کالی گھوڑی اور میرا دیوار

دیور کالی گھوڑی کی سواری کرنے کا شوقین تھا میری گھوڑی بھی کالی تھی روز کہتا بھابی آپ کی گھوڑی پر کب سواری کروں گا میں بچہ سمجھ کر چپ کر جاتی اور شرم کے مارے اُسے کچھ نہ کہتی مگر ایک رات ایمر جنسی بن گئی دیور کو بولا تو کہنے لگا بھابی پہلے کالی گھوڑی اس رات میرے ہوش اُڑ گئے جسے بچہ سمجھ بیٹھی تھی ہو۔۔۔

میں اپنے دیور کے منہ سے ایسی بات سن کر حیران رہ گئی۔ وہ بمشکل سولہ سال کا لڑکا مجھ سے ایسی فرمائش کرے گا میرے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ میر ادیور مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھتا جار ہا تھا۔ اسے مجھ سے جواب چاہئیے تھا اور مجھے تو اس کی بات ہی پریشان کر گئی تھی میں کیا جواب دیتی۔۔ میں نے اسے نظر انداز کر کے بات بدل دی اور شکر کیا کہ گھر میں کسی اور نے اس کی بات نہیں سنی ورنہ اس کی خیر نا ہوتی۔۔ لیکن وہ ڈھیٹ بنار ہا اور کچھ دن بعد پھر سے میرے سامنے وہی فرمائش کرنے لگا۔

بھا بھی مجھے ہمیشہ سے کالی گھوڑی کی سواری کا شوق ہے آپ مجھے اپنی گھوڑی پر بیٹھنے کا ایک موقع تو دیں۔۔ میں آپ کو خوش کر دوں گا وہ با قاعد و منتوں پر اتر آیا تھا۔ اس کی بات پر مجھے شدید جھٹکالگا شوق تھاوہ بھی ہمیشہ سے ؟ مجھے خوش کر دے گا؟ مجھے اسکی باتیں بڑی عجیب لگی تھیں میں نے اس سے پھر بھی لحاظ سے بات کی کیا مطلب تم کب سے یہ سب کر رہے ہو ۔۔ ؟؟ میں نے کچھ گھبرا کر سوال کیا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ ایسے شوق پالنے لگا تھا۔

میں جانتی تھی گھر والوں میں سے کسی کو بھنگ بھی پڑ جاتی تو قیامت ہی بھر پا ہو جاتی کوئی بھی اس کے شوق سے واقف نہیں تھا۔۔ کیونکہ سب ابھی تک اسے بچہ سمجھتے تھے اور لاڈ پیار سے رکھتے تھے ابھی۔ اسے پڑھائی کی طرف ہی توجہ دینی چاہیے اور وہ تھا کہ نا جانے کس قسم کے آوارہ لڑکوں میں بیٹھنے لگا تھا جو یہ فرمائش کر گیا تھا۔ بس دو سال ہوئے ہیں کہ مجھ میں یہ شوق پیدا ہوا اور میں نے اپنا یہ شوق سب سے چھپ کر پورا کیا ہے مگر جیسی آپ کی گھوڑی ہے وہ کبھی نہیں ملی ، آپ مجھے ایک بارا جازت دے دیں وعدہ کرتا ہوں گھر میں کسی کو نہیں پتا چلے گا۔۔ 

وہ راز داری سے بولتے ہوئے شرارت سے آنکھ مار کر بولا۔۔ میں شرمندہ سی ہو گئی۔ میرا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا ” تم جانتے ہوا گر کبھی گھر میں کسی کو تمہارے اس شوق کے بارے میں پتا چلا تو تمہاری خیر نہیں ہو گی۔۔ تمہیں اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہئیے ابھی تمہاری اتنی عمر نہیں ہے۔۔ میں نے اسے  سمجھانا چاہا۔ میرے شوہر بہت سخت مزاج آدمی تھے۔ اگر انہیں اندازہ ہو جاتا کہ ان کا چھوٹا بھائی پڑھائی چھوڑ کر ان کاموں میں لگا ہوا ہے تو وہ اس پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نا کرتے۔۔ میری فکر پر وولا پروائی سے کندھے اچکا گیا۔ کہنے لگا اب آپ مجھے زبردستی پر اکسا رہی ہیں بھا بھی میرا بھی وعدہ ہے آپ سے آپ کی کالی گھوڑی پر میں ضرور بیٹھوں گا

 اور وہ کر کے دیکھاوں گا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گئیں آپ مجھے بچہ نا سمجھیں مجھے تو لگا تھا کہ آپ میر اساتھ دیں گئیں ” کسی کو پتا نہیں چلے گا، بس ایک بار کی بات ہے ، لیکن آپ نے تو میری بات کا مان تک نہیں رکھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی تو اس کی ضد پر میں مزید پریشانی میں مبتلا ہونے لگی۔ ” یہ شوق پھر ایک بار پر ختم نہیں ہو گا۔۔ ایک بار تم نے یہ شوق پورا کیا تو پھر تم روز یہی خواہش کرو گے اور تمہارا شوق بھی بڑھتا جائے گا۔۔ تمہارے بھائی کو پتا چلا کہ میں نے بھی تمہارا پورا پورا ساتھ دیا ہے تو وہ مجھے ہولےگا اور تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ جو کہ ناکام ہی رہ گئی ” نہیں بھا بھی میں آپ کو بار بار تنگ نہیں کروں گا،

 میں وعدہ کرتا ہوں بھائی کو پتا نہیں چلنے دوں گا۔۔ رات کے وقت ہمارے فام ہاؤس میں کوئی نہیں ہوتا، ہم وہاں چلے جائیں گے ۔ بس کچھ منٹ کی بات ہے۔۔“ وہ اپنی ضد پر قائم تھا مگر میں اس کی ضد پوری نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے خوف تھا کہ کسی کو پتا چل جائے گا۔۔ یہ بات چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ اچھادیکھتے ہیں۔ میں نے اس سے جان چھڑواتے ہوئے کہا اور گھر کے کاموں میں خود کو مصروف کر کیا۔ مجھے لگا تھا وہ چھوٹا بچہ ہے جلد یہ بات بھول جائے گا مگر اس نے صرف دو تین دن انتظار کیا اور پھر سے میرے سر پر سوار ہو گیا۔ میں اب مشکل میں پڑ گئی تھی۔ میرے لیے اسے ٹالنا مشکل ہو رہا تھا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک روز مجھے شام کے وقت اپنی ماں کے شدید بیمار ہو جانے کی اطلاع ملی۔

 میری بہن نے کال کر کے بتایا کہ ماں کی طبیعت بہت بگڑ گئی ہے اور وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔ میں بہن کی بات سن کر حواس باختہ ہو گئی تھی۔ میرے شوہر اس روز گھر یر نہیں تھے اور مجھے اپنی ماں سے ملے بغیر چین نہیں آنا تھا۔ ایسے ایمر جنسی کے موقع پر مجھے اپنے دیور کا خیال آیا۔ میں نے اپنے شوہر سے کال کر کے اجازت لی تو انہوں نے بھی اجازت دے دی کہ میں ان کے چھوٹے بھائی کے ساتھ جا کر اپنی ماں سے مل آؤں۔۔ میں نے اپنے دیور سے جا کر درخواست کی کہ وہ مجھے میری ماں سے ملوانے لے چلے ، وہ بہت بیمار ہیں۔۔ میرے دیور نے میری مجبوری سنی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، اس نے بدلے میں فور ا پنی شرط رکھ دی۔ ٹھیک ہے بھا بھی میں آپ کو لے جاؤں گا مگر پہلے کالی گھوڑی کی سواری پھر کوئی اور کام۔۔ 

اس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ پہلے تو مجھے اس کی شرط سن کر شدید ناگواری کا احساس ہوا مگر پھر بچھ سمجھ کر خاموش رہی اور کچھ سوچ کر اس کی شرط مان لینے پر مجبور ہو گئی۔ اگر کوئی اور موقع ہوتا تو میں اکیلی چلی جاتی مگر شام کے وقت میں اکیلی نہیں جاسکتی تھی، اگر اب اکیلی چلی بھی جاتی تو میرے شوہر بعد میں غصہ کرتے اور میرا بھی ناجانا بھی ممکن نہیں تھا۔ میں نے فوراحامی بھر لی۔ وہ مجھے لے کر گھر سے نکالا اور اپنے گھر سے کچھ فاصلہ پر بنے چھوٹے سے فام ہاؤس پر لے گیا۔ اسے پہلے اپنا شوق پورا کرنا تھا اور پھر مجھے میری ماں کے گھر لے جاتا ۔۔ میں ڈری ہوئی تھی کہ یوں شام ڈھلے کسی نے ہمیں یہاں دیکھ لیا تو مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔۔ میر ادیور پر جوش تھا۔  

اس رات اپنے دیور کی تیز رفتاری دیکھ کر میرے تو ہوش اڑ گئے۔ جسے میں بچہ سمجھ رہی تھی اس نے تو میری آنکھیں کھول دی تھیں۔۔ میری جب شادی ہوئی تومیرا اور دیور گھر بھر کا لاڈلا اور چھوٹا تھا۔ سب کو ہی وہ چھوٹا بچہ لگتا تھا ۔ اس تھا،اس کے لیے ہر وقت خاص احتیاط اور پر واہ کی جاتی تھی۔ میرے شوہر اور ان کے بڑے بھائی میرے چھوٹے دیور کو ہر کام سے دور رکھتے اور صرف پڑھا رہے تھے۔ مجھے بھی وہ صرف ایک نٹ کھٹ سا بچہ لگتا تھا۔ شروع میں تو وہ میرے سامنے آنے سے بھی جھجک جاتا تھا۔ اس کی شرم کو دیکھتے ہوئے مجھے ہنسی آتی تھی اور وہ مجھے مزید بھولا بھالا لگنے لگتا تھا۔ 

مگر جب اس کی مجھ سے جھجک اتری اور کچھ دوستی ہوئی تو اس کی باتیں مجھے حیران کر گئیں۔ اس کے سب شوق اور کام بڑوں والے تھے۔ پڑھائی سے زیادہ اس کی توجہ دوسرے کاموں میں تھی۔ اتنی سی عمر سے ہی وہ خاندان کی لڑکیوں کے سامنے ہر وقت شیخیاں بگھارتارہتا تھا۔ وہ پیارا بھی تھا اس لیے سب سے توجہ پا کر نخرے میں رہتا۔۔ کیونکہ ہمار اویسی ماحول تھا تو میری نظر میں اس کی عمران باتوں کے لیے بہت چھوٹی تھی۔ اس عمر میں ہی اس کا لڑکیوں کے سامنے بن سنور کر رہنا اور لڑکیوں کا اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا مجھے عجیب لگتا تھا۔ پھر مجھے قصے سناتا کہ دیکھ لیں آپ کے دیور کو ابھی سے لڑکیاں لائن کراتی ہیں وہ اپنے کالر کھڑے کر کے اتراتے ہوئے کہتا میں بھی اسکی بات پر ہنس پڑتی.

اصل میں میرے ساس سسر تھے نہیں دو سال پہلے ہی ان کا بس کے حادثے میں انتقال ہو چکا تھا میری شادی بعد میں ہوئی تھی جب میری شادی ہوئی تو گھر میں بس شوہر اور ایک دیور ہی تھا ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے میری شادی کو شوہر کافی سخت مزاج تھا جب تک میراشوہر گھر پر ہوتا تو میرے ساتھ ساتھ میرے دیور کا بھی سانس رکار ہتا جیسے ہی وہ کام سے جاتا دیور میرے سر پر سوار ہو جاتا کبھی اسکول کی کبھی خاندان کی کبھی اپنے شوق کی اس کے پاس باتوں کا ذ خیر و ہوتا تھا میں بھی اسکی سنتی رہتی کہ بچہ ہے وہ بھی بن ماں کا۔ ایک روز اس نے مجھے سے نہایت عجیب فرمائش کر دی، وہ بولا کہ وہ کالی گھوڑی کی سواری کا بہت زیادہ شوقین ہے۔

 میں پہلے تو اس کی بات نہیں سمجھ پائی اور صرف سر ہلادیا مگر اس کے اگلے جملہ پر میں بری طرح ٹھٹک گئی تھی۔ وہ میرے سر ہلانے پر بولا کہ بھا بھی آپ کی گھوڑی بھی تو کالی ہے۔ کبھی مجھے اس کی سواری کا موقع دیں۔۔ میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور ایسے ظاہر کیا جیسے سناہی ناہو۔۔ مجھے اس روز سمجھ آئی کہ وہ اکثر ہی کالی گھوڑی کی باتیں کرتا تھا اور مجھے دیکھتا تھا۔ میری گھوڑی بھی کالی تھی اس لیے وہ مجھے امید سے دیکھتارہتا تھا کہ شاید میں اسے اجازت دے دوں۔ میں تب تو اس کی بات نظر انداز کر گئی اور بات بدل دی۔ میں نہیں چاہتی تھی اس کا شوق گھر کے کسی اور فرد کے کانوں میں پڑے۔ 

مجھے یقین تھا میرے سخت مزاج میرے شوہر کو مجھے پر شک ہو تا تو وہ مجھے مار ڈالتے کہ میں ان کے چھوٹے بھائی کو بگاڑرہی ہوں۔۔ مجھے لگا میر ادیور میر اجواب نہ پا کر خاموش ہو جائے گا اور دوبارہ مجھ سے ایسی بات نہیں کرے گا مگر وہ کالی گھوڑی کی سواری کا بہت زیادہ شوقین نکلا تھا۔ جب موقع ملتا مجھ سے منتیں کرنے لگتا، میں اسے بچہ سمجھ کر مسکرا کر ٹال دیتی۔ کچھ دن مزید گزرے تو وہ ضد پر اتر آیا۔ دن رات میرے گرد چکر آتا اور میری کالی گھوڑی کی سواری کے لیے اجازت طلب کرتارہتا۔ میں اسے ٹال ٹال کر اور بہانے بنا بنا کر تھک گئی تھی کیونکہ میری وہ کالی گھوڑی بہت نخریلی اور بد تمیز تھی اپنے اوپر بیٹھے شخص کو پل میں نیچے گرادیتی تھی مجھے یہی ڈر لگارہتا کہ اگر دیور کو چوٹ آئی تو میری شامت پکی ہے

 مگر وہ مجھ سے ضد کر کر کے نہیں تھک رہا تھا۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں اپنے شوہر کو اس کا بتاؤں تاکہ وہ خود اپنے بھائی کو سنبھال لیں مگر پھر میں جھجک سی گئی۔ اگر میر ادیور مکر جاتا تو پورا گھر مجھے برا بھلا کہتا۔ میں اسی وجہ سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔ میں اپنے دیور کے سامنے جانا چھوڑ گئی۔اس کا شوق وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جار ہا تھا۔ اس کی ضد بڑھتی دیکھ کر میں گھبرانے لگی تھی پھر جس روز میری ماں کی طبیعت اچانک بگڑنے پر مجھے اسی دیور کی ضرورت پڑی تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مجھ سے اپنی ضد منوالی۔ جس روز میری ماں کی طبیعت اچانک بگڑنے پر مجھے اسی دیور کی ضرورت پڑی تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مجھ سے اپنی ضد منوالی۔ 

 مجھے لگا تھاوہ بچہ ہے اور سواری نہیں کر پائے گا، جلدی تھک جائے گا مگر میرا اس خیال نے فام ہاؤس میں جا کر غلط ثابت کر دیا تھا۔ وہ بظاہر چھوٹا بچہ نہایت تیز نکلا تھا۔ اپنا شوق پورا کر کے جب وہ لوٹا تو پینے سے تر تھا اور چہرہ جوش کی سرخی میں ڈوبا ہوا تھا ” شکر یہ بھا بھی مجھے بہت مزہ آیا۔۔ وہ مجھے دیکھ کر بولا اور میں اتنی حیران تھی کہ اسے جواب بھی نہیں دے پائی۔ وہ آگے بڑھا تو میں بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑی۔۔ اور استے میں بھی مجھ سے میری اسی گھوڑی کی باتیں کرتارہا اور پھر بولا کہ آپ نے ٹھیک کہا تھا بھا بھی۔۔ آج مجھے اتنا مزہ آیا کہ اب دل چاہ رہا ہے روزانہ اپنا شوق پورا کروں۔۔ آپ بھائی کو مت بتا نا تو میں اکثر اپنا شوق پورا کرتارہوں گا۔۔

 آپ میر اساتھ دیں گی ناں۔۔ وہ اچانک بولتے ہوئے مجھ سے وعدہ لینے لگا۔ میں نے سر ہلادیا۔ اب میں مطمئن تھی ، اسے دیکھ چکی تھی کہ جتنا وہ ماہر تھا کوئی نقصان نہیں کر سکتا تھا۔۔ ہم جب تک میرے میکہ میں پہنچے بہت رات ہو چکی تھی۔ میں اپنے دیور کو اس کے آرام کے لیے کمرہ دکھا کر خود اپنی ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ میرا دیور تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ بستر پر گرتے ہی سو گیا۔ وہ رات کے کھانے کے لیے بھی نہیں اٹھا۔ میری بہن نے حیرت سے مجھے بتایا تو میں بات بنا گئی کہ وہ صبح سے پڑھائی کرتارہا تھا اس لیے اب تھک گیا ہے۔ جبکہ خود مجھے فام ہاؤس میں جانے کے بعد کا منظر یاد آگیا جس کی وجہ سے میرادپور اتنا تھک گیا تھا۔ ہمارے فام ہاؤس میں گھوڑوں کے اصطبل میں موجود نسلی اور اونچے گھوڑوں میں میری سیاہ کالی گھوڑی کھڑی ہوئی تھی۔

 یہ گھوڑی مجھے شادی کے تحفہ میں میرے ابا نے دی تھی اور جب سے میں بیاہ کر آئی تھی میرے دیور کی نظر میری اس کالی گھوڑی ہے ٹک سی گئی تھی۔ وہ اصطبل کے قریب پہنچ کر پر جوش سا میری کالی گھوڑی پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر اسے کھولتے ہوئے اصطبل سے نکال کر میدان میں لے گیا اور اس کی نکیل ڈالنے لگا۔ میری گھوڑی کی اٹھان بہت اچھی تھی، میری نظر میں اس جیسا نو عمر لڑ کا گھوڑوں کی سواری کر ہی نہیں کر سکتا تھا بچہ کیا میری اونچی لمبی گھوڑی کی سواری کرتا۔۔ میں یہی سوچ کر اسے اجازت نہیں دیتی تھی اور ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔۔ آج بھی میں نے یہ سوچ کر اجازت دے دی کہ وہ اول تو سواری کر نہیں پائے گا اور اگر کر بھی لی توزیادہ دیر نہیں سکے گا

Black mare and my wall

Deor was fond of riding a black mare. My mare was also black. He used to say every day, “When will I ride your mare?” So he said, Bhabhi first black mare, that night my consciousness flew away, which I thought was a child.

I was surprised to hear such a thing from my brother-in-law. I had no idea that a barely sixteen-year-old boy would make such a request to me. Mir Adiwar was looking at me questioningly. He wanted an answer from me and I was worried about what I would answer. I ignored him and changed the subject and was thankful that no one else in the house listened to him otherwise he would not have been well. But he became stubborn and after a few days again started making the same request in front of me.

Bro, I have always been fond of riding a black mare, please give me a chance to sit on your mare. I will make you happy, he had come down on regular vows. I was shocked at his words, I was always interested. Will make me happy? I found his words very strange, I still talked to him in terms of how long have you been doing all this. ?? I asked somewhat nervously. At what age did he start to have such hobbies?

I knew that if any of the family members were addicted to cannabis, it would have been doomsday. No one was aware of his hobby. Because everyone still considered him a child and pampered him with love. He should concentrate on his studies and he was sitting among some kind of stray boys who made this request. It has been only two years since I developed this hobby and I have fulfilled this hobby secretly but I have never found a mare like yours. No, it will be known.

He winked mischievously while speaking confidentially. I was embarrassed. My heart started beating loudly, “You know that if someone in the house finds out about this hobby of yours, it will not be good for you.” You should focus on your studies, you are not that old yet. I wanted to explain to him. My husband was a very strict man. If they had realized that their younger brother had left his studies and engaged in these activities, they would not have hesitated to raise their hands on him. Vola shrugged at my concern. He said, “Now you are forcing me, but I also promise you that I will sit on your black mare.”

And after doing that, I will see that you were also surprised, don’t think of me as a child. Didn’t even believe. When he requested me, I started getting more and more worried because of his stubbornness. “This hobby will not end at once. Once you fulfill this passion, then you will wish for the same thing every day and your passion will also increase. If your brother finds out that I have supported you completely, then he will be with me and will not leave you either. I tried to explain it to him. “No bro, I will not bother you again and again.

I promise I won’t let my brother know. At night there is no one in our family house, we will go there. It’s just a matter of a few minutes.” He was adamant, but I couldn’t satisfy his stubbornness. I was afraid that someone would find out. This could not be hidden. Look good. I said getting rid of him and busying myself with household chores. I thought he was a little kid and would soon forget about it, but he just waited two or three days and got on my head again. I was in trouble now. It was becoming difficult for me to avoid it. It was during those days that one day in the evening I received information that my mother had fallen seriously ill.

My sister called and told that mother’s condition has worsened and she wants to meet me. I was shocked to hear my sister’s words. My husband was not at home that day and I did not want to come to China without meeting my mother. On the occasion of such an affair, I thought of my brother-in-law. I called my husband and asked for his permission, so he also allowed me to go with his younger brother to meet my mother. I went and requested my brother-in-law to take me to see my mother, she is very ill. When my brother-in-law heard my insistence, his eyes lit up, he made a four-penny bet in return. Ok brother, I will take you but first black mare ride then some other work.

He said seizing the opportunity. At first I felt very disgusted after hearing his condition, but then I kept silent and after thinking about it, I was forced to accept his condition. If there was another chance, I would have gone alone, but I couldn’t go alone in the evening. I filled in immediately. He took me out of the house and took me to a small farm house built some distance from his house. He had to fulfill his passion first and then he would take me to my mother’s house. I was afraid that if someone saw us here in the evening, the problem would arise. Mir was excited about the work.

That night, seeing the speed of my brother-in-law, I lost my senses. What I thought was a child opened my eyes. When I got married, my brother-in-law was the youngest of the whole family. Everyone thought he was a small child. Therefore, special care and attention was always given to him. My husband and his elder brother kept my younger brother-in-law away from everything and only taught him. I also thought he was just a nutty kid. In the beginning, he was hesitant to even come in front of me. I used to laugh at his shyness and he seemed more oblivious to me.

But when he got rid of me and became some kind of friend, his words surprised me. All his hobbies and activities were adult. He was more interested in other activities than studies. From such a young age, he used to brag all the time in front of the girls of the family. He was also cute, that’s why he used to get all the attention. Because we had such an environment, in my view, her Imran was too young to talk. At that age, it seemed strange to me that he would be shy in front of girls and that girls would look at him with admiration. Then he used to tell me stories saying that look at your brother-in-law, girls are lining him up from now on.

Actually, my mother-in-law was my father-in-law, no, he died in a bus accident two years ago. The husband was quite strict. As long as my husband was at home, my brother-in-law along with me would stop breathing. As soon as he left work, he would ride on my head, sometimes about school, sometimes about his family, sometimes about his hobbies. It used to be that I used to listen to him that he is a child, that too of his mother. One day he made a very strange request to me, he said that he was very fond of riding a black mare.

At first I did not understand what he said and just shook my head, but I was shocked by his next sentence. He shook my head and said that your mare is also black. Give me a chance to ride it sometime. I did not give him any answer and pretended not to have heard anything. I realized that day that he often talked about the black mare and looked at me. My mare was also black so he kept looking at me hoping that I might give him permission. I then ignored him and changed the subject. I didn’t want her passion to fall into the ears of any other member of the house.

I was sure that if my stubborn husband had suspected me, he would have killed me because I was spoiling his younger brother. I thought Mir Adivar Mir would shut up and never talk to me like that again, but he turned out to be very fond of riding the black mare. Whenever he would beg me, I would smile and ignore him as a child. After a few more days, he came down stubbornly. Day and night he used to circle around me and ask permission to ride my black mare. I was tired of avoiding him and making excuses because that black mare of mine was very stubborn and rude, she would knock the person sitting on top of her down in the bridge.

But he was not tired of being stubborn with me. At first I thought of telling my husband about this so that he can take care of his brother himself, but then I hesitated. If Mir Adivar had turned away, the whole house would have cursed me. That’s why I couldn’t tell anyone. I stopped going in front of my brother-in-law. His passion was increasing with time. Seeing his stubbornness increasing, I started to panic, then on the day when my mother’s condition suddenly worsened, I needed the same care, so she took advantage of the opportunity to remove her stubbornness from me. On the day when my mother’s health suddenly worsened, I needed the same care, so she took advantage of the opportunity to reveal her stubbornness to me.

I thought that he is a child and will not be able to ride, will get tired quickly, but I was proved wrong by going to the farm house. That little kid was apparently very fast. When he returned after fulfilling his passion, he was tired from drinking and his face was red with excitement. He looked at me and said and I was so surprised that I could not even answer him. When he went ahead, I followed him silently. And Iste also kept talking to me about my same mare and then said that you were right bro. Today I had so much fun that now my heart wants to fulfill my passion every day. Don’t tell my brother, I will often fulfill my passion.

Will you help me? He suddenly started asking me for a promise. I shook my head. Now I was satisfied, I had seen that as skilled as he was, he could do no harm. It was already night by the time we reached my Mecca. I showed my brother-in-law the room for his rest and sat next to my mother. My brother-in-law was so tired that he fell asleep on the bed. He didn’t even get up for dinner. My sister surprised me and told me that he was studying since morning so now he is tired. While I myself remembered the scene after going to the farm house due to which Miradpur was so tired. My black mare stood among the thoroughbreds and stallions in the horse stables at our farm house.

This mare was given to me as a wedding gift by my father and ever since I got married, my brother-in-law’s eyes were fixed on this black mare. He was approaching the stable but was passionately touching my black mare. Then, untying it, he took it out of the stable and took it to the field and began to put its nickels. My mare was very good, in my opinion, a young boy like him could not ride horses. I used to not allow him thinking about this and continued to act evasively. Even today I gave permission, thinking that he would not be able to ride at first and even if he did, he would not be able to stay for much longer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *