Urdu Romantic Novels

میر انام سارا ہے میں مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہوں میرے ابو میرے بچپن میں ہی وفات پاچکے تھے میں اور میری امی گھر میں رہتی ہیں اور میرا کوئی بھائی بہن نہیں ہے اس لیے میری امی نے اپنے بھتیجے کو ہمارے گھر میں رکھا ہے تاکہ ہمارے گھر کے کام کاج وغیرہ کر سکے سودا سلف لانے کے لیے ہماری مدد کرے میری امی کا بھتیجا یعنی میرے ماموں کا بیٹا اسد. میں غربت کی وجہ سے میں پڑھائی نہیں کر سکی بس اپنے گھر میں ہی رہتی ہوں سلائی مشین کی ہوئی ہے تھوڑے بہت کپڑے وغیرہ آجاتے ہیں ان کو سلائی کرتی ہوں تو کچھ پیسے آجاتے ہیں میرا کزن اسعد جو مجھ سے ایک سال چھوٹا ہے روزانہ شرارتیں کرتا ہے میں ا سے کہتی ہوں میرے سے مذاقنہ کیا کرو مجھے یہ پسند نہیں ہے۔

ایک دن میری امی کہیں جارہی تھی اسد کو کہا اپنی بہن کا خیال رکھنا اس کے ساتھ رہنا باہر کہیں نہیں جانا میں شام تک واپس آجاؤں گی امی چلی گئی اور اسد ایک کمرے میں چلا گیا تھوڑی دیر بعد کمرے کے اندر سے آواز آرہی تھی میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو اسد موبائل یہ گندی فلم دیکھ رہا تھا اور بہت مدہوش بیٹھا تھا میں نے فلم کو غور کیا تو مجھے بھی اچھی لگنے لگی پھر میں چپکے سے دیکھتی سے رہی میں اسے دیکھی جارہی تھی کہ اچانک اسد کی نظر مجھ پر پڑی اور میں بہت شرمندہ ہوئی اپنی نظریں نیچے جھکا کے باہر بھاگ گئی.

تو اسد میرے پیچھے آگیا کہنے لگا کہ تم نے دیکھا میں نے کہا نہیں میں نے کچھ نہیں دیکھا پھر کہنے لگا دیکھو میرا بھی آپ پر دل آیا ہوا ہے اگر آپ راضی ہو تو آؤ مجھ سے پیار کر لو میں نے کہا نہیں یہ بات اچھی نہیں ہے امی مجھ پر کتنا اعتبار کرتی ہے اور وہ ہم دونوں کو بھائی بہن مانتی ہے. اسد نے کہا تو کیا ہوا میں امی سے آپ کا رشتہ مانگ لوں گا ویسے بھی تو میں یہی رہتا ہوں آپ سے شادی کر لوں گا میں نے کہا نہیں میں نہیں کرتی ایسا کام اس نے کہا ٹھیک ہے آپ کی مرضی ہے جو دل کرے کرو پھر تھوڑی دیر بعد امی بھی واپس آگئی اور اسد نے کہا میں آج شام اپنے گھر جاتا ہوں کل واپس آجاؤں گا اور وہ چلا گیا میں اپنے کمرے میں سو گئی میں جیسے ہی سوئی تو میرے سامنے وہ فلم آگئی میر ادماغ چکرانے لگا میر ادل بہکنے لگا میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی میں وہ سب کرو جو فلم میں ہو رہا تھا

پھر جیسے تیسے کر کے صبح ہوگئی اور اسد بھی آ گیا. اگلی رات اسد اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا میرے ذہن میں پھر وہی خیال آئے ہوئے تھے میں اٹھی اور اسد کے کمرے میں چلی گئی اسد کو اٹھایا تو اسد خوشی سے کہنے لگا کیا ہوا یہاں پر کس لئے آئی ہوں میں نے کہا مجھے آپ سے پیار ہو گیا ہے اب تم مجھ سے شادی کرو گے نہ اسد نے کہا یا اللہ مجھے یقین نہیں ہو رہا یہ تم کہہ رہی ہوں میں نے کہا اسد تم میرے دماغ میں گھوم رہے ہو آپ کے بغیر تو مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا پھر اسد نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا اور مجھے کہا پھر کیا ارادہ ہے آؤ ہم بھی وہی کرتے ہیں جو وہ فلم میں کر رہے تھے میں نے کہا نہیں ہم شادی کے بعد ہی کر یں گے اب بس امی سے میری شادی کی بات کرو پھر اس نے کہا یار کچھ نہیں
شادی تو ہماری ویسے بھی ہو جائے گی امی منع تھوڑا کرئے گئی ابھی ہم یہ سب کر لیتے ہیں

آپ کو بھی سکون مل جائے گا مجھے بھی پھر میں اس کی باتوں میں بہک گئی اور اس کے ساتھ وہ سب کیا جو بیوی اور شوہر کرتے ہیں رات کو میں اپنے کمرے میں چلی آئی کچھ دن گزر گئے اسد نے شادی کے بارے میں کچھ نہیں کہا دن گزرتے گزرتے ایک ماہ گزر گیا اور مجھے پتہ چلا کہ میں پریگنیٹ ہو گئی ہوں میں نے جلدی سے اسد کو کہا میرا تو یہ حال ہو گیا ہے آپ امی سے بات کرو ہماری شادی کی تو وہ بہانے کرنے لگا کہنے لگا مجھے شرم آتی ہے وہ فلاح آنے بہانے بنانے لگا میں سمجھ گئی تھی کہ اب اسد مجھ سے شادی نہیں کر تا اب میری زندگی تباہ ہو چکی ہے میری ایک غلطی کی وجہ سے میں اپنی امی کو رسوا کر دیا ہے

اور اپنی زندگی کے اوپر بھی داغ لگا لیا ہے پھر میں نے اس کو کہا اگر شادی کرنی ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو میرے گھر سے دفع ہو جاؤ کبھی منہ بھی مت دکھانا اور میں امی کو جا کر تمہارے بارے میں سب بتادیتی ہوں وہ گھبرا گیا اور کہنے لگا ارے یار میں تو مذاق کر رہا تھا بس میں ابھی جا کر امی کو کہتا ہوں وہ فورا چلا گیا اور میری امی سے کہنے لگا امی میں ویسے تو آپ کے گھر رہتا ہوں آپ میری شادی اپنی بیٹی سے کروادیں تو کیسا اچھار ہے گا اس وجہ سے آپ لوگ بھی شرمندگی محسوس نہیں کرو گے کہ میں آپ کے روزانہ کام کرتا ہوں پھر تو یہ میرا ہی گھر ہو جائے گا ایک طرح سےامی نے جلدی سے ہاں کہہ دی اور کہنے لگی تو نے تو میرے منہ کی بات چھین لی مجھے کیا اعتراض ہے آپ شادی کر لو پھر ہماری شادی ہو کی اور ہم جنسی خوشی زندگی گزارنے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *