Urdu Love Stories

میں ایک کو ٹھی پر کام کرنے جاتی تھی میں ان کے گھر کا کام کاج کرتی تھی اور گھر کی صفائی وغیرہ کا کام کرتی تھی ایک دن میں صاحب کے کمرے میں گئی تو صاحب اپنی بیوی کو الٹا کر کے لگا ہوا تھا پہلے تو میں صاحب کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھتی رہی جب میری نظر اس کے سامان پر پڑی تو میں ڈر گئی اور وہاں سے بھاگ کر باہر آگئی کیونکہ وہ بہت بڑا تھا آج میں نے پہلی بار اتنا بڑا دیکھا تھا میراشوہر کا تو چھوٹا تھا بڑی مشکل سے اور میرا بار بزادیکھا گزارہ کرتا تھا لیکن میرے صاحب کا تو بہت بڑا تھا میں سوچ رہی تھی کہ میری ماالکن یہ سب کیسے برداشت کرتی ہے بس میں یہی سوچ رہی تھی تو صاحب کے کمرے کا درواز کھلا اور صاحب باہر آگیا اور مجھ سے کہنے لگا بلو میں واش روم نہانے کے لئے جا رہا ہوں میرے کپڑے استری کر کے لے آنا. تھوڑی بعد میں نے صاحب کے کپڑے استری کیے اور لے کر واش ان کو دینے کے لیے کئی تو وہاں پر دیکھا تو صاحب کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تیل کی شیشی ہے وہ اس کو اپنے جسم پر لگارہے تھے

 پہلے تو میں چپ چاپ دیکتی رہی جب وہ تیل لگا کر فارغ ہوئے تو میں نے ان کو آواز دی کہ صاحب اپنے کپڑے لے لو تو اس نے کہا کہ مجھے پکڑاد واس وقت مجھے پتہ چل گیا کہ صاحب کا سامان اس لیے بڑا ہے کیونکہ یہ کوئی تیل استعمال کرتے ہیں میرے دل میں بھی خیال آیا کہ میں یہ تیل اپنے شوہر کو دو تا کہ اس کا بھی گزارہ کرنے لائق ہو پائے صاحب کپڑے پہنا کر واش روم سے باہر نکلا اور اپنے کمرے میں چلا گیا میں جلدی جلدی واش روم میں گئی اور وہ تیل کی بوتل ڈھونڈنے لگی تھی لیکن وہ مجھے کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی ہیں ابھی واش روم میں ہی تھی تو میری مالکین نہانے کے لیے آگئی تو اس نے مجھ سے کہا بلو تم واش روم میں کیا کر رہی ہو تو میں نے کہا کچھ نہیں میں تو صفائی کرنے آئی ہوں پھر میں واش روم سے باہر چلی گئی میری مالکن واش روم کے اندر داخل ہوگئی.

پھرایک دن مجھ سے نہ رہا گیا میں نے اپنی مالکین سے پوچھنے کا ارادہ بنالیا کہ آپ صاحب کو کیسے برداشت کرتی ہیں میں سفائی کے بہانے مالکن کے کمرے میں چلی گئی اور ان کے کمرے کی اچھی طرح صفائی کی اور بعد میں میں اپنی مالکن کے پاؤں  دبانے کے لیے ان کے پاس بیٹھ گئی اور پاؤں دبانے شروع کر دیے میں اپنی مالکن سے پوچھتا چاہتی تھی لیکن دل میں ایک ڈر سا تھا کہ شاید میری مالکن ناراض ہی نہ ہو جائے پھر میں نے ہمت کر کے اپنی مالکن سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں تو مالکن نے کہا بولو بلو کیا پوچھنا ہے تم کو … تو میں نے جھٹ سے مالکن سے کہہ دیا کہ پرسوں میں نے آپ اور صاحب کو آپ کے کمرے میں دیکھا تھا آپ پیار کر رہے تھے میں وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی مالکن جی میں بھی شادی شدہ ہوں میرے پاس بھی ایک بچہ ہے لیکن میں ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں.

 جو مجھے پریشان کررہی ہے تو مالکن نے کہا کہ بلو پوچھو بھی کیا بات ہے تو میں نے مالکن سے صاف صاف بات کی کہ آپ اپنے شوہر کو کیسے برداشت کر لیتی ہیں تو اس نے کہا کہ یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے کہ میرا شوہر کافی زیادہ زور آور ہے جس کو برداشت کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے لیکن اب میں اس کی عادی ہو چکی ہوں اب مجھے کوئی ٹینشن نہیں ہے تو پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا کہ میں آپ کو ایک راز کی بات بتانا چاہتی ہوں کہ آپ شوہر کا سامان اتنا بڑا کیسے ہے. تو مالکن نے فورا کہا بولو بتاؤ تو میں نے کہا کہ اس دن جب وہ واش روم نہانے کے لیے کئے تھے تو میں کپڑے لے کر گئی تھی تو میں نے صاحب کے ہاتھ میں ایک تیل کی بوتل دیکھی تھی جس کو وہ اپنے جسم پر لگارہے تھے مجھے لگتا ہے کہ یہ سارا کمال اس تیل کا ہے تو میری مالکن نے کہا کہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ہو سکتا ہے. لیکن مجھے کیا فرق پڑتا ہے اب میں تو اس کی عادی ہو گئی ہوں اب اگر مجھے اتنا نہیں ملے گا تو میرا شوق پورا کیسے ہو گا پر میں نے اپنی مالکن نے کہا کہ میرے شوہر کا تو بالکل چھوٹا ہے

 جو مجھے بالکل بھی خوش نہیں کر سکتا آپ میرا ایک کام کرو اپنے شوہر سے اس تیل کا نام پوچھ کر مجھے بتا دیں  تاکہ میں بھی اپنے شوہر کو وہ استعمال کرواو ہو سکتا اس کو بھی کوئی فرق پڑ جائے میری مالکان نے کہا ٹھیک ہے میں تم کو اس تیل کے بارے میں بتاؤں کی شام ہوئی تو میں اپنے گھر جا نے لگی.  تو مالکن نے کہا کہ بلو آج کچھ مہمان آرہے ہیں اس لئے تم آج رات یہی پر رک جاؤ صبح چلی جانا میں نے اپنی مالکن سے کہا ٹھیک ہے مالکن اور میں نے مہمانوں کے لیے کھانا وغیرہ بنانا شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد میں اصاحب اور ان کے دو تین دوست آگے پھر انہوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے اس وقت رات تقریبا گیارہ بجھنے والے تھے صاحب اپنے کمرے میں چلا گیا. اور میں ٹی وی لاج میں صوفہ پڑا ہوا تھا اس پر سوگئی لیکن مجھے نیند نہیں آرہی تھی کیونکہ میر ابیٹا گھر میں تھا اور صبح سے میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا نہیں تھا اس لئے بہت بے چینی ہو رہی تھی پھر میرے دل میں وہی خیال آیا کہ آج بھی صاحب کو دیکھو کیا کر رہے ہیں

 تو میں نے صاحب کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ تھوڑا سا ہٹایا تو دیکھا تو صاحب اور مالکن دونوں اپنے کام میں لگے تھے مالکن بہت خوش ہو رہی تھی.  لیکن مجھے باہر کھڑنے ہوئے ڈر لگ رہا تھا لیکن میرے دل میں بھی شوق پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی اپنے شوہر کو ایساہی بناؤں گی میں ساری رات ان دونوں میاں بیوی کو دیکھتی رہی صبح میں نے ناشتہ وغیرہ بنایا صاحب نے ناشتہ کیا اور اپنے دفتر چلے گئے میں اپنی مالکن کے کمرے میں گئی اور ان سے پوچھا کہ آج رات پھر میں آپ دونوں کو دیکھتی رہی ہوں اور آپ نے میر اکام کیا ہے وہ تیل آپ نے لیا ہے یا نہیں تو اس نے کہا کہ بلو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ ہے وہ تیل میں نے رات چوری سے اپنے شوہر کی جیب سے نکال کر رکھالیا تھا کہ صبح تمہیں دے سکوں یہ لو میں تیل کی شیشی ہاتھ میں پکڑ کر بہت خوش تھی میں بھاگ کر اپنے گھر گئی اور اپنے میاں کو جا کر ساری حقیقت بتائی میرا میاں منور بھی بہت خوش ہوا.

یہ لو میں تیل کی شیشی ہاتھ میں پکڑ کر بہت خوش تھی میں بھاگ کر اپنے گھر گئی اور اپنے میاں کو جا کر ساری حقیقت بتائی میرا میاں منور بھی بہت خوش ہوا. وہ فوراً واش روم میں گیا اور اس تیل کو استعمال کرنا شروع کر دیا. کچھ دن گزرنے کے بعد تیل کی ساری بوتل ختم ہو گئی تھی لیکن میرے شوہر منور کو ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا میں نے اپنی ماکین سے کہا کہ میرے شوہر نے پوری تیل کی بوتل ختم کر دی ہے لیکن اسے تو کوئی فرق نہیں پڑا آپ کے شوہر کا تو بہت بڑا ہے صاحب پیچھے کھڑا میری اور مالکن کی سب باتیں سن رہا تھا تو صاحب نے پیچھے سے مجھے آواز دی اور کہا. بلو جو تیل تو لے کر گئی ہو وہ جسم کی کسی بھی چیز کو بڑا یا چھوٹے نہیں کرئے گا.  بلکہ کچھ دونوں سے مجھے خارش تھی اور وہ اس کی دوائی تھی تم نے اسے کیا سمجھ لیا یہ میرا جسم قدرتی طور پر بڑا ہے میں کوئی بھی چیز استعمال نہیں کرتا

 مجھے صاحب کی باتیں سن کر بہت شرم سی محسوس ہوئی اور میں شرمندگی میں کمرے سے باہر چلی گئی میں 28 سال کی جوان عورت تھی اور میں اپنی مالکن سے زیادہ خو بصورت تھی ایک دن ماکن کی بہن کی بیٹی کی شادی تھی تو میر ا مالک اسے لے کر وہاں گیا  اور رات اسے وہیں پر چھوڑ کر واپس گھر آ گیا میں بھی گھر کا کام کر کے جانے ہی والی تھی تو صاحب آگے اور مجھ سے کہنے لگا کہ کہاں جارہی ہو تو میں نے کہا صاحب میں اپنے گھر جارہی ہوں تو صاحب نے کہا کہ مجھے ایک کپ چائے بنا کر دو پھر تم چلی جاؤ جب میں چائے بنانے کچن میں گئی تو میر صاحب میرے پیچھے آگیا اور مجھے پیچھے سے پکڑ لیا میں بہت ڈر گئی میں نے صاحب سے کہا کہ پلیز آپ مجھے چھوڑ دیں میں آپ کو برداشت نہیں کر پاؤں گی کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا  تو میرے صاحب نے کہا کہ تمہیں بھی تو اپنے شوہر کا بڑا کرنے کا شوق تھا

 پھر صاحب مجھے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر الٹا کر دیا پھر صاحب مالکن کی طرح میرے ساتھ شروع ہو گیا پہلے تو مجھے بہت مشکل ہوئی لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے بہت مزہ آنے لگا.  تھوڑی دیر بعد صاحب نے مجھے چھوڑ دیا اور چلا گیا پھر کچھ دیر میں  انتظار کیا لیکن صاحب نہیں آئے تو میں ان کے پیچھے چلی گئی اور صاحب سے کہا کہ صاحب کیا ہو اب آپ کا مجھ سے ادل بھر گیا ہے تو صاحب نے کہا نہیں بلو ایسی بات تو نہیں ہے تو پھر میں خود صاحب کو لے کر اندر چلی گئی اور پوری رات ہم نے اکٹھے گزاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *