مالک کی نظر میری گھوڑی پر

مالک ہر رات دود و گھوڑیوں کی ایک ساتھ سواری کرتا مگر مالکن کی گھوڑی چھوٹی تھی مالکن مجھ سے فرمائش کرتی کہ ایک رات کے لیے اپنی گھوڑی دے دو مگر مجھے شرم آتی اور مالک سے ڈر لگتا لیکن ایک رات مالکن نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور بے ہوشی کی دو اپلادی نکھ کھلی تو میرے ہوش اڑگئے مالک میری گھوڑی پر۔۔۔

میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا میں اس گاؤں کے سیٹھ کی حویلی میں نوکرانی تھی جنہیں سب مالک کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ وہ د یکھنے میں کافی سخت مزاج قسم کے انسان تھے جب بھی وہ گھر پر داخل ہوتے ان کے چہرے پر چھائے سخت تاثرات دیکھ کر تمام ملازمین کا دل دہل کے رہ جاتا تھا انکی بارعب شخصیت پر ہر انسان ان سے گھبراتا تھا میں ویسے ہی ڈرپوک قسم کی۔ تھی اس لئے میری اب تک یہی کوشش تھی کہ میر امالک سے کبھی سامنانا ہو میرا کام صفائی کا تھا اس لئے میری کوشش ہوتی کہ میں مالک کے آنے سے پہلے ہی کام کر کے واپس چلی جاؤں لیکن شاید میری شامت مالک کے ہاتھوں لکھی تھی یا میں نے خود ہی اپنی بد قسمتی کو دعوت دے دی تھی

مجھے ایک دن ایک پرانی ملازمہ نے بتایا کہ دو چیزیں دیکھ کر مالک جنونی ہو جاتا ہے ایک خوبصورت عورت اور دوسری۔۔۔۔ میں نے کہا دوسرا کون تو وہ شرماتے ہوئے اپنے دوپٹے کا پلومنہ دبائے مسکراتے ہوئے دروازے تک گئی اور پلٹ کر مجھ سے کہنے لگی خوبصورت گھوڑی۔۔ تم بچ کے رہنا مالک کی نظروں نے اگر تمہارا حسن دیکھ لیا تو سمجھوں کہ پھر تمہیں مالک کے شکنجے سے کوئی نہیں بچا سکتا یہ کہہ وہ چلی گی اور میں اس وقت یوں تھی کہ میری رنگت زرد سی پڑ گی کہو میں جلدی سے اپنے دوپٹے سے آپنا گھو گھنٹ نکال لیا۔ اور صفائی کرنے مالک کے کمرے میں چلی گی اُس وقت انکی بیوی بھی باہر تھیں کمرہ بلکل خالی تھا میں بہت تیزی سے ہاتھ چلا ر ہی ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہی تھی واقعی مالک حسن پرست تو ہے کیونکہ مالکن بے حد حسین عورت تھی

ایک دن مالکن مجھے دیکھ کر کہنے لگی تم تو حسن کا پیکر ہورانی اگر اچھا لباس پہن لو تو کوئی تمہیں ملازمہ نہیں کہے گا لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میرے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے میں بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر گرد صاف کر رہی تھی کہ جب سامنے ڈرسنگ ٹیبل کے شیشے پر میری نظر پڑی کمرہ اس وقت خالی تھا کمرے میں حبس اور گرمی بھی بہت تھی میں گھو گھنٹ نکالے صفائی کر رہی تھی سامنے شیشے میں دیکھ کر میں اپنے حسین چہرے کو غور سے دیکھنے لگی کہ جب اچانک سے کمرے کا دروازہ کھلا مجھے مالک کے جوتوں کی چاپ سنائی دی میں نے جیسے ہی گھو گھنٹ گرانا چاہا دوپٹہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا سامنے مالک کی نظریں مجھ پر پڑ چکیں تھی۔ نظریں لسائریں تھیں میری بری قسمت شروع ہو چکی تھی میں نے جلدی سے دوپٹہ زمین سے پکڑا اور خود پر اوڑھ لیا اور کمرے سے باہر جانے لگی لیکن میر ادل اچھل کر حلق میں اس وقت آیا جب مالک نے مجھے پکار کر رک جانے کو کہا

کہنے لگے اے لڑکی یہیں رکو میں تو یوں کہ بے جان سی ہو لیں ہو وہ میرے پاس آئے کہنے لگے تم حمید کسان کی بیٹی ہو مالک کے منہ سے اپنے ابا جان کا نام سن کر میرادل اور بھی خوف کے مارے دھک دھک کرنے لگامیں نے منہ سے کوئی جواب نہیں دیا بس اثبات میں سر ہلادیا کہنے لگے بڑی سوہنی نکل آئی ہو تم تو تم بھی تمہاری گھوڑی بھی دونوں ہی بہت خوبصورت ہو یہ سن کر میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ میں کمرے سے باہر نکل آئی جلدی سے باقی حویلی کی صفائی کی اور اپنے گھر چلی گی مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اگر مالک نے میرے ساتھ کچھ ایسا ویسا کر دیا تو میں کیا کروں گی کیونکہ یہ گاؤں کے چوہدری اور زمیدار تو ایسے ہی ہوتے ہیں جنہیں جو لڑکی پسند آجائے اسے اپنی ملکیت سمجھ لیتے ہیں اس بات نے مجھے پوری رات رلایا میری ماں بیمار تھی بستر مرگ سے جالگی تھی اس لئے مجھے حویلی کام پر جانا پڑ اوہاں مجھے ایک اور ایسی بات معلوم ہوئی کہ میں متعجب سی ہو گی
میرے مالک کے پاس کئی قسم کی گھوڑیاں تھیں وہ ہر ماہ کوئی نا کوئی نئی گھوڑی ضرور گھر میں لایا کرتے تھے

مجھے حیرت ہوئی کہ مالک اتنی مہنگی گھوڑیاں ڈالروں میں پاکستان منگواتے تھے اور پھر چند روز بعد اسے ستی قیمت میں بیچ کر نئی گھوڑیاں ڈھونڈنے لگتے تھے۔ آج بھی جب میں حویلی میں یہ سناتو پریشان سی ہو کر بولیں کہ اب میں کیا کر سکتی ہوں میرے پاس تو یہ ایک ہی گھوڑی موجود ہے مالک کہنے لگے کہ مجھے ایک اور گھوڑی کی ضرورت ہے میرا اکام اس ایک سے تو بلکل بھی پورا نہیں ہونے والا ہر رات مجھے دو تگڑی گھوڑیاں چاہیے اور اب اس کا انتظام مجھے جلد از جلد کرناپڑے گا آجکل میری نظروں میں ایک خوبصورت حسینہ چھائی ہوئی ہے سوچ رہاہوں آج اسے اپنے اصطبل کی زینت بناہی لوں اور نہ مجھے چین نہیں آئے گا ان دونوں کی باتیں اس قدر عجیب تھیں کہ جنہیں سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے مجھے شرم سی محسوس ہونے لگی تھی نا جانے مالک اور مالکن کیسی بے باک باتیں کر رہے تھے تبھی مالکن کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگیں۔ خود پر ان کی نظریں پاکر میں بوکھلا کر رہ گئی تھی فور اسید ھی کھٹڑی ہوئی اور جھاڑو لے کر وہاں سے جانے لگی۔ مالکن میری ہر بڑا ہٹ محسوس کر چکی تھی مگر بولی کچھ نہیں۔۔

میر ادل مالک کی بات پر بے چین سا ہو گیا تھا مغرب کا وقت ہو چکا تھا اور میرے گھر جانے کا وقت تھا میں جب گھر جانے کے لیے نکلنے لگی تو ایک ملازم نے آکر بتا یا کہ مالکن مجھے اپنے کمرے میں بلارہی ہیں مالک بھی وہیں موجود ہیں اور دونوں نے مجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے میرے تو ہوش اڑ چکے تھے مجھے شرم سی محسوس ہو رہی تھی میں نے ہڑ بڑا کر اس کی بات کو نظر انداز کیا اور جلدی جلدی آج کا بچا ہوا کھانا لے کر وہاں سے نکل گئی میں نے پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا تھا اور جلدی جلدی گھر پہنچ کر ہی سانس بحال کیا۔ مجھے ان کی اس دن کی باتیں یاد آنے لگیں نجانے ان باتوں کا کیا مطلب تھا مگر کچھ تو گڑ بڑ تھی میں گھر کے صحن میں داخل ہوئیں تو صحن میں میری گھوڑی بندھی ہوئی جیسے میرا ہی انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی گھوڑی بالکل چھوٹی سی تھی جب میرا ابا اسے گھر لے کر آیا تھا میرے علاوہ ابا کی کوئی اولاد نہ تھی میں اکیلی تھی اس لیے اس گھوڑی کو میں نے ہی پالا تھا مجھے وہ گھوڑی بے حد عزیز تھی مجھے بالکل وہ اپنی اولاد جیسی لگتی پہلے تو میر اپور اوقت اپنی گھوڑی کے ساتھ ہی گزرتا تھا

لیکن جب سے اماں بستر سے لگ گئی تھی تب سے میںمالک کے گھر کام کر کے اپنا گزارا کیا کرتی اور روزانہ چند پیسے الگ سے گھوڑی کے لئے لا یا کرتی تاکہ اپنے گھوڑی کے لئے چارہ لا سکو وہ گھوڑی بھی میرے ساتھ کافی مانوس ہو چکی تھی۔ میری ہر بات سنتی اور مانا کرتی تھی اگلے روز جب میں کام کرنے کے لیے حویلی میں گئی تو مالکن نے مجھے دیکھتے ہی اپنے کمرے میں آنے کا کہانہ جانے کیوں مجھے ان سے ہچکچاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی میرادل خوفزدہ سا ہونے لگا تھا میں گاؤں کے کمزور کسان کی بیٹی تھی پتہ نہیں وہ مجھ سے کیا کہنا چاہتی تھی میں نے سنا تھا کہ گاؤں کے چوہدریوں کی بیویاں خود اپنے شوہر کی پسند کی کنیز کو انکے کمرے میں بھیجا کرتی ہیں میرا دل خوف کے مارے ہلکورے کھار ہا تھا خیر اب بچنے کا کوئی چارہ نہ تھا اس لئے میں فور مالکن کے پیچھے پیچھے ان کی کمرے میں داخل ہو گی وہاں مالک موجود نہیں تھے وہ اس وقت اپنی زمینوں کو دیکھنے کے لیے چلے جایا کرتے تھے مالکن نے فورا کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور مجھے اپنے ساتھ پیٹھنے کا کہنے لگی

میرے چہرے کی ہوائیاں اڑ چکی تھی نہ جانے اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا وہ مجھ سے کیا کروانا چاہتی تھی میں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گئی تو وہ مجھ سے کہنے لگی کے اگر تم مناسب سمجھو تو ہمیں ایک رات کے لیے تمہاری گھوڑی چاہیے اس کے بدلے میں تم جتنے پیسے مانگو گی ہم تمہیں دیں گے دس ہزار پچاس ہزار یا ایک لاکھ تمہیں ایک رات کے لیے اپنی گھوڑی کی جتنی بھی قیمت مانگو گی مالک تمہیں ادا کریں گے مگر بدلے میں تمہیں اپنی گھوڑی مالک کو دینی ہوگی انہوں نے تمہارے ابا سے بھی بات کی تھی لیکن وہ کہنے لگے کہ یہ رانی کی ملکیت ہے اگر رانی اجازت دے دے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں مالکن کی بات سن کر تو میرے ہوش اڑ چکے تھے مالک نے آخر کب میری گھوڑی کو دیکھا تھا اور وہ ایک رات کے لیے میری گھوڑی کو کیوں مانگ رہے تھے ؟؟؟ آخر ایسا کیا کرنا تھا انہوں نے میری گھوڑی کے ساتھ ۔ مجھے ٹھیک سے یاد تھا کہ آج سے ایک ہفتہ پہلے چھٹی والے دن میں اپنی گھوڑی کو لے کر سبز بازار کھیت میں گئی تھی وہی مالک بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ موجود تھے میں نے تبھی ان کی آنکھوں میں ایک کھچاو محسوس کیا تھا

پھر وہ مجھ سے میری گھوڑی کی تعریف بھی کر چکے تھے وہ رات کو گھوڑیوں کے ساتھ اصطبل میں پتہ نہیں کیا کرتے تھے میں نے بمشکل ہمت کر کے مالکن سے پوچھا کیا آخر مالک میری گھوڑی کے ساتھ کرنا کیا چاہتے ہیں جبکہ ان کے گھر میں پہلے سے ہی دو گھوڑیاں موجود ہیں اور ہر ہفتے وہ کتنی گھوڑیاں یہاں پر لاتے رہتے ہیں وہ ان کا کیا کرتے ہیں میری بات سن کر پہلے تو مالکن کی رنگت سی اڑ گئی پھر ان کے چہرے پر افسردگی سی چھاگی کہنے لگیں میں تمہیں اس کی وجہ بھی نہیں بتا سکتی بس اگر تم میری یہ بات مان لو تو پھر میں تمہیں ضروروجہ بتادوں گی لیکن میر اول نہیں مان رہا تھا میں نے صاف انکار کر دیا میرے انکار پر مالکن کے چہرے کے تاثرات تن سے گئے کہنے لگیں تم باقی ملازموں جتنا ہی کام کیا کرتی تھیں۔ لیکن ہم نے تمہیں ہمیشہ سب سے زیادہ تنخواہ دی کیونکہ مالک کو تمہاری گھوڑی پسند آ تھی یہ بات میرے لئے حد درجہ حیران کر دینے والی بات تھی میں واپس اپنے گھر چلی ائی۔ لیکن جب میں گھر کے اندر داخل ہوئی تو ششد دسی روگی مالک میرے گھر میں میری گھوڑی سے کچھ فاصلے پرکھڑے میرے والد سے بات کر رہے تھے مجھے دیکھ کر میری گھوڑی کے متعلق مجھ سے وہی سب پوچھنے لگے جو مالکن نے آج پو چھا تھا

مالک کی نظر میری گھوڑی پر تھی جو صحن کے کونے میں کھٹڑی اپنی مثال آپ دکھائی دے رہی تھی مالک چلتے ہوئے میری گھوڑی کے پاس گئے اور اسے اوپر سے ہاتھ لگانا چاہا مگر میری گھوڑی تو صرف میرے لمس کی عادی تھی مالک کو اپنے قریب دیکھ کر اس نے اپنی آگے کی ٹانگیں اٹھا کر مالک کو مارناچاہا مگر جوں ہی میں نے منع کیا تو وہی پر رک گئی مالک میری گھوڑی کے گرد چکر لگا کر دیکھ رہے تھے اور پھر دھیرے دھیرے اس کے چہرے پر اور گردن کو ہاتھ سے سہلانے لگے۔ اب کی بار میری گھوڑی نے انہیں کچھ نہیں کیا کہ وہ مجھے کہنے لگے کہ اگر میں چاہوں تو وہ پیسے بڑھا بھی سکتے ہیں وہ مسلسل میری گھوڑی کے کبھی چہرے پر ہاتھ پھیر رہے تھے تو بھی اسکی کمر سہلا رہے تھے مجھے اب اپنے گھوڑی کی فکر ہونے لگی تھی کہ کہیں اس کے ساتھ مالک کچھ غلط ہیں نہ کر دیں میں نے مالک کو منع کر دیا میرے انکار پر وہ فورا سے ہمارے گھر سے ناراض ہو کر چلے گئے۔

مجھے میری گھوڑی میری جان سے بھی زیاد و پیاری تھی جب میں کچھ دن بعد حویلی گئی تو سامنے لاونج میں مالکن بیٹھیں تھی۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں کہنے لگیں تم تو ایسی غائب ہوئی کہ پلٹ کر بھی نہیں آئی پھر اپنی ملازمہ کو اشارہ کیا و ہاٹھ کر کچن میں چلی گی مالکن مجھ سے میری والدہ کی خیرت پو چھنے لگیں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں کچھ دیر بعد ہی انکی خاص ملازمہ میرے لئےایک شربت کا گلاس لے آئی میں نے بھی وہ گلاس پکڑا اور شربت پی لیا مالکن مجھے اپنے کمرے میں لے گئیں اندر کا ماحول بہت پر سکون ساتھ اے سی سے کمرہ ٹھنڈاہور ہا تھا مالکن مجھے اپنے بیڈ پر لے گی سمجھ پر ناجانے کیوں غنودگی سی چھانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے میں وہیں اسکے بیڈ پر دراز ہو گی سمجھ پر اسی غنودگی چھائی کہ مجھے ہوش ہی نارہا کہ میں کہاں ہوں اور جب مجھے ہوش آیا تو میرے مالک کا مقصد پورا ہو چکا تھاوہ میری گھوڑی کے ساتھ رات وہ سب کچھ کر چکے تھے جو وہ چاہتے تھے جب میں ہوش میں آئی تو صبح ہو چکی تھی میری مالکن کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی

وہ کہنے لگیں آج تم ہمارے کمرے کی مہمان بنی رہی اور تمہاری گھوڑی مالک کے اصطبل کی میر ا دل یہ سن کر دھڑکنا بھول گیا تھا میں نے اپنے اوپر سے لحاف اتار کر ایک طرف پھینکا اور بھاگتے ہوئے حویلی سے باہر نکل گی اور بھاگتے بھاگتے اصطبل پر پہنچ کر ہی سانس لیا تھا سامنے میری گھوڑی پانی پی رہی تھی چارا کھارہی تھی اور مالک کے چہرے پر اپنی جیت کی چمک تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے تم تو ڈبل انعام کی حقدار ہو تم نے اس دن ایک بار اپنی گھوڑی کو مجھے مارنے سے منع کیا تھا وہ تو میری فرما بر دار ہو گی پھر انہوں نے مجھے دولاکھ کیش دیے کہنے لگے میری جیت پر تمہارا بھی حق ہے اسے حق سمجھ کر رکھ لو میں نیزہ بازی جیت کے آیا ہوں نیزے کا لفظ سن کر میں نے حیرت سے مالک کی طرف دیکھا کہنے لگے میں دو گھوڑیوں پر سوار ہو کر نیزہ بازی کا مقابلہ کرتا ھوں لیکن اس بار میری بیگم کی گھوڑی قد کاٹھ نہیں نکال پائی اس لئے مجھے اپنی گھوڑی جیسی قد کاٹھ کی گھوڑی چاہیے تھی جو خو بصورت بھی ہو اور تمہاری گھوڑی میں وہ کچھ موجود تھا

The owner’s eye on my mare

Every night, the owner used to ride the donkey and the mares together, but the owner’s mare was small. And when the two noses of unconsciousness opened, my consciousness flew to the owner of my mare.

I belonged to a poor family, I was a maid in the mansion of Seth of this village, whom everyone called as the owner. He was a very hard-tempered person, whenever he entered the house, seeing the hard expression on his face, the hearts of all the employees were left in awe. of oath That’s why I tried till now to meet Mir Amalik. My work was cleaning, so I used to try to go back after working before the owner came, but maybe my funeral was written by the owner’s hand or I had invited my own bad luck

One day an old maid told me that the owner becomes obsessed after seeing two things, one is a beautiful woman and the other. I said, “Who else?” She shyly pressed the hem of her dupatta and went to the door smiling and turned around and said to me, “Beautiful mare.” You remain a child. If the master’s eyes see your beauty, then I will understand that then no one can save you from the master’s torture. He took out his horse. And she would go to the owner’s room to clean. At that time, his wife was also outside. The room was completely empty. I was moving my hands very quickly and at the same time I was also thinking that the owner is really handsome because the owner was a very beautiful woman.

One day Mistress looked at me and said, “You are Hasan’s figure, Horani. If you wear good clothes, no one will call you a maid. But I didn’t know what was going to happen to me. I was cleaning the room on the side table of the bed.” That when I saw the mirror of the dressing table in front of me, the room was empty at that time and there was a lot of heat and humidity in the room. The door of the room opened and I heard the click of the owner’s shoes. As soon as I wanted to drop the bell, the dupatta slipped from my hand and fell on the ground. The owner’s eyes were on me. My eyes were bright, my bad luck had already started. I quickly grabbed the dupatta from the ground and put it on myself and started to leave the room.

They said, O girl, wait here, as if you were lifeless, they came to me and said, You are the daughter of Hameed Kisan. He didn’t answer with his mouth, just nodded his head and said, “You have come out big, you and your mare are both very beautiful. Hearing this, my heart forgot to beat.” I came out of the room, quickly cleaned the rest of the mansion and went to my house. There are people who take the girl they like as their own. This made me cry all night. My mother was sick and on her death bed. So I had to go to work in the mansion. There I found out another thing that surprised me. will

I was surprised that the owners used to order such expensive mares from Pakistan for dollars and then after a few days they sold them at sati price. were Even today, when I heard this in the mansion, he said worriedly, “What can I do now? I have only one mare. The owner said, ‘I need another mare. My business is not complete with this one.'” Every night I want two mares

And now I will have to arrange it as soon as possible. Today I have a beautiful beauty in my eyes. My tears started to stand up, I was starting to feel ashamed, not knowing how boldly the master and mistress were talking, then the master’s eyes fell on me and she started looking at me with meaningful eyes. Their eyes were left blank in Pakkar, Four acid was upset and started leaving there with a broom. Mistress had felt my every big hit but said nothing.

Mir Adal was a little worried about the master’s words. It was evening time and it was time for me to go home. When I started to leave to go home, a servant came and told me that the master is calling me to his room as well. They are there and both of them have to talk to me about something important. I was losing my senses. I was feeling ashamed. I left without even looking back and regained my breath as soon as I reached home. I started to remember what they said that day and I didn’t know what they meant

But something was wrong. When I entered the yard of the house, my mare was tied in the yard as if she was waiting for me. Seeing her, a smile spread on my face. The mare was very small when my father brought her home. Apart from me, father had no children, I was alone, so I raised this mare, that mare was very dear to me.

But from the time my mother got out of bed, I used to earn my living by working at the owner’s house and every day I used to bring some money separately for the mare so that I could get fodder for my mare. was She used to listen and obey everything I said. The next day when I went to the mansion to work, the owner asked me to come to her room as soon as she saw me.

I was the daughter of a weak farmer of the village. I don’t know what she wanted to say to me. I had heard that the wives of the Chaudharis of the village send the maids of their husbands’ choice to their rooms. My heart was filled with fear. Well, there was no way to escape now, so I will enter the room behind the four mistresses. The mistresses were not there at that time. And asked me to sit with him

My face was full of air, I don’t know what was their purpose behind it. If you want a mare, we will give you whatever money you ask for, ten thousand, fifty thousand or one lakh, whatever price you ask for your mare for one night, the owner will pay you, but in return you have to give your mare to the owner.

He had also spoken to your father but he said that it is the property of the Rani, if the Rani gives permission, then he has no objection. After hearing the words of the owner, I lost my senses. When did the owner finally see my mare and Why were they asking for my mare for one night??? After all, what did they do with my mare? I remembered very well that a week before today I had taken my mare to the green market field on my holiday, the same owner was also there with his horse, and then I felt a twinge in his eyes.

Then they had praised me for my mare. They didn’t know what to do with the mares in the stable at night. There are already two mares and how many mares they bring here every week. What do they do with them? At first, the owner’s color turned pale after hearing my words, then her face became depressed and she said, “I’m sorry for her.” I can’t even tell you the reason, but if you accept my words, then I will definitely tell you the reason

But Mir O’al was not agreeing, I flatly refused. On my refusal, the expression on the face of the mistress was startled. But we always gave you the highest salary because the owner liked your mare. This was a matter of great surprise to me. I drove it back to my house. But when I entered the house, the owner of Shashad Dasi Rogi Malik was standing in my house at some distance from my mare and was talking to my father. Seeing me, he started asking me about my mare all the same things that the owner had asked today.

The owner’s eyes were on my mare, who was standing in the corner of the yard, looking like you. The owner walked up to my mare and wanted to touch her from above, but my mare was only used to my touch. Look at the mare close to me. He raised his front legs and wanted to hit the owner, but as soon as I forbade him, he stopped. .

This time my mare didn’t do anything to them that they started telling me that if I want, they can increase the money. I was worried that the owner might do something wrong with him. I forbade the owner. On my refusal, he immediately left our house angry.

I loved my mare more than my life. When I went to the mansion a few days later, the mistress was sitting in the front lounge. After seeing me, she started smiling and said, “You disappeared so much that you didn’t even turn around. Then she signaled to her maid and said she will go to the kitchen. Mistress asked me about my mother’s well-being. After a while, they started talking.” Her special maid brought me a glass of sherbet. I also grabbed that glass and drank the sherbet.

The atmosphere inside was very peaceful and the room was cool with AC. Mistress would take me to her bed. I didn’t know where I was and when I regained consciousness, my master’s purpose was accomplished. He had done everything he wanted with my mare during the night. When I regained consciousness, it was morning. There was a smile

They started saying today you have been a guest in our room and your mare is in the owner’s stable, my heart had forgotten to beat after hearing this, I took off the quilt from above me and threw it aside and she will run out of the mansion and run away. I took a breath when I reached the stable, my mare was drinking water and eating fodder and the face of the owner was shining with victory. Seeing me, they said, “You are entitled to double reward. You forbade your mare to kill me once that day.”

She will be my bearer. Then they gave me two hundred thousand cash and said, “You also have a right to my victory. Take it as a right. I have come to win a javelin fight. Hearing the word of a javelin, I looked at the master in surprise. They said, “I compete in javelin by riding two mares, but this time my Begum’s mare was not tall enough, so I wanted a mare of the same height as my mare, even in shape, and that something in your mare.” was present

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *