Urdu Love Stories

دیور کا رشتہ بھابھی حیران

میں کچھ دنوں سے اپنے شوہر کو پریشان دیکھ رہی تھی۔ پر مجھے ان کی پریشانی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں ہے۔ میں پوچھتی تو ٹال دیتے۔ میرا دیور اب مجھے کچھ پریشان لگا تھا۔ میں نے اس سے بھی پوچھنا چاہا پر کہتا کچھ نہیں ہوا بھا بھی۔ تو میں نے اس سے کہا ” پھر تمہارے بھائی کو کوئی شاید پریشانی ہے وہ مجھے پریشان لگ رہے ہیں پر بتا نہیں رہے کچھ چھپا رہے ہیں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے ” تو میری بات پر میرا دیور خاموش ہو گیا۔ میں نے اس کی خاموشی پر اس کے چہرے کو بغور دیکھا تو وہ کچھ گھبراہٹ میں مبتلا تھا۔ مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے شاید وہ دونوں ہی میرا دیور اور شوہر ایک بات پر پریشان تھے بس مجھے نہیں بتا رہے تھے۔ میں اب پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ تجس میں مبتلا ہو گئی تھی کہ ایسی کیا بات ہو سکتی ہے جو وہ مجھ سے چھپارہے ہیں۔

 کیونکہ اس گھر میں میری بات چلتی تھی۔ جیسا میں کروں وہی ہوتا تھا۔ میری ساس اور نند کوئی نہیں تھی۔ صرف ایک دیور تھا جو کنوارہ تھا اور کچھ دن پہلے اس کا رشتہ ایک جگہ میں نے طے کیا تھا۔ لیکن حیرت کی بات تھی ان لوگوں کو میں نے فون کیا تھا کچھ بات کرنے کے لئے وہ لوگ میری کال نہیں اٹھا رہے تھے اب تو ان کا نمبر بھی بند جارہا تھا۔ لیکن اس وقت دیور کی ایسی حالت دیکھ کر میں نے ٹھان لیا اب تو اپنے شوہر سے پوچھ کر ہی رہوں گی کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ اس لئے جیسے ہی آج وہ کام سے تھکے ہارے آئے تو میں نے ان کو چائے بنا کر دی اور ساتھ بیٹھ کر ان کے چائے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ انہوں نے چائے ختم کی تو میں نے اپنی بات شروع کرنے کا آغاز کیا۔ 

میں نے اس بار سیدھا ان سے مدعے کی بات پوچھی کہ ” مجھے یہ بتائیں کہ اصل بات کیا ہے میں کب سے آپ کو پریشان دیکھ رہی ہوں اور اپنے دیور کو بھی آپ دونوں ہی مجھے سے کچھ چھپا رہے ہیں جو چھپارہے ہیں مجھے وہ بتائیں بات ” میں نے اس بار اٹل لہجے میں کہا۔ مگر وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے تو صاف صاف کہہ دیا جو بات ہے مجھے وہی بتائی جائے۔ اس بار مجھے بات جانتی ہے جو بھی ہے۔ اتنے دنوں سے میں دیکھ رہی تھی اس بات سے اپنے شوہر کو پریشان ہوتا پھر دیور کو آخر تو مجھے اب تجس ہی ہونا تھا نہ۔ بات جاننے کی جستجو میں کافی بحث وضد کر دی میں نے اپنے شوہر سے ۔ اور پھر جو بات انہوں نے بتائی اس نے میرے پیروں سے زمین نکال دی۔ میں سکتے کے عالم میں اپنے شوہر کو دیکھتی رہی۔

 مجھے یقین نہیں آرہا تھا اس بات کا کہ یہ واقعی سچ ہے یا وہ مزاق کر رہے ہیں۔ پر مجھے یقین کرنا پڑا اس بات پر کیونکہ میں نے تو حقیقتاً اس بات پر اپنے شوہر اور دیور کو پریشان دیکھا تھا۔ میں بے بسی سے خاموش ہو گئی کیونکہ میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ سمجھ نہیں آرہا تھا ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ہر بار یہی نتیجہ نکلتا تھا پر کیوں؟ مجھے اس بات نے اس بارسنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور میں اس وقت واقعی گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی کہ کیا کرنا ہے اب۔ جب میرے شوہر نے مجھے شہد کا مارا اور کہا۔ کہاں کم ہو گئی تم میری بات سن کر اب کیا کرنا ہے اس کا کیا حل نکالیں” ان کی بات پر میں ہوش میں آئی اور پریشانی سے ان کے چہرے کو دیکھتی رہی۔ 

میں نے ان سے کہا کہ مجھے دیور کی پریشانی ہو رہی ہے اس پر کیا گزر رہی ہو گی اس بات کی وجہ سے۔ اس بچارے کا تو کوئی قصور نہیں تھانہ۔اصل بات یہ تھی کہ میر ا صرف ایک ہی دیور تھا میری شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے میری ساس کو فوت ہوئے تین سال ہو چکے تھے میری کوئی نند نہیں تھی۔ اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری اور دیور کی بھی دیکھ بھال میرے ذمے تھی۔ اور میں اپنی پورے حق اور سچائی کے ساتھ خوش اسلوبی سے اس زمہ داری کو پورا کر رہی تھی۔ اب میرے دیور کی شادی کی عمر ہو گئی تھی پر مسئلہ یہ ہو رہا تھا کہ دیور کا جہاں رشتہ کرتے اگلے دن ہی انکار ہو جاتا۔ کیونکہ ایک تو میرے دیور کو کم سنائی دیتا تھا۔ اس کو کانوں میں مسئلہ تھا اس وجہ سے۔

اب جہاں میں نے اس بار رشتہ طے کیا تھا وہاں سے بھی اگلے دن ہی جب ان لوگوں کو معلوم ہوا دیور کو کانوں کا مسئلہ ہے کم سنائی دیتا ہے کیونکہ میں نے ذرہ اس بات کو چھپارکھا تھا اس بار کیونکہ جہاں بھی رشتہ کرنے جاتے اگر یہ بات بتاتے تھے تو فوراً انکار ہو جاتا تھا۔ یہ بات میرے شوہر نے مجھ سے چھپائی تھی جبکہ دیور کو بتار بھی تھی۔ اسی بات کی پریشانی ان دونوں کی تھی اور مجھے اس پریشانی سے بچانے کے لئے وہ لوگ یہ بات مجھ چھپا رہے تھے۔ کیونکہ اب مجھے سمجھ آرہا تھا کہ مسئلہ بہت سنگین ہے اس بار کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ جس سے یہ مسئلہ بھی بیچ میں نہ آئے اور میرے دیور کی شادی بھی ہو جائے میں اپنے شوہر کو تسلی دے کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ سوچا کہ دیور سے اس بارے میں کچھ بات کرتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ کوئی نہ کوئی حل تو نکل ہی آئے گا اس مسئلے کا۔ دوسرے دن میری پڑوسن نے مجھ سے پوچھا کہ دیور کی شادی کب کروار ہی ہو اب تو رشتہ بھی ہو گیا اس کا تو ۔ اس کی بات سن کر میں اداس ہو گئی۔  

 میری اداسی دیکھ کر اس نے مجھ سے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے اسے بتادی کہ ۔ میرے دیور کا وہ بھی رشتہ ٹوٹ گیا کیونکہ تمہیں پتا تو ہے میرے دیور کو کم سنائی دیتا ہے بس اسی وجہ سے لوگ انکار کر کے چلے جاتے ہیں ” میری بات سن کر وہ بولی کہ تو لوگوں کو نہ بتا یا کر و کل کو خود ہی لڑکی شادی کے بعد سیٹ ہو جائے تمہارے دیور کے ساتھ اس کو کون سی اتنی بڑی بیماری ہے۔اس کی بات سن کر مجھے ہنسی آئی کہ اس بار تو میں نے یہ بات چھپائی تھی پر پتا نہیں کیسے ان کو پھر بھی معلوم ہو گئی تھی۔

 لیکن میں نے اپنی پڑوسن کو نہیں بتایا اور اس سے چند باتوں کے بعد بات ختم کرنا چاہی جب اس نے کہا تم ایک اور کام کرو میں نے تجس سے پوچھا کون سا تو کہتی ایک پیر بابا کا پتادیتی ہوں تمہیں اس سے دم کروا دو اپنے دیور پر اس سے اثر ہو گا اور تمہارے دیور کی شادی بھی ہو جائے گی۔ میں نے یہ سنتے ہی فورا اس سے اس پیر بابا کا پتا لے لیا اور دیور سے اس بارے میں بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا اس کام کو کرنے سے۔ پر میں نے بہت ضد کی اور اس کو تھوڑا جذباتی بھی کیا کہ میں تو تمہارا بھلا چاہتی ہوں تمہارے لئے سب کر رہی ہوں لیکن تمہیں کوئی پرواہ نہیں اپنی بھابھی کی بات ماننی نہیں تم نے۔ ایسی دو چار باتیں مزید کر کے اس کو اپنی بات کے گھیرے میں لے لیا۔

 اور اگلے دن ہی ان معاملوں سے میں نے تنگ آکر اس کو دم کروانے لے گئی۔ پیر بابا کو سارا مسئلہ بتایا اور وجہ بھی جس کو سن کر انہوں نے کچھ باتیں کہیں جن پر اس وقت ہم نے عمل کیا پھر پیر بابا دم کر کے کہنے لگا اگلے جمعرات اس کارشتہ پکا ہو جائے گا اور اس بات نے میری آنکھوں میں روشنی بھر دی کہ اتنی اچانک جلدی کام ہو جائے گا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔ میں نے تو حیرت کے سمندر میں ڈوبتے ہوئے بے یقینی کا اظہار بھی کر دیا۔ جس پر پیر بابا کچھ ناراض سے ہو گئے تو میں کھسیانی ہو گئی۔ پر میں کب سے یہ بات محسوس کر رہی تھی کہ پیر بابا میرے دیور کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہے ہو ۔ اس کے بعد انہوں نے میرے دیور سے اپنا فون نمبر مانگا۔

جبکہ رابطے کے لئے میں نے اپنا فون نمبر دینا چاہا کہ ان سے میں رابطے میں رہوں گی کیونکہ میرے دیور کو اس سب میں کہاں دلچسپی تھی جو وہ اس سے رابطے میں رہتا اور اس کے بتائے کاموں پر عمل کرتا۔ پر میری حیرت کی انتہاتب نہ رہی جب پیر بابا نے کہا تم اپنا فون نمبر نہیں دو اپنے دیور کا دو مجھے اس کا چاہئے۔ میں نے سہولت سے پیر بابا کے ناراض ہونے کے ڈر سے بات کو سنبھال کر پھر سے اپنا نمبر دینا چاہاتا کہ دیور بھی ناراض نہ ہو ۔ پر پیر بابا نے سختی سے منع کر دیا اور کہا۔ کام کروانا ہے تو جو جو میں کہوں وہ کرنا ہو گا جس کا یہ مسئلہ ہے اسی کا فون نمبر مجھے چاہئے اسی سے رابطہ رکھنا ہے میں نے کیونکہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن کا تم لوگوں کو علم نہیں۔

 پیر بابا کی بات پر میں نے اپنے دیور کو التجائی نظروں سے دیکھا تو اس نے نا چاہتے ہوئے بھی میری مان کر اپنا فون نمبر پیر بابا کو دے دیا۔ اس کے بعد جو خوشی و رونق میں نے پیر بابا کے چہرے پر دیکھی تو مجھے اس خوشی کی اصل وجہ سمجھ نہیں آئی۔ کہ اس میں تو عام بات ہے روز ہزاروں لوگ ان سے کام کروانے آتے ہوں گے اور ہزاروں سے وہ اس طرح بات کرتے ہوں گے فون نمبر لیتے ہوں گے پر یہاں جو ان کی میرے دیور سے فون نمبر لیتے وقت مسرت و خوشی تھی وہ مجھے تھوڑا سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ ایسا کیوں ہے۔ میں دیور کو وہاں سے لئے گھر آگئی۔ اور یہاں وہاں اس کے لئے رشتہ دیکھنے لگی۔ کیونکہ جمعرات تک کہا تھا پیر بابا نے تو میں بھی جلدی کرنے لگی اور اپنے دیور کے لئے دوسرے رشتے دیکھنا شروع کر دیئے۔ 

 ابھی ایک دو دن ہی اس بات کو گذرے تھے جب میں نے اپنے دیور کے اندر کچھ بدلاؤ سا محسوس کیا۔ وہ زیادہ وقت موبائل فون میں گم رہتا یا گھر سے باہر رہتا۔ اور اس کا لہجہ بھی بدلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ اتنی جلدی ایسا بدلاؤ دیور کے اندر کہاں سے اور کیسے آگیا۔ یہاں میں اس کے لئے رشتے دیکھ رہی تھی جب اس سے اس بارے میں بات کرتی تو وہ ٹال مٹول کر دیتا بات کو ۔ اور میں نے پھر اس بارے میں اپنے شوہر سے بات کی۔ ان کو اپنے دیور کے اس بدلاؤ کا بتایا تو انہوں نے بھی حیرت کا اظہار کر دیا۔ ایک تو میرے شوہر کو دفتر کے کام سے فرصت کم ملتی تھی اس لئے وہ گھر پر کم دھیان دیتے تھے۔ ہر چیز مجھے سنبھالنی ہوتی تھی۔ اور ابھی تک ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی تھی مجھے اولاد کا بہت شوق تھا۔

 روز دعائیں کرتی تھی اس کے لئے اور مجھے امید تھی کہ میرے یہاں بھی اولاد ہو گی۔ پر کبھی کبھی یہ سوچ کر میں اداس اور دکھی ہو جاتی تھی جب اولاد کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ پر میرے شوہر بہت اچھے تھے۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ مجھے تسلی دیتے تھے کہ جب اللہ نے چاہا تو ہمارے یہاں بھی اولاد ہو جائے گی۔اس کی رحمت سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ تو بس میں اسی امید پر بیٹھی تھی کہ مجھے یہ رحمت بھی ضرور ملے گی بس جلد یاد پر وقت کا دیر کوئی تعین نہیں تھا کہ کب۔ پر خیر اس وقت میں نے شوہر کو کہا کہ آپ نظر رکھے دیور پر کہ وہ باہر کہاں زیادہ وقت گزار رہا ہے۔ اور کس کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے اس میں یہ تبدیلی کچھ عجیب محسوس ہو رہی تھی۔ 

کبھی پہلے اس کو اس طرح دیکھا جو نہیں تھا میں نے شاید اس لئے۔ وہ مجھے عزیز تھا اپنے بھائیوں کی طرح میں اس کو سمجھتی تھی تو اس کا اچھا برا سوچنا میرا فرض تو تھا ہی ساتھ زمہ داری بھی۔ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی اس کے ساتھ کچھ برا ہو۔ کیونکہ وہ اپنی اس ہلکی سی کم سنائی دینے والی بیماری سے پہلے ہی بہت کچھ براسہ چکا تھا۔ لوگوں کی باتیں طعنے ان کی بری نظریں اور ہر طرف سے دھتکار نے اس کو احساس کم تر بنادیا تھا۔ اس بات کا مجھ کو بہت دکھ رہتا تھا اور میرے شوہر کو بھی۔ اس وقت میرے شوہر نے مجھے تسلی کروائی کہ وہ پتا کر وائیں گے نظر رکھیں گے کچھ دن اس پر کہ وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔

ان کی تہ بھی۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا اب انہوں نے ایسا کہا ہے تو وہ ایسا کریں دینے سے میں مطمئن ہو گئی تھی اور بے فکر گے بھی۔ پھر اگلے دن ایک جگہ دیور کے رشتے کی بات مجھے بڑھتی نظر آئی تو میں خوش ہو گئی کہ اس پیر بابا کی بات سچ ہوتی نظر آ رہی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھا دیور کا رشتہ یکا ہو جائے تو چٹ منگنی پٹ بیاہ کروں گی۔ اور اس کہاوت پر عمل کروں گی جو کہتے ہیں ہتھیلی پر سرسوں جمانا ہے۔ اور پھر اس پیر بابا کے آستانے پر مٹھائی بھی لے کر جاؤں گی ان کا شکریہ ادا کروگی۔ میں نے اس رشتےکے بارے میں اپنے دیور سے بات کرنے کا سوچا اور اگلے دن ہی اس سے اس رشتے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اس بار تیاری پکڑو اپنی اس بار پکا ہے رشتہ ہو جائے

 تو فور آشادی کروں گی تمہاری پر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب دیور نے انکار کر دیا۔ اور کہا آپ کو کہیں پر بھی رشتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی اور اس سے پوچھا کہ ” پر کیوں؟ ” تو اس نے کہا جمعرات کا انتظار کریں آپ دیکھیں اس پیر بابا کی بات میں سچائی ہے یا نہیں کیسے ہو گا یہ ” اس کی بات پر میں نے کہا کہ “ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے کو شش تو ہم نے کرنی ہے ایسا تو بالکل نہیں بس بنا کچھ کیئے گھر بیٹھے جمعرات تمہارا رشتہ پکا ہو جائے گا کوشش کرنی ہمیں ہے۔

 میری بات سن کر پھر اس نے جو مجھے سمجھایا اس نے میرے کان کھول دیئے کہ ” پھر تو اس کا کوئی فرق نہیں ہوانہ بھا بھی کہ وہی محنت ہم کریں جبکہ ہم نے تو اس پیر بابا کی بات پر یقین رکھ کے بیٹھنا ہے کیونکہ یہ دم تعویذ تو اس لئے ہوتے ہیں کہ کام خود بخود ہو جائے کوشش تو ہمیں دعا کرنے کے بعد کرنی چاہئے نہ کیونکہ اس میں دیر ہوتی ہے۔ پھر اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ پیر باباوغیرہ کی بات کچھ نہیں ہوتی سب کچھ اللہ کرتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہے یہ چکر چھوڑ دیں اس کے سمجھانے کے باوجود مجھے جمعرات کا پھر بھی شدت سے انتظار تھا۔ تجس تھا کہ دیکھتے ہیں تب کیا ہوتا ہے پر جب اگلی جمعرات آئی تو دیور خود ہی ایک لڑکی گھر لے آیا۔

سے اپنے دیور سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب سن کر میرے اوپر آسمان ٹوٹ پڑا۔ اس نے کہا کہ ” میں نے شادی کرلی ہے بھا بھی یہ میری بیوی ہے۔ ” مجھے یقین نہیں آیا اس کی بات پر۔ حیران پریشان میں نے گھونگھٹ اٹھایا۔ اس لڑکی کا تو ہوش اڑ گئے کیونکہ وہ کوئی اور نہیں وہ بالکل اس پیر بابا جیسی تھی جس سے میں نے اپنے دیور پر دم کر وایا تھا۔ میں نے اس بات کا فوراً ان دونوں سے اظہار کر دیا تو دیور کی بات نے میرے چودہ طبق روشن کر دیئے کہ یہ وہی بابا ہیں” اور مجھے سمجھ نہ آیا کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ اگر وہ بابا ہے تو لڑ کی کیوں ہیں ؟ کیا اس نے ڈرامہ کیا تھا سارا؟ وہ کیوں با بابنی تھی؟ وہ کون تھی ؟ اور میں حیران ہو گئی اس لڑکی کا حلیہ ایسا دیکھ کر دلہن کے روپ میں تھی وہ۔ میں نے حیرت 

 اتنے سارے سوال میرے ذہن میں اٹھ رہے تھے جن کا جواب مجھے اس لڑکی نے دیا کہ اس کا نام صبا ہے اور وہ بیوہ عورت ہے جو اپنی روزی روٹی کے لئے نقلی ڈارھی مونچھ لگا کر بابا بن کر بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ اور کوئی کام اس کو مل نہیں رہا تھا اب جب اس نے میرے دیور کا مسئلہ سنا تو اس نے اپنے سہارے کا سوچا کہ وہ دیور سے نکاح کرے تو اس کو سہارا مل جائے گا اور گھر بھی۔ جبکہ میرا دیور بھی احساس کمتری کا شکار تھا اس کی بات مان کر فوراً اس سے نکاح کر لیا۔ مجھے اب سمجھ آیا تو یہ وجہ تھی جو وہ میرے دیور کا نمبر لینے پر ضد کر رہی تھی اور میرے دیور سے وہ رابطے میں تھی۔ اس وجہ سے دیور کا رویہ بدلا بدلا سا تھا۔ پھر صبا نے مجھے سمجھایا کہ تعویذ دم وغیرہ بیچ میں کچھ نہیں ہوتا ہم لوگ تو بس روٹی کی لالچ میں لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔ 

 آپ ان پر یقین نہ رکھے سب جھوٹ ہے ہر کام کرنے والا واحد اللہ ہے۔ اور اس نے بھی تو بہ کر کے اب یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ اس کے سمجھانے پر میں بھی سمجھ گئی ساری بات اور اللہ سے توبہ کی۔ اور پھر میں نے ہنسی خوشی ان کی شادی کو قبول کر لیا۔ اور بہت سکون سے اب ہماری زندگی گذر رہی تھی۔ کچھ وقت بعد میرے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی تھی جس نے میری زندگی خوبصورت بنادی تھی۔ 

Brother-in-law’s relationship surprised the sister-in-law

I was seeing my husband worried for some days. But I didn’t understand why they were worried. If I had asked, they would have avoided it. My brother-in-law was now worried. I wanted to ask him too, but he said nothing happened. So I said to him “then maybe your brother has some problem, he seems worried to me but he is not telling me, he is hiding something, I feel like this” so my brother-in-law became silent on my words. I looked closely at his face at his silence, and he was somewhat nervous. I felt at that time that maybe they both my brother-in-law and husband were worried about something and just not telling me. I was now worried as well as curious as to what they might be hiding from me.

Because I used to talk in this house. I used to do the same. My mother-in-law and Nand were no one. There was only one brother-in-law who was a virgin and a few days ago I fixed his relationship at a place. But the surprising thing was that I had called these people to talk about something, they were not picking up my call, now their number was also being blocked. But seeing Dewar’s condition at that time, I decided that now I will keep asking my husband what is the problem. Therefore, as soon as they came tired from work today, I made them tea and sat together and waited for them to finish their tea. After he finished the tea, I started to speak.

This time, I directly asked them about the defendant, “Tell me what the real thing is since when I have been seeing you upset and from my brother-in-law, you both are hiding something from me. Tell me what they are hiding.” I said this time in a firm tone. But when he started to hesitate, he told me clearly that what is the matter should be told to me. This time I know what it is. I was watching for so many days, my husband was worried about this, then finally, I didn’t have to worry anymore. I had a lot of discussion with my husband in the quest to find out. And what he said next knocked the ground off my feet. I kept looking at my husband as I could.

I wasn’t sure if it was really true or if they were joking. But I had to believe it because I actually saw my husband and brother-in-law upset about it. I fell helplessly silent as I ran out of words. I did not understand why this was happening. Every time the result was the same, but why? This made me think seriously. And at that time I was really lost in deep thought as to what to do now. When my husband hit me honey and said. What is the problem? After listening to me, what should I do now? I came to my senses and looked at his face with worry.

I told them that I was worried about Deor because of what she was going through. There is no fault of this rescuer. The real thing was that I had only one son-in-law. It had been five years since my marriage. It had been three years since my mother-in-law died. I had no sleep. For this reason, all the responsibility of the house and also the maintenance of the wall was on me. And I was happily fulfilling this responsibility with all my right and truth. Now my brother-in-law was of marriageable age, but the problem was that his brother-in-law used to get rejected the next day. Because for one, my brother-in-law used to listen less. He had a problem with his ears because of this.

Now, from where I fixed the relationship this time, even the next day when these people found out that Dewar had a problem with his ears, he could hardly hear because I had hidden it a bit this time, because wherever I went to have a relationship, if If they used to tell this thing, it would be denied immediately. This matter was hidden from me by my husband while the brother-in-law was also informed. Both of them had the same problem and to save me from this problem, they were hiding this from me. Because now I understood that the problem is very serious, this time something has to be done so that this problem does not come in the middle and my brother-in-law also gets married, I consoled my husband and left the room. Thought I’d talk to my brother-in-law about what to do. There will be a solution to this problem. The other day, my neighbor asked me that when will my brother-in-law’s marriage take place. I got sad after listening to him.

Seeing my sadness, he asked me the reason, so I told him. My brother-in-law’s relationship also broke because you know that my brother-in-law rarely listens, that’s why people refuse and go away. The girl should settle down with your brother-in-law after marriage. What is such a big disease for her. Hearing her talk, I laughed that this time I had hidden it, but I don’t know how they still found out. was

But I didn’t tell my neighbor and wanted to end the conversation after a few words with him when he said you do one more thing. I asked you which one. This will affect the brother-in-law and your brother-in-law will also get married. As soon as I heard this, I immediately took the address of this Pir Baba from him and when I spoke to Dewar about it, he flatly refused to do this work. But I was very stubborn and made him a little emotional that I want your well being and doing everything for you, but you don’t care, you didn’t listen to your sister-in-law. By saying two or four more such things, he took him in the circle of his talk.

And the next day I got tired of these issues and took him to die. I told Pir Baba the whole problem and also the reason, after listening to which he said some things which we followed at that time, then Pir Baba quietly said that next Thursday this Karstha will be cooked and this brought light to my eyes. I did not know that the work would be done so suddenly and quickly. I even expressed uncertainty while drowning in the sea of surprise. At which Peer Baba became somewhat angry, so I became angry. But since when I felt that Pir Baba was looking at my brother-in-law very carefully. As if you are examining it closely. After that he asked my brother-in-law for his phone number.

While for contact I wanted to give my phone number that I will be in touch with him because my brother-in-law was interested in all that he would stay in touch with him and follow his instructions. But my surprise didn’t last when Pir Baba said you don’t give your phone number, give your brother-in-law’s. I need it. I wanted to take care of the matter and give my number again for fear of getting angry with Peer Baba, so that Deor would not get angry. But Pir Baba strictly forbade and said. If you want to do the work, you will have to do what I say. I need the phone number of the person who has this problem.

On Pir Baba’s words, I looked at my brother-in-law with pleading eyes, so he reluctantly believed me and gave his phone number to Pir Baba. After that, the happiness I saw on Pir Baba’s face, I did not understand the real reason for this happiness. It is normal that thousands of people will come to him to do work every day and he will talk to thousands in this way and take their phone numbers, but here the joy and happiness he had when taking the phone number from my brother-in-law. It made me wonder why. I took Dewar home from there. And here and there began to see a relationship for him. Because it was said till Thursday, Pir Baba also started hurrying and started looking at other relationships for his brother-in-law.

It was only a couple of days ago that I felt something change inside my body. He used to get lost in mobile phone or away from home most of the time. And his tone had also changed. I wondered why this is so. Where and how did such a change come so quickly within Dewar? Here I was looking for relationships for him, when I would talk to him about it, he would avoid talking. And I then talked to my husband about it. When he was told about this change in his brother-in-law, he also expressed surprise. Firstly, my husband got less free time from office work, so he paid less attention at home. Everything had to be handled by me. And we didn’t have any children yet, I was very fond of children.

I used to pray daily for him and I hoped that I would have a child here too. But sometimes I used to feel sad and sad when the lack of children was acutely felt. But my husband was very good. They always comforted me that when Allah willed, we will have children here too. We should not despair of His mercy. So I was sitting in the bus hoping that I would definitely get this mercy, but the delay of time was not determined when. But at that time I told my husband to keep an eye on the wall where he is spending more time outside. And with whom? I felt this change was a bit strange.

Never before had I seen it in a way that it wasn’t, perhaps because of that. He was dear to me, I considered him like my brothers, so it was my duty and responsibility to think about him. Because I didn’t want anything bad to happen to him. Because he had already been through so much with this mild, inaudible illness of his. The taunts of the people, their evil eyes and insults from all sides made him feel less. I was very sad about this and so was my husband. At that time my husband reassured me that he would find out and keep an eye on him for a few days to see what he was doing these days.

Their bottom too. Because I knew that now that they had said so, I was content to let them do it and would not worry. Then the next day, I saw the talk of Dewar’s relationship increasing, so I was happy that the words of this old man seemed to be true. I had thought that if my brother-in-law’s relationship would be fixed, I would get engaged and get married. And I will follow the proverb that says mustard must be put on the palm. And then on this Monday I will take sweets to Baba’s shrine and thank him. I thought of talking to my brother-in-law about this relationship and the next day I talked to him about this relationship and said that this time get ready, your relationship is ready this time.

So, I will do Ashadi for you. I was surprised when Dewar refused. And said you don’t need to have a relationship anywhere. I didn’t understand what he said and asked him, “But why?” So he said, wait for Thursday, you will see whether this Pir Baba’s words are true or not, how will it happen. “We can’t sit on our hands, so we have to do it. It’s not at all. Just sit at home and do something. On Thursday, your relationship will mature. We have to try.”

After listening to what he explained to me, he opened my ears and said, “Then it doesn’t make any difference, even if we do the same hard work, while we have to sit and believe in the words of this Pir Baba.” Amulets are made so that the work is done automatically, so we should try after praying and not because it takes time. Then he explained to me that it is not a matter of Pir Baba and others, everything is done by Allah and Inspite of his explanation, I was still eagerly waiting for Thursday. I was curious to see what happens then, but when the next Thursday came, Dewar himself brought a girl home.

When I asked my brother-in-law about it, hearing his answer, the sky broke above me. He said, “I am married, bro, this is my wife.” I could not believe what he said. Surprised, I lifted the veil. This girl was blown away because she was no one else, she was just like the Pir Baba I fell in love with on my wall. I immediately expressed this to both of them, Dewar’s words enlightened my fourteen classes that this is the sage” and I did not understand what he wanted to say. If he is a sage, why are they fighting? Did she pretend? Why was she Ba Babini? Who was she? And I was surprised to see that this girl’s dress was in the form of a bride.

So many questions were rising in my mind which were answered by this girl that her name is Saba and she is a widow who was sitting as a sage with a fake beard and mustache for her livelihood because she had no other work to do. Now when he heard the problem of my brother-in-law, he thought of his support. While my brother-in-law was also suffering from feelings of inferiority, he immediately married her after obeying her. I understood now that this was the reason why she was refusing to take my brother-in-law’s number and she was in touch with my brother-in-law. Due to this, Dewar’s behavior was changed. Then Saba explained to me that there is nothing in the middle of amulets etc. We used to mislead people just for the sake of bread.

Don’t believe them, they are all lies, Allah is the only one who does everything. And he has also left this work now. After his explanation, I also understood everything and repented to Allah. And then I happily accepted their marriage. And now our life was passing very peacefully. After some time, a son was also born here who made my life beautiful.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *