالکن سر ہلا کر مجھے تنقیدی نظروں سے گھورتی رہیں اور بولیں کہ میں فی الحال گھر کی صفائی کا کام کیا کروں پھر وہ میرے لیے مناسب سوچیں گی۔ میں ضرورت مند تھی تبھی پوری اور محنت سے گھر کی صفائی کا کام کرنے لگی۔ 

مجھے وہاں کام کرتے ہوئے کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ ایک روز مالک نے اچانک مجھے بلوایا اور ایسی بات کہی جسے سن کر میں کچھ پل کے لیے ساکت رہ گئی۔ مالکن نے مجھ سے کہا کہ اگر میں ان کے بوڑھے مالی سے نکاح کرنے کو تیار ہو جاؤں تو وہ مجھے پچاس ہزار دیں گی۔ مجھ جیسی غریب لڑکی اتنے زیادہ پیسوں کا سن کر لالچ میں آگئی تھی۔ میں نے مزید نہیں سوچا کہ مالکن کو میرا نکاح بوڑھے مالی سے کر کے کیا فائدہ تھا، میں نے حامی بھر لی اور اماں کو بھی بتانا گوارا نہیں کیا۔ مالکن میری فرماں برداری سے خوش ہو گئی تھی اور مجھے پچاس ہزار دے کر سختی سے تاکید کی کہ نکاح سے پہلے یہ پیسے گھر والوں کو نا بھیجوں۔ میں نے سر ہلا دیا اور جلدی سے نکاح کے لیے تیار ہونے لگی۔ مالکن نے وہیں کوٹھی میں سادگی سے میرا بوڑھے مالی سے نکاح پڑھا دیا اور اپنے انجام سے بے خبر خوشی سے پچاس ہزار اماں کو بھیج کر مطمئن ہو گئی۔

میرا بوڑھا شوہر اپنے کام سے کام رکھتا تھا اس لیے مجھے کوئی مشکل نہیں ہوئی تھی میں اپنی سادگی میں مالکن کو پہلے تو نہیں سمجھ پائی مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا میں مالکن کے دن بہ دن بڑھتے احسانات سے اب تشویش کا شکار ہونے لگی تھی۔ مجھے مالکن کی اتنی توجہ اور خیال اندر ہی اندر کھٹکا رہا تھا کہ ایک روز مالکن نے مجھے اپنے کمرے میں ان کے پاس سونے کا کہہ دیا۔ اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ آخر مالکن نے میرا نکاح بوڑھے مالی سے کیوں کروایا اور وہ مجھ جیسی کم تر ملازمہ کا اتنا خیال کیوں رکھ رہی تھی۔ میں ابھی الجھی ہی رہنے لگی تھی کہ ایک رات میری آنکھ کھل گئی اور جو انکشاف مجھ پر ہوا وہ مجھے اندر تک ہلا کر رکھ گیا تھا۔ مجھے اس روز مالکن کی مہربانیوں کی اصل وجہ پتا چلی تھی۔

میں جو مالکن کی ہمدردی سے مرعوب ہونے لگیں تھی ان کا گھناؤنا چہرہ دیکھ کر میرے اندر نفرت پیدا ہونے لگی۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ مالکن کا وہ گھناؤنا روپ کیسے سب کے سامنے لاؤں۔ اچانک ایک روز مجھے خیال آیا کہ میں اپنے بوڑھے شوہر کو ساری سچائی بتا دوں۔ میں اپنی سوچ پر عمل کر کے اپنے بوڑھے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کرنی چاہی مگر تب مجھے جو خبر ملی وہ میرے لیے اور پریشان کن تھی۔ مجھے پتا چلا کہ میرا بوڑھا شوہر بہت عرصہ سے کینسر کے مرض سے لڑ رہا تھا اور اب بستر مرگ پر ہے۔ میں بق وق رہ گئی تھی۔ میری آخری امید بھی کھو گئی تھی۔ میں چاہتی تو خاموشی سے کو ٹھی چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاتی مگر میں جانتی تھی مالک میرے گھر کا پتا جانتے ہیں وہ یقیناً میری تلاش میں وہاں تک پہنچ جاتے۔

میں بری طرح پھنس چکی تھی۔ ایک روز صبح کو میں اٹھی تو مالکن مزے سے سو رہی تھیں۔ مجھے یکدم ایک خیال آیا اور میں نے ہمت کر کے مالکن کا موبائل اٹھا لیا۔ مالکن کے موبائل میں مجھے کسی وکیل کا نمبر ملا۔ میں نے وہ نمبر محفوظ کر لیا اور موقع پاتے ہی چھپ کر اس وکیل سے رابطہ کیا اور اس سے ملنے کی درخواست کی۔ میری پریشان آواز پر وہ وکیل مدد کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ شہر میں رہ کر اب میں اتنی سمجھ دار ہو گئی تھی کہ اپنی حفاظت خود کر سکتی۔  ایک روز جب مالکن گھر سے خریداری کرنے نکلی تو میں نے وکیل کو گھر بلوا کر اسے سارا ماجرا سنانے لگی اس کو ٹھی کا اصل مالک میرا بوڑھا شوہر تھا مگر مالک اور مالکن نے اس کو ٹھی پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ میرے ابا کبھی میرے شوہر کے وفادار ملازم تھے اور اس کو ٹھی اور جائداد کے کاغذات میرے ابا کو میرے بوڑھے شوہر نے امانت کے طور پر دیئے تھے۔

مگر ابا کی اچانک موت سے مالک کو موقع مل گیا تھا اور انہوں نے ہمارے گھر آکر ہمیں بے وقوف بناتے ہوئے ہم سے وہ کاغذات ہتھیا لیے تھے۔ جب میں نے مالک کو نوکری کا کہا تو وہ چونک گئے۔ انہیں میرے بوڑھے شوہر کی جائداد ہتھیانے کے لیے ویسے بھی ایک غریب کم تر لڑکی کی ضرورت تھی۔ مالک مجھے اپنے ساتھ شہر لے گئے اور ان دونوں میاں بیوی نے میرا نکاح بوڑھے مالی سے کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ میرا بوڑھا شوہر مرنے والا ہے کیونکہ اسے کینسر تھا۔ انہوں نے ضد کر کے اس بوڑھے کا نکاح مجھ سے کروا دیا تاکہ اس بوڑھے کے مرنے کے بعد اس کی جائداد مجھے مل جائے اور وہ دونوں میاں بیوی اس پچاس ہزار کے عوض مجھ سے جائداد کے کاغذات پر انگوٹھے لگوا لیتے۔ میں ان پڑھ لڑکی تھی یقیناً ان کاغذات کی حقیقت کبھی نا سمجھ سکتی۔ مالکن مجھ پر نظر رکھتی اور مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھتی تاکہ میرا بوڑھا شوہر مجھے یہ حقیقت نہ بتا دے کہ کوٹھی کا اصل مالک وہی ہے۔ 

مگر اللہ نے میری مدد کی اورمیں نے سارا منصوبہ سن لیا۔ میں اپنے شوہر کو بتانا چاہتی تھی مگر وہ مرنے والا تھا اور آخری سانسیں لے رہا تھا۔ میں نے مالکن کے موبائل سے ہی ایک وکیل کا نمبر لیا اور اس سے مل کر مدد کی درخواست کی۔ میں نے اسے یقین دلایا تھا کہ اگر وہ میری مدد کرنے میں کامیاب ہوا تو میں اسے اس کی فیس بھی ادا کر دوں گی۔ وہ وکیل ایماندار انسان تھا اس نے مجھ سے کہا کہ وہ میری مدد کر سکتا ہے، کیونکہ میں اپنے شوہر کی جائداد کی اصل وارث تھی اس لیے اگر میں جائداد کے اصل کاغذات حاصل کر کے اس وکیل کو دوں تو وہ میرا کیس لڑ کر مجھے حق دلوا دے گا۔ میں دیہاتی ضرور تھی مگر اللہ نے فہم و فراست سے بھی خوب نوازا تھا۔ اب مجھے وہ کاغذات حاصل کرنا تھے مگر مجھے موقع نہیں مل پا رہا تھا۔ انہی دنوں میرے بوڑھے شوہر کا انتقال ہو گیا۔

میں اس وقت بھی مالکن کے کمرے میں تھی، مالک اور مالکن باہرمصروف تھے، میں نے پورے کمرے کی تلاشی لی تو مجھے مالکن کے سامان میں ہی وہی فائل مل گئی۔ میں نے وہ فائل اٹھا کر چھیا دی اور موقع پا کر وکیل کو بلا کر وہ فائل اسے پکڑا دی۔ اس وکیل نے جلد از جلد میرا کیس دائر کر کے مالک اور مالکن پر فراڈ کا کیس کر دیا۔ پولیس نے مالک اور مالکن کو گرفتار کر لیا۔ مجھے میرے بوڑھے شوہر کی جائداد مل گئی۔ میں نے اپنے گھر والوں کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اب ہمارے حالات پلٹ گئے تھے اور میرے بہن بھائی اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ یہ سب میری اس قربانی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا جو قربانی میں نے اپنے گھر والوں کی خاطر ایک بوڑھے آدمی سے نکاح کر کے دی تھی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *