Urdu Romantic Stories

سخت سردی کا موسم تھا ہمارے محلے میں ایک پیر صاحب آئے ہوئے تھے جو لوگوں کے بقول بہت پہنچے ہوئے تھے ان کی دعا میں بڑا اثر تھا کیا مرد کیا عورتیں سب کی خواہش تھی کہ کسی نا کسی طرح پیر صاحب کے ہاتھ چومنے کا ایک موقع مل جائے پیر صاحب روزانہ رات کو محلے کے کسی ایک گھر میں قیام کرتے اور وہ گھر والے خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے وہاں پر ان کی خوب خدمت سیوا کی جاتی تھی پھر ایک رات ہمارے گھر والوں کو پیر صاحب کی خدمت کا موقع مل گیا میری والدہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی سارا دن کچن میں کھانے بناتی رہیں شام ہوتے ہی وہ ہمارے گھر پہنچ کئے میری والدہ اور والد نے مزیدار کھانوں سے ان کی تواضع کی

پھرپیر صاحب نے ہاتھ اٹھا کر لمبی دعا مانگی اور میری بھولی بھالی ماں خوشی سے نہال ہو گئی رات کو ابو ڈیوٹی پر چلے گئے اور پیر صاحب کا بستر بیٹھک میں لگا دیا گیا جب سونے کا وقت آیا تو پیر صاحب نے میری امی سے کہا کہ سونے سے پہلے مجھے ٹانگیں دبوانے کی عادت ہے ورنہ مجھے نیند نہیں آتی، امی نے جھٹ سے مجھے حکم جاری کر دیا کہ ارم بیٹی باباجی کی ٹانگیں دبادو اور خود کمرے سے باہر نکل گئیں اب میرا کوئی بھائی تو تھا نہیں اس لیے یہ انتہائی اہم فرئضہ مجھے سونپ دیا گیا تھا میری امی تو پیر صاحب کی اتنی قدر دان تھیں کہ ان کا بس چلتا تو خود یہ کام کرنے لگ جاتیں مجھے ایک تو پہلے ہی پیر صاحب اچھے نہیں لگتے تھے اوپر سے ان کی ٹانگیں دبانے والا کام میرے گلے پڑ گیا چارو ناچار میں ان کی چار پائی پر بیٹھ گئی اور ٹانگیں دبانے لگ پڑی

تھوڑی دیر بعد پیر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہیں میں گرم کر دیتا ہوں پھر میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر دبانے لگ پڑے مجھے بہت الجھن محسوس ہونے لگی لیکن ایک تو وہ بڑے ہردلعزیز تھے دوسرا میں ناسمجھ بچی تھی اسی لیے خاموشی سے ان کے بستر پر بیٹھی رہی کہ وہ ناراض نا ہو جائیں پھر ان کی دست درازیاں بڑھتی چلی گئیں میں خاموشی سے بیٹھی رہی کوئی ایک گھنٹہ وہ میرے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے جب ان کا دل بھر گیا تو مجھے کہنے لگے کہ اب جا کر سو جاؤ باقی کل رات دبانا؟ یہ سن کر میں پریشان ہو گئی کہ یہ سب کچھ کل بھی کرنا پڑے گا میں خاموشی سے جا کر بستر پر لیٹ گئی میرے دل میں اس پیر صاحب کے لیے شدید نفرت بھر گئی تھی

مجھے اس شخص کا اصلی چہرہ پتا چل گیا تھا جس کو سب سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے لیکن میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی پھر اگلے دن سارے محلے میں بات پھیل گئی کہ پیر صاحب مسلسل دوسری رات بھی خدمت کا موقع ہمارے گھر والوں کو دینا چاہتے ہیں میں سمجھ گئی تھی کہ پیر صاحب کی نظر مجھ پر ہے اس رات بھی حسب توقع پیر صاحب کی ٹانگیں دبانے کی ذمہ داری مجھے دی گئی . اس رات پہلے تو وہ دیر تک مجھ سے ٹانگیں دبواتا رہا جب اس نے دیکھا کہ میری ماں سو گئی ہے تو مجھے کہنے لگا کہ تم تھک گئی ہو گی تھوڑی دیر یہاں بستر پر لیٹ جاؤ

میں تمہاری ٹانگیں دباتا ہوں میں نے انکار میں سر ہلا دیا لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا مجھے بھینچ کر اپنے ساتھ بستر پر ڈال لیا اور میرے جسم کو چھونے لگا میں سمجھ گئی کہ کل تو بچ گئی تھی آج بچنا مشکل ہے مجھے اپنی ماں پر غصہ آرہا تھا جو مجھے اس بھیڑیے کے حوالے کر کے خود مزے سے دوسرے کمرے میں سورہی تھی میں نے بھاگنے کا سوچا لیکن اس شیطان کی گرفت کے آگے میں خود کو ایسی چڑیا سمجھ رہی تھی جس کو کسی طاقتور باز نے دبوچ رکھا ہو کمرے میں مدہم سی لائیٹ چل رہی تھی اچانک وہ بھی بجھ گئی شاید بجلی بند ہو گئی تھی میں بے بس ہو کر اپنی بربادی کا تماشہ دیکھنے لگی

اب وہ جعلی پیر بستر سے اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا اور میں قسمت کی ماری خوف سے آنکھیں بند کے لیٹی ہوئی تھی اچانک ایک زور دار آواز آئی اور ساتھ ہی مجھ پر سے پیر صاحب کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اس کے بعد کمرہ روشنی سے بھر گیا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو میری ماں ہاتھ میں بڑا سا ڈنڈا پکڑے غضب ناک کھڑی تھی پھر دیکھتے ہی دیکھتے میری امی نے پیر صاحب پر ڈنڈون کی بارش کر دی وہ شیطان اپنے جوتے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا، اس نے دروازہ کھولا اور رات کے اندھیرے میں فرار ہو گیا؛ اس کے بعد وہ جعلی پیر کبھی ہمارے علاقے میں نظر نہیں آیا، میری امی نے مجھے بتایا کہ اس کو شک تو پیر صاحب پر پہلی رات ہی ہو گیا تھا لیکن ، آج رات میں نے چھپ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا میری امی نے خود ہی گھر کی لائیٹ بند کی تھی تاکہ پیر صاحب کو سے پہلے سنبھلنے کا موقع نامل سکے پھر مجھے گلے سے لگا کر کہنے لگیں کہ میری بیٹی یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جائے اور تمہاری ماں کو خبر نہ ہو ؟ میں ماں کی گود میں بیٹھی روئے جارہی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *