urdu-romantic-novels

اندھی محبت

میر انام حبیبہ ہے اور میرا تعلق لاہور سے ہے۔ میری عمر اس وقت اٹھارہ سال ہے۔ اتنی سی عمر میں بھی میں بہت ساری ٹھوکریں کھا چکی ہوں۔ سب لوگ اس بات کا الزام میرے بابا پر لگاتے ہیں لیکن میں جانتی ہوں کہ میرے باباکا گناہ صرف اتنا سا ہے کہ انہوں نے مجھے حد سے بڑھ کر پیار کیا تھا۔ ہم لوگ چار بہنیں تھیں میں بہنوں میں سب سے بڑی ہوں۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں تھا لیکن پھر بھی اماں ابا کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ وہ دونوں سب سے صرف یہی کہتے تھے کہ بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے میں کیسے رب کی ناشکری کروں۔ دادی اور نانی ہمیشہ ان دونوں کو کہتی تھیں کہ کوئی علاج کرواؤ یا کسی پیر بابا کے پاس جاؤ۔ 

اگر اتنا نہیں کر سکتے تو کوئی منت ہی مانگ لو پر ان دونوں کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ اللہ نے ہمیں اولاد دی تو ہے ہم لوگ آخر کس چیز کا علاج کروائیں۔ ان کی ایسی ہی باتوں کی وجہ سے سب لوگ ان دونوں سے ناراض رہتے تھے لیکن اماں اباخوش تھے اور وہ دونوں ہمیں بہت اچھی زندگی دے رہے تھے۔ دونوں کی کوشش تھی کہ ہمیں جتنا ہو سکتا ہے اچھا پڑھائیں لکھائیں۔ اس وجہ سے ابا روز کی دود و نوکریاں کرتے تھے۔ وہ صبح نو بجے جاتے اور پانچ بجے تک آفس میں ہوتے اور پھر رات دس تک دوسرے دفتر جاتے۔ اسی طرح امی بھی صبح کے وقت ایک سکول میں پڑھاتی تھیں۔ ہمارا گزارا اچھا چل رہا تھا۔ ہم چاروں بہنیں سکول سے گھر آتی اور پھر قرآن پڑھنے چلی جاتی۔ وہاں سے آکر سیدھا ٹیوشن چلے جاتے اور گھر پر بھی اماں کے پاس ٹویشن والے بچے آجاتے۔ 

ایسا ہی سب اچھا چل رہا تھا کہ ہمیں سکولوں سے چھٹیاں وہ گئیں۔ اور کرونا کی وجہ سے وہ چھٹیاں بڑھتی ہی جارہی تھیں۔ میں جو پہلے سکول اور پھر ٹویشن جاتی تھی سب کچھ بند ہو گیا اور اب ہم سب بہنیں گھر ہی رہتی تھی۔ ابا صبح دفتر جاتے اور اماں جو پہلے سکول جاتی تھیں وہ سب گھر پر سلائی سنٹر شروع کر چکی تھیں۔ گھر کا بڑا کمرہ اس کے لیے مختص تھا۔ ہم سب بہنیں سارا دن آپس میں کھیلتی تھیں لیکن اب بور ہونے لگے تو ابا نے ہمیں گھر میں نیٹ لگوادیا اور موبائل اور کمپیوٹر لاد یاتا کہ ہم لوگ اس سے اپنا ٹائم پاس کر سکیں۔ سب لوگوں نے  ابا کو بہت باتیں سنائی کہ دیکھو ذرا بچیوں کو یہ سب لا کر دے رہا ہے۔ دونوں میاں بیوی سارا دن محنت کر کے کماتے ہیں اور یہ اڑاتے جارہے ہیں۔ 

دادی جو چاچو کے پاس ہوتی تھیں وہ بھی اکثرا با سے یہی کہتی تھی تمہاری ایک نہیں چار بیٹیاں ہیں ابھی سے ان کے لیے جوڑ نا شروع کرو گے تو جہیز بنے گا۔ لیکن اہانے کسی کی بھی بات نہیں مانی اور ہماری خوشیاں پوری کرتے رہے۔ اور سب کے اتنا کہنے کے باوجود کے بچیوں پر سختی کر دور نہ بگڑ جائیں گی ابا نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ باقی بہنیں چھوٹی تھیں وہ سارا دن ٹی وی پر کارٹونز دیکھتی رہتیں اور میں موبائل کی طرف لگ گئی۔ اماں سلائی سنٹر میں ہوتی تھیں اور بس ہمیں کھانا وغیرہ دینے آجاتی اس طرح ابا بھی مصروف تھے۔ اور میں نے اپنے ٹائم پاس کے لیے سوشل میڈ یا ایپس ڈانلوڈ کر لی۔ اب میں ہر وقت فیس بک انسٹا گرام اور ٹوئیٹر چلاتی تھی۔ 

کئی گروپس کی ایکٹو ممبر تھی اور بہت سے لوگ مجھے پسند کرتے تھے۔ ایسا ہی سب اچھا چل رہا تھا کہ مجھے ایک فائز نام کے لڑکے کی فرینڈ ریکوسٹ آئی۔ جو میں نے بس دل کی مان کر قبول کرلی۔ اس سے میری تھوڑی بہت ہیلو ہائے ہوئی اور پھر یہ سلسلہ لمبا چل نکلا۔ اب ہم دونوں سارا دن اور ساری رات باتیں کرتے تھے۔ گھر پر کوئی ہوتا تو تھا نہیں جو مجھے منع کرتا اس لیے میں سارادن لگی رہتی بس جب ابا آتے اور رات کو سب ساتھ بیٹھتے صرف اس وقت ہماری باتیں کچھ دیر کے لیے رکتی تھیں۔ ورنہ یہ سلسلہ مسلسل رہتا۔ فائز بھی ہر وقت مجھ سے باتیں کرتارہتا یہاں تک کہ وہ باہر جاتے ہوئے بائیک پر یا پھر کسی دکان پر بھی کھڑے ہو کر بھی باتیں کرنے سے باز نہیں آتا تھا۔

مجھے اس کی یہی بات پسند تھی کہ وہ مجھ سے ایک لمحہ بھی دور نہیں رہ سکتا تھا۔ اور اب تو ہم لوگوں میں تصاویر کا تبادلہ بھی ہونے لگا تھا۔ میں خوش تھی کیونکہ وہ ہر وقت میری تعریفیں کرتا رہتا تھا اور دن میں کم از کم پندرہ دفعہ مجھے تصویر بھیجنے کا کہتا۔ میں بڑی حیران تھی لیکن وہ کہتا کہ مجھے دیکھے بنا اس کا گزارا نہیں ہوتا۔ مجھے بھی وہ بہت پیار الگتا تھا وہ بھی چھوٹا سا تھا اس کی عمر مجھ سے چار پانچ سال ہی زیادہ تھی۔ میں تیرہ سال کی تھی اور وہ اٹھارہ کا تھا۔ ہم لوگ آپس میں اپنی آنے والی زندگی کے کئی پلین بناتے تھے۔ ایسے ہی دن گزرتے جارہے تھے کہ فائز نے کہا کہ ہمیں اب شادی کرنی چاہیے۔ میں نے اسے کہا کہ ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے مجھے کم از کم 20 سال کا ہونا چاہیے اور تمہیں 25 کا۔ 

لیکن وہ نہیں مان رہا تھا۔ اسے اب میری یاد بہت زیادہ آتی تھی اور میرے بغیر اس کا گزارا بھی نا ممکن تھا۔ وہ کہتا تھا کہ تمہارے بنا مجھے اب سانس بھی نہیں آتی۔ اس کی ایسی باتیں سن کر میں بھی ہے بس ہو جاتی تھی۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں اماں ابا سے یہ بھی پوچھا تھا کہ اگر میرا کوئی رشتہ آتا ہے تو کیا ہو گا۔ لیکن اماں نے اسی وقت کہہ دیا کہ تم بہت چھوٹی ہوں۔ بڑے تایا بھی میرا رشتہ اپنے گھر کرنا چاہتے تھے لیکن ابا نے صاف منع کر دیا۔ کیونکہ انہیں میں بہت چھوٹی لگتی تھی۔ میں سمجھ گئی کہ اگر ابھی فائز کے گھر سے کوئی آتا ہے تو اسے بھی منع کر دیا جائے گا کیونکہ سب کو میں چھوٹی لگتی ہوں۔ اس لیے میں نے فائز کو خود ہی جواب دے دیا کہ وہ میرے گھر نہ آئے۔ 

اس نے بہت ضد کی لیکن میں بھی مجبور تھی کیونکہ اگر وہ ہمارے گھر آتا تو ا سے انکار ہی ملتا۔ آج کل مجھے ہر ایک انسان پر شدید غصہ تھا کیونکہ مجھے ہرانسان اپناد ضمن لگ رہا تھا۔ خاص طور پر اپنے گھر والے۔ کیونکہ ان کی ہی وجہ سے فائز مجھ سے ناراض تھا اور اب مجھ سے دور رہنے لگا تھا۔ میں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور میرے پاس آنا چاہتا ہے اس وجہ سے بس وہ ایسا کر رہا ہے میں بھی ساری ساری رات اور دن روتی رہتی تھی۔ نہ کچھ کھاتی تھی اور نہ پیتی تھی۔ اور پھر ایک دن فائز نے مجھ سے کہا کہ ہمیں بھاگ جانا چاہیے۔ میں نے اسے اس بات پر بہت غصہ کیا تو وہ بولا کہ وہ مجھے اس حال میں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ 

میں نے اسے پھر بھی بہت منع کیا تھا لیکن وہ باز نہیں آیا اور مجھے حاصل کرنے کے لیے دلیلیں دیتا رہا مجھ میں بھی اب ہمت آرہی تھی اور تین چار مہینے بعد میں آخر رضامند ہو ہی گئی۔ اور میں نے فائز کے ساتھ بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اسے کہا کہ میں آ تو جاؤں گی اتنی دور سے لیکن تمہارے پاس آنا کیسے ہے تو وہ بولا وہ خود ہی میرے گھر ا کر لے جائے گا اور رات کے وقت میں بس باہر آجاؤں۔ میں بھی مان گئی اور میں روز تھوڑی تھوڑی چیزیں نیچے گارڈن میں چھپا آتی۔ تاکہ جب میں بھا گوں تو کسی کو بھی شک نہ ہو۔ اور اس طرح ایک رات کا پلین پکا ہو گیا اور اب جب فائز باہر آیا تو میں جلدی سے گارڈن میں چھپایا ہو اسامان لے کر اس کے پاس پہنچ گئی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ 

فائز نے پہلی دفعہ مجھے سامنے سے اور میں نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہم دونوں اس نئے شہر آگئے اور فائز نے دوستوں کے سامنے ہی مجھ سے شادی کر لی۔ میں نے اسے کہا کہ تم مجھے گھر کب لے کر جاؤ گے تو وہ بولا کہ ابھی ایک دو دن رک جاؤ۔ اس نے مجھے دوستوں کے پاس ہی رکھا تھا۔ وہاں ایک کمرہ میر ا تھا۔ سب لوگ مجھے بھا بھی کہتے تھے اور بہت پیار کرتے تھے۔ تب ہی ایک دن فائز جلدی سے بھاگتا ہوا گھر آیا اور اپنے دوستوں کو کان میں کچھ کہا۔ وہ لوگ بھی گھبراگئے اور جلدی سے ٹی وی آن کیا۔ اور جب ٹی وی چلا تو سامنے میرے اماں ابا تھے۔ وہ لوگ وہاں اونچی اونچی رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہماری بچی جو چھوٹی سی ہے اسے کسی نے اغواء کر لیا ہے۔

اور اس کا اعلان کسی نے اپنی مسجد میں نہیں کیا۔ وہ ایک بہت بڑا چینل تھا۔ میں نے فائز سے کہا کہ ہمیں اب مزید سب سے نہیں بھاگنا۔ بلکہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ سب کے سامنے چلے جاتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ ہم نے شادی کی ہے۔ اب وہ لوگ کیا کر لیں گے۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ تمہیں مجھ سے شادی ہی کرنی تھی ناوہ ہم نے کر لی اب وہ لوگ کچھ نہیں کریں گے۔ لیکن فائز نہ مانا۔ وہ اب دوستوں کے ساتھ ہر وقت سرگوشی میں بات کرتارہتا تھا۔ اور پھر ایک دن وہ مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں اس کے گھر والے تھے۔ اس کی اماں کا حلیہ بہت عجیب سا تھا جیسے وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں۔ فائز نے مجھے کہا کہ دیکھو اب پولیس ہمیں تلاش کر رہی ہے اور وہ جلد ہی ہمیں ڈھونڈ لیں گے اس لیے تمہیں اب میری بھی حفاظت کرنی ہو گی

 اور ہمارے پیار کے لیے لوگوں کے سامنے ڈٹ جانا ہو گا۔ اس کی ان جذباتی باتوں کی وجہ سے مجھ میں بھی نیا جوش آگیا تھا۔ اور میں نے کہا کہ اب میں کچھ بھی کر کے تمہاری حفاظت کروں کی کیونکہ تم میرے شوہر ہو۔ فائز نے کہا کہ اگر دنیا والوں نے ہمیں الگ کرنے کی کوشش کی تو ہم دونوں خود کشی کر لیں گے۔ اس وقت میں بھی اس کی باتوں میں آگئی۔ فائز نے کہا کہ اب ہم خود دنیا کے سامنے جائیں گے اور سب کو کہیں گے کہ تمہارے ماں باپ تمہیں مارتے تھے اور کبھی بھی کوئی خواہش پوری نہیں کرتے تھے۔ تم نے انہیں رشتے کا کہا تھا مگر وہ نہ مانے۔ اور تم آتے وقت یہ خط بھی لکھ کر آئی تھی۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ سب کو کہنا ہے کہ تم خود یہاں تک ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر آئی تھی اور میری امی نے ٹیکسی کا کرایہ دیا تھا۔

یہ کہانی تو بالکل الگ تھی۔ میں نے فائز سے کہا بھی کہ ایسا مت کہو۔ یہ سب تو غلط ہے لیکن وہ کسی صورت نہیں مان رہے تھے۔ وہ بس یہ چاہتے تھے کہ میں ان کی حفاظت کروں اور پچھلے کچھ دن میرے جتنے اچھے گزرے تھے میں اب اس سراب میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی کہ فائزہ مجھ سے بے تحاشہ محبت کرتے ہیں۔ اس لیے میں یہ سب کرنے کو بھی تیار ہو گئی۔ میں نے وہی سب جھوٹ بولے جو مجھے فائز نے کہا تھا۔ ہمیں عدالت میں بھی پیش کر دیا گیا لیکن میں اپنی بات سے ایک انچ ہی نہیں ہلی تھی مجھے سب کے سامنے فائز جو سچا ثابت کرنا تھا اس لیے میں نے اپنی عمر بھی غلط بتائی۔ اور سب کو کہا کہ میں اٹھارہ سال کی ہوں۔ پر میڈیکل کے ٹیسٹس کی وجہ سے میرا یہ جھوٹ جلد ہی پکڑا گیا اور پردہ فاش ہو گیا۔

بابا کسی صورت بھی کیس ہارنے کو تیار نہیں تھے لیکن مجھے کچھ تو کرنا ہی تھا۔ میں بھی مزید جھوٹ بولتی رہی لوگ میرے ماں باپ کے کردار اور پر کیچڑ اچھالتے رہے پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں بس فائز کے پیار میں آندھی ہو گئی تھی۔ اس سب کے باوجود بھی فیصلہ میرے ابا کے حق میں آیا تھا۔ اور مجھے ان کے حوالے کر دیا گیا۔ میں جب گھر گئی تو سب بہت خوش تھے۔ میری بہنیں بھی خوش تھی لیکن مجھے فایز یاد آرہا تھا۔ میں مسلسل اسے یاد کر رہی تھی اور مجھے اپنے والدین کو دیکھ دیکھ کر غصہ آرہا تھا۔ اور پھر میں نے ابا کا موبائل پکڑا اور کمرے میں چلی گئی۔ اور میں نے سوچا کہ میں فائز سے رابطہ کروں کہ مجھے یہاں سے لے جائے۔

اور پھر جب میں نے ابا کا موبائل کھولا تو غلطی سے میں واٹس ایپ میں چلی گئی تو حیران رہ گئی کیونکہ وہاں سے ابا کے نمبر پر کئی میسج تھے۔ جب کھولا تو پتا لگا کہ یہاں تو کافی لمبی بات تھی۔ اور کچھ ویڈیوز بھی بھیجی گئی۔ جب میں نے وہ ویڈیوز دیکھی تو شرم سے لال ہو گئی کیونکہ وہ تو میری سوئی ہوئی کی تصویریں تھیں۔ اور ایسے مناظر تھے جو میں بیان بھی نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد فائز کے کچھ میسج تھے جو وہ بابا کو کہہ رہا تھا کہ وہ اس کیس کا پیچھا چھوڑ دیں ورنہ وہ یہ سب ایک کر دے گا اور مجھے بدنام کر دے گا۔ لیکن بابا اس سے نہیں ڈرے تھے اور اسے اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا تب مجھے پتا لگا کہ فائز ایک گینگ کا بندہ تھاجو کہ لڑکیوں کو ایسے ہی سوشل میڈیا پر بہلاتے تھے اور انہیں شادی کا جھانسا دے کر ساتھ لے آتے۔ 

اور جھوٹا نکاح کر لیتے۔ لڑکیوں کے ماں باپ شرم کی وجہ سے نہیں بولتے تھے۔ اور پھر یہ لوگ ان لڑکیوں کو آگے بیچ دیتے تھے۔ لیکن میرے باپ نے بہت شور مچایا تھا اور مجھ سے ستمبر دار ہونے کو کسی صورت بھی تیار نہیں تھے۔ ابا نے یہ ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی یہی کہا تھا کہ جو بھی کر لو میں بچی حاصل کر کے رہوں گا۔۔ مجھے بہت رونا آیا کہ میں نے جس قدر غلط کیا اور اپنے والدین کے بارے میں کیا کیا بولتی رہی۔ میں نت اب سوچ لیا تھا کہ اپنے کیے کا سارا بوجھ میں خود اٹھاؤں گی۔ اب کورٹ میں ایک اور پیشی تھی جو کہ فائز نے چیلنج کیا تھا۔ میں وہاں سب کے ساتھ گئی تو وہ مجھے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ پر میں اس کا ڈرامہ جانتی تھی۔ اس لیے میں نے کورٹ میں سہی بیان دیا کہ فائز کا ایک گینگ ہے اور یہ دوست ایسے ہزار لڑکیاں لاچکے ہیں۔ 

سب حیران تھے کہ یہ کا یا کیسے پلٹی۔ تب میں نے انہیں حقیقت بتائی۔ اس کے بعد فائر پر لگے سب الزام سچ ثابت ہو گئے تھے۔ اور اسے جیل کی سزا ہو گئی وہ سارا گینگ بھی پکڑا گیا۔ اس میں فائز کی ماں بھی شامل تھی اسے بھی جیل ہو گئی۔ آج میں اپنے گھر تھی اور بہت خوش ہوں۔ میرے ماں باپ مجھے پڑھا لکھا رہے تھے۔ اور مجھے امید ہے کہ اب میں ڈاکٹر بن جاؤں گی اور پھر اپنے ماں باپ کا نام روشن کروں گی اور اب میری زندگی کاہر فیصلہ میرے ماں باپ کے ہاتھ میں ہے۔

Blind Love

My name is Habiba and I belong to Lahore. I am currently eighteen years old. Even at such a young age, I have stumbled many times. Everyone blames my baba for this but I know that my baba’s only sin is that he loved me too much. We were four sisters, I am the eldest among the sisters. We didn’t have any brothers, but still Amma didn’t even frown on Abba’s forehead. Both of them used to say only that daughters are the mercy of Allah. How can I be ungrateful to the Lord in the presence of them? Dadi and Nani always told them both to get some treatment or go to some Pir Baba.

If you can’t do that, then ask for a vow, but the answer of both of them is always that Allah gave us children, so what should we get treatment for. Everyone used to be angry with them both because of such things, but Amma was happy and they were giving us a very good life. Both tried to teach us as well as possible. For this reason, father used to do daily chores. He used to go at nine in the morning and be in the office till five and then go to another office till ten at night. Similarly, mother used to teach in a school in the morning. Our life was going well. We four sisters would come home from school and then go to read Quran. After coming from there, they would go directly to tutoring and children with tutoring would come to their mothers at home.

Everything was going so well that we had school holidays. And because of Corona, those holidays were increasing. I, who used to go to school first and then tutoring, everything stopped and now all of us sisters stayed at home. Father used to go to office in the morning and mother who used to go to school had started a sewing center at home. The big room in the house was reserved for him. All of us sisters used to play with each other all day, but now we started getting bored, so father installed us a net in the house and loaded mobile and computer so that we can pass our time. All the people told a lot of things to the father that he is bringing all these things to the girls. Both husband and wife earn by working hard all day and are blowing it.

Grandmother, who used to stay with Uncle, used to say the same thing to Ba, you have not one, but four daughters. But they did not listen to anyone and continued to fulfill our happiness. And despite everyone saying so much, they will not go away by being strict with the girls. Father had not done anything like that. The rest of the sisters were younger, they used to watch cartoons on TV all day and I turned to mobile. Amma used to be in the sewing center and she used to come to give us food etc. Thus, Abba was also busy. And I downloaded social media or apps for my time pass. Now I used to run Facebook Instagram and Twitter all the time.

I was an active member of many groups and liked by many people. Everything was going so well that I got a friend request from a guy named Faiz. Which I just accepted by heart. This made me laugh a lot and then it went on for a long time. Now we both used to talk all day and all night. There was no one at home who forbade me, so I was busy all day, only when my father came and at night we all sat together, only then our talks stopped for a while. Otherwise, this cycle would continue. Faiz also used to talk to me all the time, even when he was going out on a bike or standing at a shop, he would not stop talking.

What I loved about him was that he couldn’t stay away from me even for a moment. And now we started exchanging pictures. I was happy because he complimented me all the time and asked me to send him a picture at least fifteen times a day. I was very surprised but he said that he does not live without seeing me. I also loved him very much, he was also small, he was only four or five years older than me. I was thirteen and he was eighteen. We used to make many plans for our future life among ourselves. Days were passing by and Faiz said that we should get married now. I told him what is our age now, I should be at least 20 and you should be 25.

But he was not believing. He missed me a lot now and it was impossible for him to live without me. He used to say that without you I can’t even breathe anymore. I used to get tired of hearing such things from him. I also asked Amma Abba in the same words that if I have a relationship, what will happen. But mother said at the same time that you are too young. My uncle also wanted to marry me at his house, but my father flatly forbade it. Because they thought I was too small. I understood that if anyone comes from Faiz’s house, he will also be banned because everyone thinks I am small. Therefore, I answered Faiz myself that he should not come to my house.

He was very stubborn but I was also forced because if he came to our house, he would have been refused. Today I was very angry with every human being because I felt that every human being was dependent on me. Especially your family. Because Faiz was angry with me because of them and now he started staying away from me. I knew that he loves me and wants to come to me that’s why he is doing this, I used to cry all day and night. She neither ate nor drank anything and then one day Faiz told me that we should run away. I made him very angry about this and he said that he could not see me crying like this.

I still refused him a lot but he didn’t stop and kept giving arguments to get me. And I decided to run away with Faiz. I told him that I will come from such a distance but how can I come to you, so he said that he will take me to my house and I will come out at night. I also agreed and every day I used to hide little things in the garden below. So that when I run away, no one will suspect. And thus the one-night plane was cooked and now when Faiz came out, I hurriedly took Asaman hidden in the garden and reached him and sat in the car.

Faiz saw me from the front for the first time and I saw him for the first time. We both came to this new city and Faiz married me in front of his friends. I asked him when will you take me home, he said stay for a day or two. He kept me close to friends. There was a room there. Everyone called me brother and loved me very much. Then one day Faiz came running home and whispered something in his friends ear. Those people also panicked and quickly turned on the TV. And when the TV came on, there was my mother and father in front. Those people were there crying loudly and saying that someone has kidnapped our little girl.

And no one announced it in their mosque. He was a great channel. I told Faiz that we should not run away from everyone anymore. Rather, we do this by going in front of everyone and admitting that we are married. What will they do now? They can’t do anything. You had to marry me, now we did it, now they won’t do anything. But not accepted. He was now whispering to his friends all the time. And then one day he took me to his house where his family was. Her mother’s dress was very strange as she worked in people’s houses. Faiz told me look now police is looking for us and they will find us soon so now you have to protect me too.

And we have to stand up in front of people for our love. Because of these emotional words of his, I also got a new enthusiasm. And I said that now I will do anything to protect you because you are my husband. Faiz said that if the people of the world try to separate us, both of us will commit suicide. At that time I also got into his words. Faiz said that now we ourselves will go in front of the world and tell everyone that your parents used to beat you and never fulfill any wish. You told them about the relationship but they didn’t agree. And this letter was also written when you came. And he also said that everyone has to say that you yourself came here in a taxi and my mother paid the taxi fare.

This story was completely different. I told Faiz not to say that. All this is wrong, but they were not accepting it. They just wanted me to protect them and as good as I had been for the past few days, I was now completely under the illusion that Faiza loved me immensely. So I was ready to do all this. I told all the lies that Faiz told me. We were also produced in the court but I did not budge an inch from my word, I had to prove the truth in front of everyone, so I also gave my age wrongly. And told everyone that I am eighteen years old. But due to medical tests, my lie was soon caught and exposed.

Baba was not ready to lose the case in any case but I had to do something. I also kept lying more and more, people kept throwing mud on my parents’ character, but it didn’t matter to me. I just fell in love with Faiz. Despite all this, the decision was in favor of my father. And I was handed over to them. When I went home, everyone was very happy. My sisters were also happy but I was missing Faiz. I was constantly missing her and I was angry to see my parents. And then I took my father’s mobile and went to the room. And I thought I should contact Faiz to take me from here.

And then when I opened my father’s mobile, I accidentally went to WhatsApp and was surprised because there were many messages on my father’s number. When I opened it, I found that there was a long story here. And some videos were also sent. When I saw those videos, I blushed with embarrassment because they were pictures of me sleeping. And there were scenes that I cannot even describe. After that there were some messages from Faiz telling Baba to stop pursuing this case or else he will consolidate it all and defame me. But Baba was not afraid of him and did not let him succeed in his goal then I came to know that Faiz was a member of a gang who used to seduce girls on such social media and bring them along on the pretense of marriage.

And fake marriage. The parents of the girls did not speak because of shame. And then these people used to sell these girls. But my father made a lot of noise and was not ready to be a septuary with me in any case. Dad, after watching these videos, I will continue to have a baby girl. I cried a lot because of what I did wrong and what I kept saying about my parents. I had just thought that I will bear all the burden of my actions. Now there was another appearance in the court which was challenged by Faiz. When I went there with everyone, he was laughing at me. But I knew his drama. Therefore, I stated in the court that Faiz has a gang and these friends have brought thousands of such girls.

Everyone was wondering how it turned out. Then I told them the truth. After that, all the allegations against the fire were proved to be true. And he was sentenced to jail, the whole gang was also caught. Faiz’s mother was also involved in this and she was also jailed. Today I was at home and very happy. My parents were teaching me. And I hope that now I will become a doctor and then I will bring glory to my parents and now every decision of my life is in the hands of my parents.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *