urdu-love-stories-kahani-sunno

محبت کرنے کا انجام

چچا پٹھان تھا رات ہوتی تو چچی اپنا پچھلا حصہ باندھ لیتی صبح چچی کو دیکھتی تو گھسٹ گھسٹ کر چلتی میں شرم سے وجہ نا پوچھتی ایک روز مجھے چچی پر ترس آیا سوچا آج رات چھپ کر دیکھتی ہوں اور پھر صبح بات کروں گی۔ اس روز چچا آیا تو میں  کمرے میں چھپ گئی۔ میرے ہوش اڑ گئے چچا۔۔۔۔۔اس رات جو کچھ میں نے دیکھا وہ دیکھنے کے بعد تو جیسے میرے ہوش ہی اڑ گئے ۔ مجھے پہلی بار اپنے چچا سے نفرت محسوس ہوئی تھی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس چچا کو میں باپ کا درجہ دیتی تھی اس کی سوچ اس قدر گری ہوئی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ہی بیوی کے ۔۔۔۔۔۔۔ چچی بچاری زمین پر اوندھے منہ  گری ہوئی تھی

جبکہ چچا نے تو آج ہر حد ہی پار کر دی تھی اب مجھے سمجھ آرہی تھی کہ آخر میری چچی اپنا پچھلا حصہ باندھ کر کیوں چلا کرتی تھی۔ میں مارے خوف کے فورا وہاں سے ہٹ گئی مزید دیکھنے کی ہمت مجھ میں بچی ہی نا تھی یہ تو چچی کی ہی ہمت تھی کہ وہ ایک پٹھان کا۔۔ میں اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہی تھی۔ جب میری سماعتوں سے کر اپنے کراہنے کی آواز ٹکرائی میں نے پہلے تو سوچا کہ شاید یہ میرا صرف خواب ہے یا پھر وہم مکر جیسے جیسے نیند سے بیدار ہو نا شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت میں ہی مجھے کراہنے کی آواز آرہی ہے-

میں آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھنے لگیں مگر کمرے میں تو مکمل تاریکی پھیلی ہوئی تھی رات کا ناجانے کون سا پہر تھا مکمل خاموشی کا راج تھا کھڑکی کی آگے گرا ہوا پردا جو تھوڑا ہٹا تھا اس سے ہلکی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ صبح ہو چکی ہے مگر یہ کرانے کی آواز آخر کہاں سے آرہی تھی کون کرا رہا تھا میں اٹھ بیٹھی مجھے سوئے ہوئے تو صرف شاید دو تین ہی گھنٹے ہوئے تھے اس لیے مجھے میرا سر اس قدر بھاری محسوس ہو رہا تھا میں اٹھی اور سیدھی واش روم چلی گئی۔ واش بیسن میں فورا چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو کچھ آنکھیں کھلیں یہ تو میری چچی کی کراہنے کی آواز آرہی تھی

میرے دماغ میں بے ساختہ کل رات والا منظر گھومنے لگا چچی کے ساتھ آخر کیا ہوا تھا میری آنکھیں تو فورا پوری کی پوری کھل چکی تھی ایسے لگتا تھا جیسے ایک سیکنڈ میں ہی میری ساری نیند آنکھوں سے اڑن چھو ہو چکی ہے۔ میں فوراً اپنے کمرے سے نکل کر باہر لاؤنج میں آئیں تو میں ٹھٹھک کر ره گئی ۔ میری چچی کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی اور دروازے کے سہارے کھڑی کراہ رہی تھی چچی کی حالت دیکھ کر مجھے تشویش سی ہونے لگی میں چلتے ہوئے ان کو دیکھنے لگی انہوں نے اپنے سر پر ایک دو پٹا باندھ رکھا تھا گویا ان کے سر میں شدید درد اٹھ رہا ہو ۔ مگر ان کے بال بکھرے ہوئے تھے چہرے پر تو گویا برسوں کی تھکاوٹ نمودار تھی وہ کپکپاتے ہوئے دروازے کا سہارا لیے کھڑی تھیں۔

مگر آج ایک بار پھر انہوں نے اپنے کمر کے ساتھ ایک دوپٹا باندھ رکھا تھا مجھے دیکھ کر فورا سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی اور اپنے چہرے پر آئی پریشانی کو چھپاتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹا تم اٹھ گئی میں بس ناشتہ بنانے ہی والی تھی وہ دراصل تمہارے چچا مجھ سے رات گئے تک باتیں کرتے رہتے ہیں تو صبح پھر آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ جبکہ میں حیرانگی سے ان کو دیکھ رہی تھی ایسے لگتا تھا جیسے وہ صدیوں کی مرئضہ ہوں میں چچی کے قریب گئی ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ میں ان کے قریب جا کر کہنے لگیں کہ چچی جان آپ کی طبیعت ٹھیک تو ہے کہیں آپ بیمار تو نہیں چچی کہنے لگی کہ نہیں نہیں بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں بس ذرا سر میں درد تھا تو دوپٹہ باندھ لیا سر پر دوپٹہ باندھنا تو سمجھ میں آتا تھا

 مگر کمر کے گرد دوپٹہ باندھنے کا کیا مطلب تھا یہ میں سمجھ نہ سکی مگر خیر مزید پوچھنا مجھے اچھا نا لگا۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ جب چچا کی شادی ہوئی تھی چچی کی کیسی اچھی صحت تھی گورا چٹا رنگ تھا لیکن اب کیسی زرد پڑ چکیں تھیں اور وقت سے پہلے ہی بوڑھی سی لگنے لگیں تھیں وہ جب چلتی ہوئی کچن میں گئی تو وہ عجیب بے ڈھنگے انداز میں چل رہی تھیں کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتی ہوئی پھر گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھیں یوں لگتا تھا جیسے انہیں چلنے میں تکلیف ہو رہی تھی میں نے شرم سے چہرہ موڑ لیا مگر پھر گلہ کھنکار کر بولی کہ چچی خیریت تو ہے ؟؟؟ چچی نے ایک نظر مجھے پر ڈالی اور کہنے لگی کہ تم ابھی بیچی ہو ان معاملات میں مت پڑو میں تمہارے لئے ناشتہ بناتی ہوں تمہارے چچا بھی اسٹور سے آنے ہی والے ہونگے ۔ 

میں چھپ کر رہ گئی۔ ناجانے چچا ساری رات چچی کے ساتھ کیا کرتے تھے جو وہ صبح اپنے پچھلے حصے پر کپڑا باندھ کر چلا کرتی تھیں۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ تبھی چچا گھر میں داخل ہوئے انہیں دیکھتے ہی میں نے فورا اپنے سر پر دوپٹہ سیدھا کیا اور انہیں سلام کرنے لگی۔ وہ سنجیدگی سے سر جھٹک کر جواب دیتے ہوئے بولے۔ گل رخ ! جا کے میرے لیے دیسی گھی کا کول بھر کر لا۔۔۔ جسم میں زرا تھکاوٹ محسوس ہوتا ہے۔ چچا کی بات سنی تو فورا جا کر چچی کو بتایا۔ ان کا چہرہ تو سرخ ہو چکا تھا فورا بوکھلا کر بولیں کہ اچھا میں دیتی ہوں تم جا کر کوئی اور کام کر لو۔۔ میں حیران تھی کہ چچا نے بس گھی ہی تو مانگا آخر چچی اتنا ڈر کیوں رہی تھیں۔ میرا تعلق ایک پٹھان قبیلے سے تھا 

میرے والدین کی وفات ہو گئی تو میں پشاور سے ایبٹ آباد اپنے چچا کے پاس آگئی۔ چچا کہنے لگے کہ آج سے تم ہماری بیٹی ہے ہم تم کو والد بن کر پالے گا۔ میرے چچا بھی خالص پٹھان تھے انتہائی سخت اور مذہبی قسم کے جبکہ میری چچی ایک پنجابن تھی۔ چچا نے ان سے پسند کی شادی کی تھی مگر اب تو چچی شاید چچا سے پناہ مانگا کرتی تھی۔ چچا کا رویہ بھی کافی سخت ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود ان کے تعلقات کیسے تھے یہ تو میں آج تک جان نہیں سکی تھی۔ چچا نے نیم گرم دیسی گھی کا پیالا ایک ہی سانس میں پی لیا اور پھر چچی کو ناجانے سر گوشی میں کیا کہنے لگے کہ وہ سہم کر پیچھے ہٹ گئیں وہ نفی میں گردن ہلانے لگی تھی مگر چچا کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی تھی۔

میرے چچا کا رویہ میرے ساتھ تو باپ جیسا ہی تھا مجھ سے نرمی سے بات کرتے تھے لیکن چچی کے ساتھ وہ بات کرتے ہوئے ہمیشہ تیوری چڑھالیتے میری چچی چچا سے بہت چھوٹی تھیں مجھے ابھی بھی یاد ہے جب انکی شادی ہوئی نمی وہ دھان پان سی بیس سال کی دبلی پتلی سی تھیں اور چچا اس وقت چالیس کے لگ بھگ تھے چچا کی کوئی اولاد بھی نا تھی ایک بار میں نے چچی سے پوچھا بھی کہ ان کے کوئی اولاد کیوں نہیں ہے میری بات پر انکے آنسوں بہنے لگے تھے کہنے لگی تیرے چچا  کو پسند نہیں میں سوچ میں پڑ گئی تھی کہ چچا کو کیوں اولاد نہیں پسند جب امی نے یہ بتایا تھا کہ چچا چچی کی محبت کی شادی ہے اور وہ چچی کو بھگا لائے ہیں تو مجھے یہ سن کر چچی سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا

ہم سب چچا کی شادی کے لئے گئے تھے لیکن اس وقت بھی چچی کی رنگت اڑی ہوئی تھی بار بار یہی کہہ رہیں تھیں کہ مجھے بھاگ کے شادی نہیں کرنی تھی میرے گھر والے یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکتے پھر میں نے باتوں باتوں میں یہ بھی سنا تھا کہ چچا بندوق دیکھا کر انہیں اپنے ساتھ لائے ہیں اس وقت ابا کی اور چچا کی بڑی بحث ہوئی تھی لیکن چچا کے غصے کے سامنے سب ہی چپ ہو گئے تھے چچا کی شادی ہو گی مگر شادی کی اگلی صبح چچی بہت رو رہی تھیں اس کے بعد ہم پشاور واپس چلے گئے تھے لیکن آج جب وقت مجھے ہمیشہ کے لئے یہاں لے آیا تھا میں پریشان کی ہو گئی تھی میرے دل میں دن با دن تجسس بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ اس رات جب میں اپنے کمرے میں سونے کے لئے لیٹی تو کچھ ہی دیر میں آنکھ لگ گئی آدھی رات کو پیاس کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔

 کمرے میں پانی موجود نا تھا اس لئے جب اٹھ کر کچن کی جانب جانے لگی تو چچی کے کمرے سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں۔ چچی دبی دبی آواز میں کراہ رہی تھیں جبکہ چچا ہانپتے ہوئے خالص پشتو میں ناجانے ان سے کیا کہہ رہے تھے ۔ ہاں میں بھی پٹھان تھی مگر چونکہ پشاور شہر میں پلی بڑھی تھی اس لئے پشتو سے زیادہ مجھے اردو میں مہارت حاصل تھی۔ چانا جانے چچی کے ساتھ ایسا کیا کر رہے تھے کہ وہ کراہ رہی تھیں۔ میرا جسم تو جھر جھری لے کر رہ گیا۔ چہرہ سرخ ہونے لگالیوں میاں بیوی کے کمرے کے باہر کھڑے رہنا اچھی بات تو نہیں تھی مگر نا جانے کیوں مجھے لگا جیسے کچھ تو ہے جو ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ خیر صبح ہوئی تو چچی ایک بار پھر کمر کے پچھلے حصے پر کپڑا باندے ہوئے چل رہی تھیں

 آج تو ان کی حالت کل سے بھی زیادہ خراب تھی صاف لگتا تھا کہ جیسے وہ بے حد بیمار ہو ان سے تو چلنا بھی دوبھر ہو رہا تھا۔ شرم کے مارے کچھ پوچھ بھی نہیں سکتی تھی کہی میرا پوچھنا چچی کو برا نا لگ جائے۔ دل میں عجیب و غریب سے وسوسے آرہے تھے مگر چاہ کر بھی چچی سے دریافت نہیں کر سکتی تھی۔ چچی کو تیز بخار ہو رہا تھا میں نے جب چچا کو بتایا تو سر سری سے انداز میں کہنے لگے ایسی حالت میں اکثر ہو جاتا ہے اس کو عادت نہیں ہے نا اس لئے نازک کلی بنا پھر رہا ہے۔ تم کو اس کا درد نظر آگیا مگر جو تکلیف مجھے ہوئی وہ تم کو اب میں کیسے بتاؤں ؟؟؟ چچا سنجیدگی سے کہتا ہوا چچی پر نظر ڈالتے ہوئے وہاں سے جاچکا تھا جبکہ میں شرم سے سر جھکائے بیٹھی رہ گئی مجھے تو دیسے بھی چچا سے بہت شرم آتی تھی

 جبکہ چچی کے ساتھ بھی ایک حد تک ہی بات کیا کرتی ۔ ناجانے ان کی بات کا کیا مطلب تھا میں کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ چچا کچھ تو غلط کر رہے تھے چچی کے ساتھ تبھی تو ان کی طبیعت اس جد تک بگڑتی چلی جارہی تھی۔ یہ دونوں تو کہی سے بھی خوشحال جوڑی نہیں لگتے تھے۔ چچی کی طبیعت اس قدر خراب تھی مگر اس کے باوجود ہر صبح چچی کے کراہنے کی آواز میں ارہی ہوتی تھیں کئی بار تو وہ رو بھی پڑتی میں شرم اور خوف سے اپنے کمرے میں ہی دبک کر بیٹھی رہتی کہ کہی چچا مجھے مداخلت کرتا دیکھ غصہ میں اکر میرے ساتھ بھی وہ سب ناکردیں جو وہ چاچی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ بحر حال مجھے اب چچی پر ترس آنے لگا تھا جو بھی تھا چا اب ان کے ساتھ نا انصافی کر رہے تھے وہ ان کی بیوی تھیں انہیں ان کا خیال رکھنا چاہیے تھا

یہی سوچتے ہوئے میں فکر مند سی ہو گئی اگلے روز صبح کے وقت میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو میں بوکھلا کر اٹھی دروازے پر چچا کھڑے تھے میرے تو انہیں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے وہ کہنے لگا گل رخ ! تمہاری چچی بیمار ہے آج تم ہم کو ناشتہ بنادے گا ؟؟ اسٹور کے لئے دیر ہو رہا ہے۔ میں سمجھتے ہوئے بولی کہ چچی کو کیا ہوا ہے چچا جان ! ؟ وہ نظریں چرا کر بولے کچھ نہیں بس پنجا بن ہے ناتو پٹھان کا غصہ دیکھ کر ہی بہوش ہو جاتا ہے۔ چچا کیا بات کر رہے تھے مجھے کچھ سمجھ ہی نا آیا۔ عجیب پہیلیوں میں الجھا کر رکھ دیا گیا تھا مجھے میں نے چچا کو ناشتہ دے کر روانہ کیا اور پھر فورا چچی کے کمرے میں آگئی جو منظر مجھے دکھائی دیا وہ دیکھ کر میرے تو ہوش اڑ چکے تھے۔

چی بستر کے ساتھ فرش پر گری پڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر تو عجیب لال لال نشان پڑے تھے ۔ وہ بے سدھ سی نیم بہوش گری تھیں میں ان کے قریب گئی اور ان کو اٹھانے لگی ان کا وجود آگ کی طرح جل رہا تھا۔ نیم بہوشی میں ہی وہ جو الفاظ ادا کر رہی تھی وہ سن کر میں شرم سے ہی پانی پانی ہو گئی۔ مجھے سمجھ نا آئی کہ آخر میں کیا جواب دوں۔ چچی بخار کی حالت میں وہ سب بتا چکی تھی جسے سننے کے بعد میر اوجود کانپ گیا۔ میں نے اس روز چچی کا بھر پور خیال رکھا مجھے ان پر شدید ترس آیا تھا مگر تب تک یقین نہیں کر سکتی تھی جب تک اپنی آنکھوں سے سب کچھ ہوتا ہوا نا دیکھ لوں۔ پٹھان گرم مزاج تو ہوتے ہیں ہی انہیں کب کہاں غصہ آجائے کوئی علم نہیں ہوتا مگر میرے چچا تو سب کے سردار نکلے تھے

بیچاری چچی ۔۔۔۔۔ بحر حال اس رات جب چچا گھر آئے تو میں کھانا کھا کر جلدی سونے کا بہانا کرتے ہوئے کمرے میں چلی آئی اور جا کر چا کے کمرے میں الماری میں بیٹھ کر چھپ گئی۔ میں آج یہ پتہ لگانا چاہتی تھی کہ میر اشک ٹھیک ہے یا میں بلاوجہ ہی غلط سوچ رہی ہوں۔۔ ؟؟ ایسا کرنا غلط تھا مگر یہ چچی کی زندگی کا سوال تھا۔ مجھے ڈر بھی تھا کہ کہی چچا جے الماری کھول کر دیکھ لیا تو ۔۔ ؟؟ سوچ کر ہی جھر جھری لے کر رہ گئی۔ کچھ دیریں آگئے وہ کافی سنجیدہ لگ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تو جیسے خون اترا ہوا تھا وہ چچی کے قریب گئے اور انہیں پیروں کی ٹھوکر مار کر کہنے لگے تک ایسے کیسے سو سکتا ہے ؟؟؟

پہلے تم میرے سوال کا جواب دے گا اس کے بعد ہم تم کو سونے دے گا۔ چچی کتنی ہی دیر کچھ نا بولیں وہ رونے لگیں تھیں اور شاید بے حد تھک چکی تھیں فورا اٹھ کر بیٹھی اور چچا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں کہ میں جھوٹ نہیں بول رہی وہی بتایا ہے کو سچ تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے تھے ۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے بخش دیں۔ میں مزید نہیں سہہ سکوں گی۔ مگر چچا اسی پل چچی کو بالوں سے دبوچ کر کہنے لگے خبر دار ! جو تم نے جھوٹ بولا۔ ہم کو شعیب فروٹ والا نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ وہ چشم دید گواہ ہے تمہارا کہ تم ہمارے جانے کے بعد اس نوید کو اشارے کرتی رہی۔ اس کے ساتھ تمہارا تعلق ہے۔ ہم نے تم کو جان سے بھی بڑھ کر عزیز رکھا مگر تم تو دھو کے باز نکلی اب بھگتو۔۔۔ 

ایک پٹھان کی محبت دیکھی تھی تم نے اب اس کی نفرت بھی دیکھو۔۔۔ وہ میری نظروں کے سامنے چچی پر تشدد کرنے لگے مگر ایسا کرنے سے پہلے انہوں نے ان کے منہ میں کپڑا ٹھوس دیا تا کہ آواز باہر نا جا سکے۔ چچی کو مار کھاتا دیکھ میر اوجور کپکپانے لگا میں کانپنے لگی تھی چا تو ان کہ کمر پر بے تحاشہ تشدد کر رہے تھے بچاری چچی لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگی میری تو غلطی ہی یہ تھی کہ تم جیسے شخص سے شادی کر لی جسے اپنی بیوی سے زیادہ ایک راہ چلتے سبزی فروش کی بات پر اعتبار تھا۔ ایک بار بھی مجھے سے پوچھنے کی کوشش نا کی کہ وہ سبزی والا آخر مجھ سے کہہ کیا رہا تھا۔ مگر چچا تو کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے ۔ کچھ دیر بعد جب چا کمرے سے نکلے اور چچی نیم بہوش تھی تو موقع دیکھ کر میں کمرے سے بھاگ آئی مجھے تو یقیقن ہی نہیں آرہا تھا

 کہ چچا اس قدر کچھے کانوں کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بچی بخار میں بھی یہی بڑبڑا رہی تھی۔ کہ انہوں نے چچا جیسے موٹی عقل کو شوہر بنا کر بہت بڑی غلطی کر دی چا یہی کہتے تھے جب تو مجھے سے عشق کے پیچے لڑا سکتی ہے تو کسی اور سے بھی محبت کر سکتی ہے۔ میں سمجھ گی تھی کہ مسلہ کیا ہے میرے چچا کیوں شکی تھے وہ لڑکی جو چار دن کی محبت میں برسوں کی ماں باپ کی محبت کو داؤ پر لگادے اسے کہیں عزت نہیں ملتی شوہر کے گھر بھی نہیں وہی شوہر اسے ساری زندگی اس چار دن کی محبت کی سزا دیتا ہے جیسے میرے چاچی کو دے رہے تھے اور ناجانے یہ ظلم کب تک جاری رہنے والا تھا کاش کے لڑکیاں گھر سے بھاگ جانے سے پہلے اس بارے میں بھی ضرور سوچا کریں چچی نے چچا سے محبت کا اعتراف کیا تو اسے بندوق کی نوک پر بھگا لائے کیا ضرورت تھی اس محبت جیسی مصبت میں پھنسنے کی کون سی خوشی مل گئی تھی۔ چچی کو۔۔۔ بہر حال محبت کا یہ انجام دیکھ کر میرا دل کانپ اٹھا تھا

The End of Loving

Uncle was a pathan. At night, aunt would tie her back. In the morning, when she saw aunt, she would walk quietly. I was shy and did not ask the reason. One day, I felt pity for aunt. That day, when my uncle came, I hid in the room. My senses were blown away, uncle. After seeing what I saw that night, it was as if my senses were blown away. For the first time, I felt hatred towards my uncle, I could not even imagine that the uncle whom I used to consider as a father could be so depraved that he thought of his own wife. Chichi Bachari fell face down on the ground

While uncle had crossed all limits today, now I understood why my aunt used to drive with her rear end tied. I got scared and immediately moved away from there. I didn’t have the courage to look further. I was sleeping deeply in my room. When the sound of my moaning hit my ears, I thought at first that maybe it was just my dream or an illusion. As soon as I woke up from sleep, I realized that it was not a dream, but in reality I was moaning. sound is coming-

I opened my eyes and started looking around, but the room was completely dark. I don’t know what time of the night it was. There was complete silence. It meant that it was morning, but where was the sound coming from and who was doing it? I got up and went straight to the washroom. I immediately splashed water on my face in the wash basin and some eyes opened. It was my aunt’s moaning sound.

The scene of last night started spinning in my mind, what had happened to my aunt, my eyes were immediately wide open, it seemed as if all my sleep had been blown away from my eyes in a second. I immediately left my room and came out to the lounge, I was stunned. My aunt was standing near the door of the room and was moaning while standing by the door. You are in severe pain. But her hair was scattered on her face, as if the fatigue of years had appeared, she was standing trembling with the support of the door.

But today once again she had tied a dupatta around her waist, she immediately stood up straight after seeing me and hiding the worry on her face, she said, “Son, you woke up, I was just about to make breakfast.” In fact, your uncle keeps talking to me till late at night, then he doesn’t even open his eyes again in the morning. While I was looking at her in amazement as if she was a patient of centuries, I went closer to aunty, it was clear from her face that she was lying. I went near them and said, “Aunt, you are fine, you are not sick.” Aunt said, “No, son, I am fine, I just had a headache, so I tied a dupatta on my head, so I understand.” used to come

But I could not understand what was the meaning of tying a dupatta around the waist, but I did not like to ask more. I remembered very well that when my uncle got married, my aunt was in good health, she was fair, but now she had turned yellow and looked old before her time. When she walked into the kitchen, she looked strange. They were walking awkwardly with their hands on their backs, then they were walking with a thud. It seemed as if they were having trouble walking. ?? Aunty took one look at me and said that you have just sold, don’t get involved in these matters. I am making breakfast for you. Your uncle will also come from the store.

I remained hidden. Najane uncle used to do all night with aunt who used to walk in the morning with a cloth tied on her back. I was thinking the same thing, when uncle entered the house, I immediately straightened my dupatta on my head and started saluting him. He answered with a serious nod. Gul Rukh! Go and get me a kol of desi ghee. The body feels a little tired. After hearing the uncle’s words, he immediately went and told the aunt. His face was already red and he immediately said, “Well, I will give it to you. You should go and do something else.” I was surprised that uncle only asked for ghee then why aunty was so afraid. I belonged to a Pathan tribe

When my parents died, I came from Peshawar to Abbottabad to live with my uncle. Uncle said that from today you are our daughter, we will raise you as a father. My uncle was also a pure Pathan, very strict and religious type while my aunt was a Punjabi. The uncle had married her of choice but now the aunt might have sought shelter from the uncle. Uncle’s behavior had also become quite strict, but despite this, I could not know how their relationship was till today. Uncle drank the cup of half-heated country ghee in one breath and then what he said over the earpiece to Auntie without realizing it, she took a step back, she started to shake her head in denial, but uncle’s face had a devilish smile.

My uncle’s behavior towards me was the same as that of my father, he used to talk to me gently, but with my aunt, he always used to make tiori while talking. My aunt was much younger than my uncle. I still remember when they got married. She was 20 years old and thin and my uncle was around 40 at that time. My uncle did not have any children. Once I asked my aunt why she did not have any children. Her tears began to flow when I told her. Uncle doesn’t like me I was wondering why uncle doesn’t like children when mom told that uncle is aunt’s love marriage and he has chased aunt away then I had a great desire to meet aunt after hearing that.

We all went for my uncle’s wedding, but at that time my aunt’s complexion was pale. I heard that uncle saw the gun and brought it with him. At that time, there was a big argument between father and uncle, but everyone became silent in front of uncle’s anger. After that we went back to Peshawar but today I was worried when time had brought me here forever, my curiosity was increasing day by day. That night, when I lay down to sleep in my room, my eyes opened in the middle of the night due to thirst.

There was no water in the room, so when she got up and went towards the kitchen, there were strange sounds coming from aunt’s room. Aunty was moaning in a muffled voice while uncle was gasping and saying to her in pure Pashto. Yes, I was also a Pathan, but because I grew up in Peshawar city, I was more proficient in Urdu than Pashto. Chana knows what he was doing with aunty that she was moaning. My body was left with wrinkles. It was not a good thing to stand outside the couple’s room with a red face, but I don’t know why I felt like something was not right. Well, when the morning came, aunty was once again walking with a cloth tied on the back of her waist

Today, his condition was even worse than yesterday, it was clear that he was very sick, even walking was becoming difficult. Out of shame, she could not even ask anything, lest my aunt feel bad about my asking. There were strange whispers in my heart, but even if I wanted to, I could not ask my aunt. Aunty was having a high fever. When I told uncle, he said in a sarcastic manner that it happens often in such a condition, isn’t he used to it, that’s why he is developing a delicate bud. You saw his pain, but how can I tell you the pain that I suffered? Uncle said seriously, looking at aunty, he left there, while I remained sitting with my head bowed in shame.

While she used to talk with her aunt to some extent. I didn’t understand what he meant. Uncle was doing something wrong with aunt, then her condition was getting worse. These two did not seem like a happy couple. Aunty’s health was so bad, but despite that, every morning I used to wake up to the sound of aunty’s moaning. Many times she would cry. I am saying that he did the same with me as he did with his aunt. Anyway, I felt sorry for aunty now, whoever was doing injustice to her now, she was his wife, she should have taken care of her.

Thinking about this, I became worried. The next morning there was a knock on the door of my room, so I woke up and my uncle was standing at the door. Your aunt is sick, will you make us breakfast today?? Getting late for the store. I understand what happened to aunt, uncle! ? He looked away and said nothing, but Panja bin hai. Natu faints after seeing the anger of Pathan. I did not understand what uncle was talking about. I was confused in strange riddles.

Chi was lying on the floor next to the bed. There were strange red marks on his face. She was almost unconscious, I went near her and started to lift her, her existence was burning like fire. Hearing the words she was uttering in a semi-conscious state, I was overcome with shame. I didn’t know what to answer in the end. Aunty had told everything in the state of fever, after hearing which Mir Ajood trembled. I took great care of aunt that day, I felt sorry for her, but I couldn’t believe it until I saw everything happening with my own eyes. Pathans are hot-tempered, they do not know when and where to get angry, but my uncle turned out to be the leader of all.

Poor aunt. However, that night when uncle came home, I went to the room pretending to sleep early after eating and went and hid in the closet in Cha’s room. Today I wanted to find out whether Mir Ishq is right or I am thinking wrong for no reason. ?? It was wrong to do so but it was a question of aunt’s life. I was also afraid that uncle J would open the cupboard and see. ?? Just thinking about it left me with a wrinkle. He was so mad that he went near the aunt and stomped her feet and said, “How can you sleep like this?”

First you will answer my question then we will let you sleep. Aunty did not say anything for a long time, she started crying and maybe she was very tired. were understanding God forgive me. I can’t take it anymore. But at that moment, the uncle grabbed the aunt by her hair and said, “I’m sorry!” What you lied about. Shoaib Fruitwala told us everything truthfully. She is your eyewitness that you kept on pointing to this Naveed after we left. You have a relationship with him. We loved you more than our lives, but you turned away from washing, now you are running away.

You saw the love of a Pathan, now you see his hatred. They started torturing Chichi in front of my eyes but before doing so they put a cloth in her mouth so that the sound could not come out. Seeing my aunt being beaten, Mir Ojoor shivered. More than one street vendor’s words were believed. Not even once did he try to ask me what the vegetable man was saying to me. But uncle did not want to hear anything. After some time when Cha left the room and aunty was half unconscious, I ran away from the room seeing the opportunity.

That uncle can be so deaf. The girl was also muttering the same thing in fever. That they made a big mistake by marrying a man with a thick intellect like uncle. They used to say that if you can fight for love with me, then you can love someone else. I would have understood what the problem was, why my uncle was skeptical. A girl who stakes her parents’ love for four days for four days of love will not get respect anywhere, not even at her husband’s house.

He punishes love like he was giving to my aunt and I don’t know how long this cruelty was going to continue. I wish the girls would think about this before running away from home. What was the need to be driven to the edge, what happiness was there to be trapped in such a love affair. To aunt However, seeing this end of love, my heart trembled.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *