شادی ہوئی تو شوہر ہفتے بعد مجھے ہنی مون پر لے گیا رات ہوئی تو ہم شنگریلا ہوٹل میں ٹھہر گئے آدھی رات کو ہوٹل کا دروزہ بجنے لگا دروازہ کھولا تو ایک 12 سالہ لڑکا کھڑا تھا کہنے لگا میڈم باہر ٹھنڈ بہت ہے آج کی رات اگر پناہ مل جائے مجھے ترس آیا اس کو لا کر پاس بیڈ پر سلالیا آنکھ کھلی ہوش اُڑ گئے جسے بچہ سمجھ کر پاس لیٹا یا وہ تو ۔۔۔۔؟؟ 

مجھ جیسے خواب شاید بہت سی لڑکیوں کے ہوں۔ یا شاید ہر وہ لڑکی یہی خواب آنکھوں میں سجائے اپنے حجلہ عروسی میں۔ بیٹھتی تھی جو میں نے سجائے تھے کہ شادی کے چند دن بعد وہ شوہر کے ہمراہ ہنی مون پر جائے گی رونمائی کی انگوٹھی پہناتے ہوئے جب اسد نے مجھے سے یہ کہا ہم چند دن بعد ایبٹ آباد کے ٹور پر جائیں گے اور اس کے بعد کشمیر اور مانسہرہ بھی یہ سن کر تو میری آنکھیں ہی چمک گئی تھی میں نے آج تک کراچی کے باہر کچھ نہیں دیکھا تھا اس لیے مری ایبٹ آباد اسلام آباد مانسہر اوغیرہ جانا ایک حسین خواب جیسا تھا دو دن میں نے ہنی مون ٹور کے ہی خواب دیکھے تھے لیکن میری بری قسمت کہ جس دن ہمیں جانا تھا میری ساس سیریوں کی گرگی میرے شوہر بہن بھائیوں میں۔ سب سے بڑے تھے اس لیے وہ اپنی والدہ کو اس حالت میں چھوڑ کے جا نہیں سکتے تھے

پھر گھر کے واحد کفیل بھی تھے کیونکہ میرے سسر کا انتقال ہو چکا تھا میری ساس کے پاؤں کے فیکچر نے تو جیسے میرے ارمانوں پر پانی ہی پھیر دیا تھا میں جو اپنا پورا سامان پیک کیے بیٹھی تھی کہ پندرہ دن اسد کے ساتھ یاد گار بناؤ گی سب جگہ گھوموں  گی پھرو گی سیلفیاں بناؤ کر اپنی دوستوں کو جیلس فیل کرواں گی سارا پلان ہی چوپٹ ہو گیا تھا میں نے روتے ہوئے اپنا سامان بیگ سے نکالا تھا دو ماہ ساس کو بستر پر بیٹھا کر انکی خدمت کرتی رہی لیکن دل میں میرے ابھی بھی ہنی مون کی حسرت باقی تھی۔ تین ماہ کی انتھک خدمت کے بعد میری ساس اب بھلی چنگی ہو گئی تھی میں نے شوہر سے دوبارہ سے ہنی مون کی فرمائش کی میں نے ساس سے اجازت مانگی تو ساس نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ میری خدمت رنگ لے آئی تھی وہ مجھ سے بہت خوش تھیں

بڑی منتیں مرادوں کے بعد میری یہ خواہش پوری ہونے جارہی تھی جب ہم لوگ پنڈی جانے کے لیے ٹرین میں بیٹھے اس قدر خوش تھے جیسے میں نے پوری کائنات کو مسخر کر لیا ہو پورے ٹرین کے سفر میں میں اپنے شوہرسے یہی باتیں کرتی رہی کہ ہم یہاں بھی جائیں گئے وہاں بھی جائیں گئے میں چاہتی تھی کہ 15 دن کے ٹرپ کو میں خوبی انجوائے کروں کیونکہ جانتی تھی کہ اس کے بعد دوبارہ ایسا موقع مشکل سے ہی ملے گا اسلام آباد میں ہم دو دن رہے تھے اور فیصل مسجد اور اسلام آباد کی مشہور جگہوں کی خوب سیر سپاٹے کیے تھے ہمارا دوسرا پڑاؤ ایبٹ آباد تھا خو بصورت وادیوں کا منظر تھا وہاں ایک شنگریلہ ہوٹل پر ہم ٹھہرے تھے خوبصورت ہوٹل اور اس کے باہر کا منظر بھی بے حد حسین تھا لیکن شاید ہماری قسمت اچھی نہیں تھی دسمبر کی آخری تاریخیں تھیں اور جنوری کی ابتدا ہونے والی تھی

سردی کی شدت کے ساتھ ساتھ برف باری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا میں جو گھومنے پھرنے کے پلان بنا کر آئی تھی برف باری اور سردی کی شدت کی وجہ سے کمرے سے باہر بھی نکلنے کو تیار نہ تھی اس پر یہ ستم کہ گرم پانی کی سہولت بھی جاچکی تھی کیونکہ سوئی گیس پائپو میں جم چکی تھی اور کچھ میں شروع سے کراچی میں رہی تھی اس لیے نہ تو زیادہ گرمی برداشت کرنے کی عادت تھی نا ہی اتنی سخت سردی لیکن اس ٹرپ میں جو کچھ میرے ساتھ ہو اوہ ناقابل فراموش باتیں تھیں لوگوں کو اپنا ہنی مون ڈرپ پیاد محبت بھری باتوں اور خوبصورت مناظروں سے یادر ہتا ہو گا لیکن مجھ پر پڑنے والی پے در پہ مصیبتوں نے مجھے یہ ٹرپ کبھی بھی بھولنے نہیں دیا کیونکہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا تھا وہ ایک ناقابل برداشت حقیقت تھی

جیسے جیسے دن گزر رہے تھے برف باری کا سلسلہ بھی بڑھتا جارہا تھا درجہ حرارت نقطہ منجمد سے بھی کرچکا تھا اب تو برف اس قدر زیادہ ہو چکی تھی کہ سڑکیں برف سے بلکل ڈھک چکیں تھیں یہاں تک کہ آنے جانے کے راستے تک بند ہو چکے تھے ہوٹل میں کمرہ نہیں مل رہا تھا لوگوں کی گاڑیاں راستوں میں ہی پھنس چکی تھی بہت سے حادثات کی اطلاع ہمیں مل رہی تھیں میرا شوہر اسد ہے حد پریشان تھا کہہ رہا تھا کہ اس بار اتنی برف باری ہونے سے سنا ہے کہ کئی سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے میں سردی سے ڈبل رضائی میں بھی کپکپا رہی تھی آتش دان کی آگ بھی کمرے میں حدت پیدا کرنے کے لیے ناکافی تھی اسد نے کہا کہ تم کمرے میں بیٹھو میں کھانے پینے کے لیے کچھ سامان لے آتا ہوں کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق دو چار دن برف باری بہت زیادہ پڑھے گی

 ہوسکتا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کے بھی لالے پڑ جائیں بہتر ہے کہ ہم اپنا انتظام کر لیں بات تو ٹھیک ہی تھی میرے شوہر ہوٹل کے کمرے سے نکل کر چلے گئے دوپہر کے 12 بج رہے تھے لیکن سورج نہ ہونے کے برابر ہی نکلا تھا نکلتا بھی تھا تو بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا تھا میری اس وقت ہوا ہوئی جب شام کے گہرے سائے رات میں بدلنے لگے برف باری بھی زوروں سے شروع ہو چکی تھی پہلے کی نسبت آج برف باری کی شدت زیادہ تھی مجھے اسد کی فکر ہونے لگی وہ ابھی تک واپس نہیں آئے تھے کئی گھنٹے گزر چکے تھے میرے دل میں ہزار قسم کے وسوسے آنے لگے میں نے اپنے اوپر گرم شال لپیٹی اور ہمت کر کے کمرے کی کھڑکی تک آئی تھی بھوک بھی شدت سے لگ رہی تھی کیونکہ صبح کا ناشتہ ہی کیا تھا اسد نے کہا تھا کہ میں ہوٹل سے کچھ نہ منگواؤں

کیونکہ ہر چیز تین گناہ زیادہ قیمت پر مل رہی تھی لیکن جیسے ہی میں نے کھڑکی کے سامنے سے پردہ ہٹا یا سامنے کا منظر دیکھ کر میری جان نکل گئی تھی سامنے لگے درخت تک برف سے چھپ گئے تھے برف باری پچھلے کئی گھنٹوں سے بدستور ہو رہی تھی اب تو میرا دل پریشان سا ہونے لگا تھا جس قدر برف باری بڑھ چکی تھی راستے بند ہو چکے تھے یقینا میرا شوہر جہاں بھی تھا وہاں بری طرح سے پھنس چکا تھا فون کی سروسز بھی نہیں آرہی تھیں میں نے کئی بار اپنے شوہر کے موبائل پر کال کی تھی لیکن موبائل مسلسل بند تھا میری زندگی تو مفلوج ہو کر رہ گئی تھی  بھوک بھی بہت زیادہ لگ رہی تھی کھانے کو بھی کچھ نہ تھا اس پر یہ ستم کے میرا شوہر بھی ابھی تک نہیں آیا تھا اور نہ ہی میرا اس سے کوئی رابطہ ہو رہا تھا میں بے حد پریشان تھی ابھی میں انہی چیزوں سے گھبرارہی تھی

کبھی دل میں یہ خیال آتا کہ کہیں اسد کے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آگیا ہو کیونکہ اکثر برف باری کی وجہ سے حادثات کی خبریں مل رہی تھیں کبھی یہ دل میں خیال آتا کہ ہو سکتا ہے کہ جہاں وہ سامان لینے گئے ہوں وہی رک گئے ہوں کہ برف باری روکے گی تب ہی نکلیں گئے دل ہی دل میں میں اپنے شوہر کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی اور یہ بھی دعا مانگ رہی تھی کہ وہ جلد از جلد میرے پاس آجائے کیونکہ میں اکیلی تھی میر ادل بار بار خوف کے ہلکورے کھا رہا تھا کہ اچانک سے میرے کمرے کی لائٹ بند ہو گئی میری تو جان ہی نکل گئی تھی ایک تو شدید برف باری اوپر سے آتش دان بھی بالکل بند ہو چکا تھا لکڑیاں بھی راکھ بن چکی تھی کمرے میں سردی کی شدت بڑھ چکی تھی شوہر بھی میرے پاس نہ تھا اور اس پر شاید برف باری کی شدت نے بجلی کو متاثر کر دیا تھا

 کمرے میں یک دم ہی گھپ اندھیرا ہو چکا تھا میں کمرے کی چیزوں کو ٹولتے ہوئے بیڈ تک پہنچی تھی اور دوبارہ سے رضائی میں گھس گئی میری برداشت ختم ہو چکی تھی اس لیے اب میں رونے لگی تھی اوررو کے دعا مانگ رہی تھی کہ اللہ کرے اسد آ جائے بھوک کے مارے میری جان بھی نکل رہی تھی کہ اچانک سے میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں بری طرح سے چونک گئی تھی اس گھپ اندھیرے میں کہاں جاتی میں نے بیڈ پر ہی ذرا سی آواز نکال کے پوچھا کہ کون ہے ہوٹل کا ویٹر تھا کہنے لگا کہ آپ نے اگر کھانا کھانا ہے تو کھا لیں کیونکہ صبح سے آپ کے کمرے سے کوئی بھی کھانے کا آرڈر نہیں آیا میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے ایک پلیٹ کھانا لا دو کچھ ہی دیر میں میرے کمرے کا دروازہ دوبارہ کھٹکا تھا کھانا آچکا تھا میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ویٹر ٹرے میں کھانا لیے ہوئے تھا   

میں نے ٹرے اندر کی تو وہ مجھے سر سے پیروں تک دیکھنے لگا کہنے لگا آپ کے شوہر کہاں ہیں صبح سے نظر نہیں آرہے اس کی بات سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کسی نےمیرا دل  مٹھی میں مسل دیا ہو کیا وہ ہماری جاسوسی کر رہا تھا کہ میرا شوہر کمرے سے کب گیا ہے اور کب واپس آتا ہے میں نے کہا کہ وہ کسی کام سے گئے ہیں کچھ ہی دیر میں واپس لوٹ آئیں گئے میری بات سن کر وہ کہنے لگا کہ جتنی باہر برف باری ہو رہی ہے تمام راستے بند ہو چکے ہیں بی بی کھانا کھاؤ اور لمبی تان کر سو جاؤ شوہر تمہارا صبح سے پہلے تو یہاں آنہیں سکتا مجھے ویٹر کا یہ انداز بہت ہی برا لگا تھا میں نے دھڑ سے دروازہ بند کیا بمشکل ہی میں نے آدھا ہی کھانا کھایا تھا بار بار اسد کے بارے میں سوچ کر مجھے جس قدر ڈپریشن ہو رہا تھا مجھ سے کھانا تک نہیں کھایا جا رہا تھا

حالانکہ مجھے بھوک بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی موبائل کی کچھ سگنل آئے تو مجھے اسد کا میسج موصول ہوا کہ وہ راستے میں پھنس چکا ہے صبح سے پہلے نہیں آسکتا لیکن پھر بھی وہ کوشش کرے گا جیسے ہی راستے صاف ہوئے تو وہ جلد مجھ تک پہنچ جائے گا میں جتنی پریشان تھی اسد کا یہ میسج میرے اندر جیسے زندگی لے آیا تھا کہ وہ جہاں بھی ہے محفوظ ہے بالکل ٹھیک ہے بہر حال میں نے کھانا کھایا اور پھر اپنی رضائی میں کھس گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی ایک تو مجھے اکیلے سونے کی عادت بھی نہ تھی پورا کمرہ خالی تھا اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا صرف موبائل کی ٹارچ لائٹ تھی وہ بھی بیٹری ختم ہوتے ہی گل ہو چکی تھی مجھے ابھی نیند آئی ہی تھی کہ میرے کمرے پر بڑی زور سے دستک ہوئی تھی

میں ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی رات کے اس پہر کون ہو سکتا تھا شاید اسد واپس آچکا تھا اس سوچ نے تو میرے اندر جیسے کوئی توانائی سی بھر دی تھی میں نے جھٹ سے خود سے رضائی ہٹائی گرم شال لپیٹی اور سردی کے مارے تھر تھراتے قدموں سے چلتی ہوئی ٹول ٹٹول کر کمرے کے دروازے تک پہنچی تھی بنا پوچھے ہی میں نے دروازہ کھول دیا میرے سامنے ایک 12 سالہ بچہ تھا جو بری طرح سے سردی سے کانپ رہا تھا کہنے لگا مجھے ایک رات کے لیے اپنے کمرے میں رکھ لو بی بی ورنہ سردی کے مارے میں مر جاؤں گا پہلے تو میں نے انکار کر دیا میں بھلا کیسے کسی لڑکے کو اپنے کمرے میں رکھ سکتی تھی پھر اسد بھی کمرے میں نہ تھے اگر وہ ہوتے تو شاید میں یہ بھلا کر بھی دیتی وہ بیچار امیری منت سماجت کرتا رہا میں مسلسل انکار کرتی رہی 

وہ میر ا دروازہ چھوڑ کر آمنے سامنے کے جتنے بھی کمرے تھے سب سے مدد مانگتا رہا لیکن کسی نے بھی اس کی مدد نہیں کی تھی بڑا مایوس ہو کر وہ وہاں سے چلا گیا میں دوبارہ سے اپنے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی لیکن میرے دل میں یہ ملال سا ہونے لگا کہ وہ 12 سال کا بچہ میرا بھلا کیا بگاڑ سکتا تھا ایک رات کی ہی تو بات تھی بلکہ آدھی رات ویسے ہی بیت چکی تھی صرف چند گھنٹوں کی بات تھی اگر میں اسے کمرے میں رکھ لوں تو صوفے میں پڑا پڑا سو جائے گا جیسے ہی صبح ہو گی وہ نکل جائے گالیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ 12 سالہ چھوٹا بچہ میرے ساتھ یہ سب کر گزرے گا کہ ۔۔۔؟؟  میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا وہ بچہ سامنے درخت کی اوٹ میں بیٹھا ہوا بری طرح سے کانپ رہا تھا میر ادل اسے دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا شاید غریب مزدور بچہ تھا جو یہاں پھنس گیا تھا

پہلے تو میں نے اسے کھڑ کی سے ہی اشارے کیے کہ وہ مجھے دیکھ لے اور پھر میں اسے اپنے کمرے میں آنے کا اشارہ کر دوں لیکن وہ بچہ اپنے گھٹنوں پر بازوں پھیلائے سکڑ کر بیٹھا شاید سردی برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرے دل سے یہ خیال گزرا کہ اگر یہ مر گیا تو شاید میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی میں نے اپنی جیکٹ پہنی اور خود کو جتنا لپیٹ سکتی تھی لپیٹ کر اپنے کمرے سے باہر نکل گئی جیسے ہی ہوٹل سے باہر گئی سرد ہوا کے تھپڑوں نے مجھے کانپنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن مجھے اس بچے کو بچانا تھا اس لئے موسم کی پروا کیے بغیر ہی میں ہوٹل کے باہر کھڑی ہو کر اسے بچے کو پکارنے لگی اس وقت باہر بس ہوا کا ہی شور تھا اس لڑکے کی نظر مجھ پر پڑ چکی تھی میں نے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا وہ اٹھ کر چلتا ہوا میرے پاس آگیا

 میں نے اس کا سرد ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے آئی میں نے کہا تم رات یہاں رہ سکتے ہو وہ یہ سن کر خوش ہو گیا میرے پاس کوئی بھی ایکسڑا کمبل یارضائی نہیں تھی میں نے اپنی گرم شال اسے دی اور کہا کہ وہ صوفے پر سو جائے لیکن وہ کہنے لگا کہ وہ آتش دان کے پاس قالین پر ہی سو جائے گا وہاں۔ اسے ٹھنڈ کم لگے گی میں بھی مجبور تھی کیونکہ ڈبل رضائی بس میرے بیڈ پرہی موجود تھی وہ آتش دان کے پاس جا کر لیٹ گیا میں بھی اپنے بیڈ پر جا کر لیٹ گی گرم رضائی میں بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ھو رہی تھی پھر وہ بچہ تو اتنی سردی میں۔ بس ایک شال اوڑھے ہی لیٹا تھا  میں نے سوچا چھوٹا بچہ ہی تو ہے بیڈ کے ایک کونے میں سو جائے گا مجھے اس بچے سے کیا خوف ہو سکتا ہے میں نے اس سے کہا کہ سردی بہت زیادہ ہے اس لئے تم بیڈ پر آکر ایک کونے میں لیٹ جاؤ

 میرا یہ کہنا تھا کہ وہ فورا سے اٹھ کر بیڈ پر آکر لیٹ گیا ڈبل رضائی میں بھی وہ کانپ رہا تھا کچھ دیر بعد ہی اس کے وجود سے کپکپی ختم ہوئی تھی میں بھی کروٹ بدل کر سو گئی لیکن ابھی میں گہری نیند میں گئی تھی کہ جب اس لڑکے نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر میری آواز کو دبانے کی کوشش کی اور پھر میرے ساتھ ۔۔۔۔ میرے دونوں ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے منہ پر بھی رومال باندھ کر مجھے صوفے پر بیٹھا دیا گیا تھا اس وقت میرے کمرے میں اس بچے کے علاؤہ دو مرد اور تھے جو میرے سامان کی تلاشی لے رہے تھے اور اس میں سے قیمتی زیورات اور نئے کپڑے نکال نکال کر اپنے ساتھ لائے بورے میں ڈال رہے تھے وہ بچہ ایک چور تھا اور اسکے دو ساتھی اور بھی تھے جو مل کر چوری کرتے تھے  وہ لڑکا یہاں کا رہائشی تھا اس لئے یہاں کے موسم کا اثر اس پر اتنا نہیں ہوتا تھا  

جتنا کہ ہم جیسے دوسرے شہروں سے آئے لوگوں کو ھوتا تھا وہ یو نہی لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے خود کو مظلوم ثابت کرتا تھ تاکہ لوگ اسے اپنے ہوٹل کے کمرے میں پناہ دیدے رات کو پھر اس کے ساتھی بھی آجاتے تھے اور پھر سامان چوری کر کے چلے جاتے تھے میری جہز اور بری کے سارے قیمتی جوڑے وہ لوگ نے کر جاچکے تھے میں رورہی تھی صبح جب میرا شوہر والیس آیا تو کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا وہ ڈر گیا جب اندر داخل ہوا تو مجھے بندھا دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا کیونکہ میں اب بھی رسیوں سے بندھی صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی میرے شوہر نے فورا سے مجھے رسیوں سے آزاد کر وایا اور مجھ سے۔ پوچھنے لگا کہ یہ سب کس نے کیا میں نے ساری بات بتائی تو مجھے ہی الٹا ڈانٹنے لگا

 کہ میں نے کیوں پناہ دی غلطی شاہد میری ہی تھی مجھے یوں انجان جگہ پر کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا بہر حال بہت بڑا نقصان تھا جو ہو چکا تھا جیسے ہی راستے صاف ہوئے میرا شوہر مجھے واپس کراچی لے آیا اور پورے راستے مجھ سے یہی کہتا رہا کہ آئندہ کبھی بھی مجھے ہنی مون پر نہیں لیکر جائے گا۔ گھر پہنچ کر ساس نے الگ طعنے دیے تھے کہ سونے کے زیورات ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی بہر حال میری بہت بے عزتی ہوئی میں نے اس کے بعد خود ہی ہنی مون پر جانے سے توبہ کرلی

Going on Honeymoon is very Expensive

After the wedding, my husband took me on honeymoon after a week. It was night and we stayed at the Shangri-La hotel. At midnight, the hotel door rang. A 12-year-old boy was standing there and said, “Madam, it’s very cold outside. Tonight, if you take shelter.” I felt sorry for him, brought him and laid him on the bed.

Many girls probably have dreams like mine. Or maybe every girl has the same dream in her eyes in her wedding dress. I was sitting where I had arranged that a few days after the wedding she would go on honeymoon with her husband wearing the engagement ring when Asad told me that we would go on a tour to Abbottabad after a few days and then Kashmir. And Mansehra too my eyes were lit up after hearing this, I had not seen anything outside of Karachi until today, so going to Muri Abbottabad, Islamabad, Mansehra and other places was like a beautiful dream. For two days, I dreamed of a honeymoon tour. But it was my bad luck that the day we were to go, my mother-in-law was among my husband’s siblings. He was the eldest, so he could not leave his mother in this condition

Then there were also the only sponsors of the house because my father-in-law had passed away. My mother-in-law’s leg fracture had turned my dreams like water. I will roam everywhere, I will take selfies and make my friends feel jealous. The whole plan was broken. I took out my belongings from the bag while crying. I sat on my mother-in-law’s bed for two months and served her, but in my heart There was still nostalgia for the honeymoon. After three months of tireless service, my mother-in-law was now fully recovered. Was happy

After a lot of vows, this wish of mine was going to be fulfilled when we were sitting in the train to go to Pindi and were so happy as if I had conquered the entire universe. I wanted to enjoy the 15-day trip because I knew that I would hardly get such an opportunity again after that. We stayed in Islamabad for two days and visited Faisal Mosque and Islamabad. Our second stop was Abbottabad, but it was a view of the valleys. had deadlines and January was about to begin
Along with the severity of the cold, the snowfall had also started. I, who had planned to go for a walk, was not ready to leave the room due to the snowfall and the severity of the cold. The facility was also gone because the needle gas had frozen in the pipe and I had been in Karachi since the beginning, so I was not used to bear too much heat or so much cold, but whatever happened to me in this trip was unforgettable. It was said that people will remember my honeymoon trip with love stories and beautiful scenery, but the series of troubles that befell me never let me forget this trip because what happened to me was an unbearable reality. was

As the days were passing by, the snowfall was increasing, the temperature had dropped below freezing, and now the snow was so heavy that the roads were completely covered with snow, even the roads were blocked. We were not getting a room in the hotel. People’s cars were stuck on the roads. We were getting reports of many accidents. My husband Asad was very worried. The record is broken, I was shivering even in double razee because of the cold. Even the fire of the fireplace was not enough to create warmth in the room. Two or four days of snowfall will read a lot

Maybe we need to eat and drink, it is better that we take care of ourselves. It was okay. My husband left the hotel room. It was 12 noon, but the sun was almost out. I used to hide in the clouds. It happened when the dark shadows of the evening started to change into night. It started snowing heavily. Today the intensity of the snow was more than before. They had not returned yet. Many hours had passed in my heart. I wrapped a warm shawl on myself and bravely came to the window of the room. I was also very hungry because I had breakfast in the morning. Tha Asad had said that I should not order anything from the hotel

Because everything was available at three times higher price, but as soon as I removed the curtain from the window or saw the front view, I lost my life. The tree in front was covered with snow. It has been snowing continuously for the past several hours. Now my heart was getting worried as the snow had increased, the roads were blocked, of course my husband was badly stuck wherever he was, the phone services were not coming. I called my husband many times. I called the mobile phone but the mobile phone was constantly switched off. My life was paralyzed and I was very hungry. I was very worried, I was afraid of the same things

Sometimes I thought in my heart that there was no accident with Asad because there were often reports of accidents due to snowfall. I was praying for the safety of my husband and also praying that he would come to me as soon as possible because I was alone. I was eating when suddenly the light in my room was turned off. I lost my life because of the heavy snow. I didn’t have it either and maybe the intensity of the snowfall affected the electricity

The room was suddenly dark, I reached the bed while sorting the things in the room and fell into the bed again. Asad come, my life was dying because of hunger, suddenly there was a knock on the door of my room, I was badly shocked. The waiter said that if you want to eat then eat because no food order has come from your room since morning. There was a knock again, the food had arrived, I opened the door and the waiter was carrying the food in the tray.

I put the tray in and he started looking at me from head to toe and said where is your husband, he hasn’t been seen since morning, I felt as if someone had grabbed my heart, was he spying on us? When did my husband leave the room and when does he come back? I said that he had gone for some work. He came back after a while. After listening to my words, he said that as it is snowing outside, all the roads should be closed. It’s done, baby, eat and sleep long. Your husband can’t come here before morning. I felt this way of the waiter was very bad. I was getting so depressed thinking about it that I was not even able to eat

Although I was very hungry, I received a message from Asad that he was stuck on the road and could not come before morning, but he would try as soon as the roads were clear. I will reach, I was so worried that this message from Asad brought life to me that he is safe wherever he is. Anyway, I ate my food and then slipped into my comfort and started trying to sleep. I was not even used to sleeping alone, the whole room was empty and it was dark, there was only the flashlight of the mobile phone.

I was sitting up with a big heart. Who could it be at this time of the night? Perhaps Asad had returned. This thought filled me like some energy. I walked to the door of the room and without asking, I opened the door. In front of me was a 12-year-old boy who was shivering badly from the cold. B. Otherwise, I will die from the cold. At first I refused. How could I keep a boy in my room? Then Asad was not in the room. If he was, I would have forgotten that poor Amirimant. I kept insisting and kept refusing

He left my door and kept asking for help from all the rooms in front of him, but no one helped him. He was very disappointed and left there. I sat on my bed again, but in my heart. It started to become boring that what could that 12-year-old child do to me. It was only a matter of one night, but the middle of the night had already passed. It was only a matter of a few hours. If I put him in the room, he was lying on the sofa. He will go to sleep as soon as morning comes, but I didn’t know that that 12-year-old kid will go through all this with me. I looked out of the window and saw that child sitting in front of the tree and shivering badly.

At first I gestured to him from the floor to see me and then I gestured him to come to my room, but the child sat down with his arms spread out on his knees, probably trying to bear the cold. The thought crossed my mind that if it died, I might never be able to forgive myself. His slaps made me shiver but I had to save this child so regardless of the weather I stood outside the hotel and started calling him the child. She had fallen on me. I signaled her to come towards me. She got up and walked towards me

I took her cold hand and brought her to my room, I said you can stay here for the night, she was happy to hear that, I didn’t have any extra blankets or blankets, I gave her my warm shawl and told her to sit on the sofa. But he said that he would sleep on the carpet near the fireplace. He will feel cold, I was also forced because Double Rezai was just on my bed, he went to the fireplace and lay down, I will also go to my bed and lie down, I was feeling cold even in warm Rezai, then that child. In such a cold. I was just lying down with a shawl on. I thought that the little child would sleep in a corner of the bed. What can I be afraid of this child? I lie down

I meant to say that he immediately got up and lay down on the bed. Even in double rezai, he was shivering. After a while, the shivering stopped. That when this boy tried to suppress my voice by putting his hand on my mouth and then with me. Both my hands were tied behind my back and I was made to sit on the couch with a handkerchief over my mouth. At that time, there were two other men in my room besides the child who were searching my belongings, including valuable jewelry and new ones. They were taking out their clothes and putting them in a sack with them. That boy was a thief and he had two other companions who used to steal together.

As much as it happened to people like us from other cities, he used to prove himself as a victim to gain the sympathy of the people so that people sheltered him in their hotel room. They used to steal away my dowry and all the precious pairs of bras. They had done it. I was crying. When my husband Wallace came in the morning, the door of the room was a little open. He was afraid when he entered to see me tied up. He got worried because I was still sitting on the sofa tied with ropes and crying. My husband immediately freed me from the ropes and from me. He started asking who did all this. When I told the whole thing, he started scolding me

Why did I take shelter? It was my fault. I shouldn’t have trusted anyone in such an unknown place. However, there was a lot of damage that had been done. As soon as the roads were clear, my husband brought me back to Karachi and accompanied me all the way. He kept saying that he will never take me on a honeymoon. On reaching home, my mother-in-law scolded me that what was the need to take gold ornaments with me, however, I was very disrespected, after that I repented of going on the honeymoon myself.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *