Most Romantic Urdu Novels

ڈاکٹر اور نرس کی محبت

میرا نام ہانیہ ہے میں پاکستان کے شہر لاہور کی رہنے والی ہوں میری عمر 25 سال ہے میرے والد صاحب کا میرے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا میری والدہ نے بہت محنت مشقت کر کے ہمیں پالا تھا میرے سے چھوٹی ایک بہن اور دو بھائی تھے میری والدہ نے لوگوں کے گھروں کے کام کاج جھاڑو پوچا کر کے کمایا اور ہمیں پالا پوسا اور ہمارے اخراجات اٹھائے تھے مشکل کے وقت کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا ایسے ہی ہمارے ساتھ ہوا جیسے ہی ہم پر مشکل آئی سب نے ہم سے منہ موڑ لیا کسی نے ہماری مدد نہ کی میں نے بہت مشکل سے اپنی پڑھائی مکمل کی جیسے ہی میری پڑھائی مکمل ہوئی میں نے اپنی والدہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے نوکری کی تلاش شروع کر دی

خیر بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد مجھے ایک ہوسپٹل میں نوکری مل گئی ایک ڈاکٹر کے پاس نرس کی نوکری ڈاکٹر بھی تقریبا میری ہی عمر کا تھا میں نے بہت دیر اس ڈاکٹر کے ساتھ کام کیا وقت کے ساتھ ساتھ میرے گھر کے حالات بھی ٹھیک ہونے لگے تھے میرا زیادہ سے زیادہ وقت ڈاکٹر کے ساتھ گزرتا تھا میرے اور ڈاکٹر کے درمیان اچھے تعلقات تھے وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہونے لگا کہ ڈاکٹر میری طرف دیکھتا ہے مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں انہیں اچھی لگنے لگی ہوں ان کا یوں پیار بھری نگاہوں سے دیکھنا مجھے اچھا لگتا تھا اوپر سے میں بھی تھی پیاری وہ بھی جوان اور پیارے تھے ان کی رنگت میری طرح سفید تھی آج کل کے دور میں ہر کوئی جوان گوری رنگت والی لڑکی کو دیکھ کر پگھل جاتا ہے میں تو بہت خوبصورت تھی جو کوئی بھی دیکھتا مجھ پر اپنی جان دے بیٹھا تھا

ڈاکٹر صاحب بھی انہیں میں سے تھے وہ بھی میری محبت کے دیوانے ہوئے بیٹھے تھے لیکن انہوں نے اپنی محبت کا اعتراف نہیں کیا تھا میں جب بھی ان کے قریب ہوتی تھی ان کا دھیان میری طرف زیادہ ہی ہوتا تھا ایک دن میں نے ان سے پوچھ لیا کیا آپ میری طرف اتنی مشکوک نگاہوں سے کیوں دیکھتے ہیں لیکن اس کا اظہار بھی نہیں کرتے تو اس دن انھوں نے بتایا کہ آپ کی خوبصورتی رنگت جوان پتلا بدن ان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے میں نے ان سے کہا کہ اگر میں ان کو اچھی لگنے لگی ہوں تو منہ سے اظہار کیوں نہیں کیا کہنے لگا کے ڈرتا تم انکار ہی نہ کردو تو میں نے بھی بتا دیا کہ وہ خود بھی مجھے اچھے لگنے لگے تھے وہاں سے ہماری بات سے ہونا شروع ہوگئی ہمارے درمیان محبت بھری باتیں ہونا شروع ہو گئی ایک دن میں ہوسپٹل گئی تو ہوسپیٹل میں کوئی مریض نہیں آیا تھا جو پہلے کے مریض تھے ان کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں گئی ڈاکٹر صاحب بہت ہی کیوٹ لگ رہے تھے

ان کو دیکھ کر میرا دل مچلتا رہ گیا میں ڈاکٹر صاحب کے تھوڑی قریب گئی ڈاکٹر صاحب مجھے دیکھ کے خوش ہو گئے ان کو دیکھ کے ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کا برسوں پرانی پیاس مٹانے کو جی کر رہا ہو ڈاکٹر صاحب نے بہت مسکرا کے بولا کہ مجھے چائے بنادو ہمارے ہوسپٹل میں ایک کچن بھی تھا جہاں کسی کو چائے پینے ہوتی وہاں بنا کر پی لیتا تھا ڈاکٹر صاحب نے مجھے چائے بنانے کے لئے بولا میں بہت خوشی سے چائے بنانے کے لئے کچن میں گئی جیسے ایک پرندہ اپنی پیاس مٹانے کے لیے پانی کے پیچھے بھاگتا ہے بالکل اسی طرح ڈاکٹر صاحب بھی اپنی پیاس بجھانے کے لئے میرے پیچھے پیچھے چلتے آ رہے تھے میں نے ابھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ڈاکٹر صاحب نے پیچھے سے آکر مجھے زور سے پکڑ لیا کہ آہستہ آہستہ انھوں نے میرے ناریل کے اوپر ہاتھ رکھا اور اسے زور سے دبانے لگے اندر سے بھی دھیمی “اہ” کی آوازیں نکلنے لگی ڈاکٹر صاحب کا خود پر قابو نہ تھا ڈاکٹر صاحب نے میری چڑیا پر ہاتھ رکھا

اور ایک ہاتھ سے مسلنے لگے اتنی دیر میں ڈاکٹر صاحب کو میرے سینے چھوٹ گئے ڈاکٹر صاحب نے مجھے بہت زور سے پکڑ رکھا تھا ہمارے ہاسپٹل میں ایک روم خالی تھا جہاں پر ایک بیڈ بھی پڑا ہوا تھا ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنی گود میں اٹھایا اور کمرے کی طرف جانے لگے چائے وہیں چولھے پر پڑی رہ گئی ڈاکٹر نے مجھے گود میں بٹھایا ہوا تھا اور میرے دل پر ہاتھ پھیرتے مجھے ان کی گود میں مزا آرہا تھا وہ مجھے ہونٹوں پر کس بھی کر تھے مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا انہوں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور مجھے بیڈ پر لٹا دیا اور خود میرے اوپر لیٹ گئے اور میرے ناریل کو زور زور سے دبانے لگے مجھے تھوڑا درد ہو رہا تھا لیکن بہت مزہ آرہا تھا کبھی وہ میری چڑیا کو زور زور سے مسلتے

میرے اندر سے آگ سی نکلنا شروع ہوگی میں بہت مزے سے لیٹی ہوئی تھی میری چڑیا سخت تھی جیسے ہی ڈاکٹر صاحب نے میری چڑیا کو ہاتھ سے چھیڑنا شروع کیا میری چڑیا آگ کی طرح گرم ہونے لگی ڈاکٹر صاحب کو بھی مسل کر مزہ آ رہا تھا مجھے بھی ان کے طوطے کو مسل کر مزہ آنے لگا تھا اور قرار مل رہا تھا ڈاکٹر صاحب ایک منٹ کا بھی سانس نہیں لے رہی تھے کبھی میری چڑیا کو مسلتے کبھی میرے ناریل کو دبادیتے اور ہونٹوں پر کس کرتے ڈاکٹر صاحب مجھے بہت زور سے کر رہے تھے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا وہ دن میری زندگی کا یادگار اور خوشگوار دن تھا اس دن میری اور ڈاکٹر صاحب کی برسوں پرانی پیاس بجھ رہی تھی میں نے آہستہ آہستہ ڈاکٹر صاحب کے طوطے کو پکڑا اور اس کو مسلنا شروع کر دیا اس سے ڈاکٹر صاحب کی تڑپ اور زیادہ بڑھ گئی ڈاکٹر صاحب کے منہ سے آہ آہ کی آواز نکلنے لگی ڈاکٹر صاحب کے پسینے چھوٹنے لگے

اور میرا جسم بھی فل گرم ہونے لگا جیسے بخار ہو ڈاکٹر صاحب پھر آہستہ آہستہ کام کرنے لگے اور میرے ناریل کو ساتھ میں کھانے لگے ڈاکٹر صاحب میرے ناریل کو بہت اچھے سے کھا رہے تھے میرے دل میں ایک لہر سی اٹھی تھی مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پھر ڈاکٹر صاحب نے میرے پورے کپڑے اتارنا شروع کر دیے ڈاکٹر صاحب نے میرے سب کپڑے اتار دے ڈاکٹر صاحب کبھی میرے اوپر لیٹ جاتے اور کبھی میں ڈاکٹر صاحب کے اوپر لیٹ جاتی مجھے بہت مزہ آ رہا تھا میرے اندر سے آگ نکل رہی تھی ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنے اوپر لٹا دیتے اور کبھی اپنے اوپر بٹھا دیتے دیکھتے ہی دیکھتے سارا دن گذر گیا ڈاکٹر صاحب کی پیاس ابھی تک نہیں بوجھی تھی دیکھتے ہی دیکھتے بات بہت آگے پہنچ چکی تھی

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام سے فارغ ہو کر میں گھرآگی امی نے پوچھا کہ اتنی دیر کہاں لگا آئی ہو میرے پاس بتانے کے لئے کچھ نہ تھا اگلے دن پھر میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا تم میرے کیوں نہیں بن جاتے ڈاکٹر صاحب اس بات پر راضی ہو گئے میں نے گھر آکر اپنی امی سے بات کی امی نے انکار کر دیا کہ وہ ڈاکٹر نہ جانے کیسا ہے نہیں اچھا تمہارے لیے پھر میں نے کسی طرح امی کو منا لیا ڈاکٹر صاحب بھی اپنی امی کو منانے کی کوشش کر رہے تھے وہ بھی کامیاب ہو گئے پھر دونوں گھروں نے بیٹھ کر ہماری شادی کی تاریخ رکھ دی اس کے بعد شادی کی تیاریاں ہونے لگیں آخر کار وہ دن آگئے جب ہم دونوں کی شادی ہو گئی پھر ہمیشہ کے لئے ہم ایک دوسرے کے ہو گئے اس کے بعد ہم روز ایک دوسرے کی پیاس بجھاتے اور ہماری زندگی بہت مزے سے گزرنے لگی ہمیں کسی اور چیز کا ڈر نہیں تھا۔

Doctor and nurse love

My name is Hania, I am a resident of Lahore, Pakistan. I am 25 years old. My father died when I was a child. My mother worked very hard to raise us. I had one sister and two brothers. My mother earned money by sweeping people’s houses and took care of us and took care of our expenses. No one helped us. I completed my studies very hard. As soon as I completed my studies, I started looking for a job to support my mother.

Well, after many stumbles I got a job in a hospital as a nurse with a doctor. The doctor was almost my age. I worked with this doctor for a long time. I used to spend most of my time with the doctor. I had a good relationship with the doctor. Over time, I started to feel that the doctor was looking at me. I started to feel like he liked me. I liked to look at them from above, I was also cute, they were also young and cute, their complexion was white like mine, nowadays everyone melts when they see a young fair-skinned girl. I was very beautiful. Anyone watching would give their lives for me

Dr. Sahib was also among them. He was also madly in love with me. Lia, why do you look at me with such suspicious eyes but do not even express it? That day, he told me that your beauty, complexion, young and thin body attracts him. I told him that if I I was starting to like him, so why didn’t he express it with his mouth? He said, “I was afraid that you wouldn’t deny me.” One day when I went to the hospital, no patient had come to the hospital. The previous patients had been discharged. I went to the doctor’s room. The doctor was looking very cute.

Seeing them, my heart stopped beating. I went a little closer to the doctor. The doctor was happy to see me. Seeing him, it seemed as if his thirst for years was alive to be quenched. The doctor smiled a lot. He said make me tea in our hospital there was also a kitchen where one had to drink tea and used to make it and drink it. The doctor told me to make tea. Just like that, Dr. Sahib was also following me to quench his thirst. I did not look back yet. He put his hand on my coconut and started pressing it hard. From inside, the doctor said he could not control himself. He put his hand on my penis.

And began to massage with one hand. After a while, the doctor missed my chest. The doctor was holding me very tightly. There was an empty room in our hospital where there was a bed. The doctor picked me up in his lap and They started going towards the room, the tea was left there on the stove, the doctor was sitting on his lap and while he was touching my heart, I was enjoying his lap. opened the door of the room and put me on the bed and lay on top of me and started pressing my cock hard I was getting a little pain but it was very fun sometimes he used to massage my cock hard

Fire started coming out of me, I was lying down having a lot of fun, my cock was hard, as soon as the doctor started teasing my cock with his hand, my cock was getting hot like fire and the doctor was also enjoying it. I also began to enjoy massaging his cock and was getting the feeling that the doctor was not breathing even for a minute. I was having a lot of fun. That day was a memorable and happy day of my life. On that day, my and Dr. Sahib’s thirst was quenching. I slowly caught Dr. Sahab’s parrot and started sucking it. Dr. Sahib’s yearning increased even more. Dr. Sahib’s mouth started to moan. Dr. Sahib started sweating.

And my body also started getting hot like a fever. Then the doctor slowly started working and started eating my coconut along with me. The doctor was eating my coconut very well. I felt a wave in my heart. Then the doctor started taking off my clothes. The doctor took off all my clothes. Sometimes the doctor would lie on top of me and sometimes I would lie on top of the doctor. I was having a lot of fun. Fire was coming out of me. Dr. Sahib would lay me on top of him and sometimes make me sit on top of him. The whole day passed by. Dr. Sahib was still not thirsty.

After finishing work with doctor, I came home, mother asked why it took so long, I had nothing to tell, next day, then I said to doctor, why don’t you become mine, doctor agreed. Done, I came home and talked to my mom. Mom refused saying that she doesn’t know how the doctor is, not good for you. Then I somehow convinced mom. The doctor was also trying to convince his mom.

It was successful, then both the houses sat down and set the date of our marriage, after that the preparations for the marriage began, finally the day came when we both got married, then we became each other’s forever, after that we were together everyday. Quenching the thirst of others and our life started to be very enjoyable, we were not afraid of anything else.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *