خواب یا حقیقت

بہنوئی فوت ہوا تو میں کھڑریانوالہ اپنی بہن کے گھر رہنے چلی گئی گرمیوں کے دن تھے سارادن مہمانوں کو پانی پلاتے تھک گئی گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر تھی رات ہوئی تو تھکن سے چور بہنوئی کے بیڈ پر جا کر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد اچانک سے میری آنکھ کھلی تو ہوش اڑگئے میرا بہنوئی میرے اوپر۔۔ میں صبح اٹھی ہی تھی کہ جب ایک ایسی خبر مجھے سننے کو مل گی کہ میں چکرا کر ہی رہ گئی رے موبائل پہ مسلسل بیل ہو رہی تھی اور میں اپنے شوہر کے لیے ناشتہ بنارہی تھی کچن میں مصروف تھی کہ جب میرے شوہر جواد نے میر افون لا کر مجھے دیا اور کہنے لگے لو پکڑو بات کرو اپنی بڑی بہن سے ایک تو تمہاری بہنوں کو چین نہیں ہے کم از کم اپنے شوہروں کو کام پر تو جانے دیا کریں پورا دن بس کبھی کسی ایک کا فون آرہا ہے تو کبھی کسی دوسری کا میں نے جواد کو انکھیں نکال کے دیکھا

 فرائی انڈے اور بریڈ کی پلیٹ ان کے ہاتھ میں تمھا دی میں نے کہا اب جائیں ناشتہ کریں میں چائے لاتی ہوں میں حیران تھی کہ آپانے تو کبھی بھی صبح سویرے فون نہ کیا تھا ہمیشہ شام میں ہماری بات ہوتی تھی اور اج کل تو ویسے بھی وہ مصروف تھی کلیم بھائی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ان کی ذمہ داری میں ہی لگی ہوئی تھی کافی دن سے آپا سے میری بات بھی نہیں ہوئی تھی میں نے فون اٹھایا اور کان پر لگایا میں نے کہا جی آپا میرا یہ کہنا تھا کہ مجھے اگے سے سسکیوں کی اور رونے کی آواز میں ارہی تھی آپا اب بے تحاشہ رورہی میرا تو دل ہی گھبرانے لگا مجھے لگا کہ شاید کریم بھائی کی وجہ سے پریشان ہے دل برداشتہ ہو کر رو رہی ہیں لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میری بہن کے اوپر کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے

 وہ روتے ہوئے کہنے لگی کہ ساجدہ کلیم مجھے اکیلا چھوڑ کے چلے گئے یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور مجھے لگا کہ میر ادماغ چکر اسا گیا ہو موبائل میرے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا تھا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا میری بہن ابھی جوان تھی بچے بھی اس کے چھوٹے تھے اور بہنوئی بھی زیادہ عمر کے نہ تھے میں نے موبائل فون بند کیا اور بھاگتے ہوئے باہر نکلی سامنے لاؤنچ میں میرا شو ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا مجھے یوں بد حواس دیکھا تو کہنے لگے کیا ہوا میری انکھوں سے آنسو جاری تھے اور میرے حلق سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے آواز گم ہو چکی ہو روتے روتے میں نے نہ جانے کیسے انہیں بتایا یہ سن کر تو وہ بھی پریشان ہو گئے

 مجھے اپنے ساتھ لگا یا حوصلہ دینے لگے کہ اللہ کی ہی مرضی ہے میں نے کہا جواد مجھے ابھی کے ابھی کھڑریانوالہ جانا ہے کہنے لگے ہاں ٹھیک ہے تم اپنے کپڑے پیک کر لو اور میں تو کہتا ہوں کہ 20 دن اپنی بہن کی طرف ہی رہ لو تا کہ انہیں تسلی دو حوصلہ دو میں روئے جارہی تھی اور ساتھ میں اپنے کپڑے پیک کرنے لگی جواد نے کہا کہ اگر تم یوں روگی تو تمہاری بہن کو کون تسلی دے گا میں نے کہا میرے بھانجے بھانجیاں چھوٹی سی عمر میں یتیم ہو گئے ہیں میں کیسے صبر کروں جو اد یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں ہے میری بہن کا کیا بنے گا ایسے ساری عمر کیسے کاٹے گی مجھے تو ایک پل کے لیے بھی صبر نہیں آرہا تھا ایک کے بعد ایک خیال جب بھی میرے دل سے گزرتا میر ادل پھٹنے لگتا بہر حال بس کا پورا سفر میں نے یوں ہی روتے ہوئے کیا تھا 

جواد مجھے تسلیاں ہی دیتے رہے جب میں آپا کے گھر پہنچی تو آپا اب بالکل گم سم ایک کونے میں بیٹھی تھی امی اور بہنیں روئے جارہی تھی میں تسلی دے رہی تھی لیکن وہ تو پتھر کی مورت بنی ہوئی تھی میری بھانجھی اور بھانجے روئے جارہے تھے کریم بھائی کی میت سامنے رکھی تھی میں بھی آپا کے ساتھ لگ کرپھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہنے لگی کہ صبر کریں آپا نے کوئی جواب نہ دیا بس کلیم بھائی کو دیکھے جارہی تھی جیسے اپنی انکھوں میں انہیں بسانے کی کوشش کر رہی ہو کیونکہ دوبارہ تو انہیں دیکھ نہیں سکتی تھی کچھ دیر بعد ہی میری آپا کا بڑا بیٹا جو کہ صرف 15 سال کا تھا گھر کے اندر داخل ہوا کہنے لگا امی ابو سے باتیں کر لیں دس منٹ تک میت کو لے جانا ہے اس کی انکھوں میں بھی آنسوں تھے

آپا اٹھی اور کریم بھائی کی میت کے پاس بیٹھ گئی کریم سن رہے ہو اپنے بیٹے کی باتیں یہ کیا کہہ رہا ہے مجھ سے کہہ رہا ہے ابو سے دس منٹ بات کرنے کا کہہ رہا ہے کیا دس منٹ میں ساری باتیں ہو جاتی ہیں ؟ کیا دس منٹ کافی ہوتے ہیں عمر بھر کی باتوں کے لیے مت جاؤ مجھے چھوڑ کر میری باتیں دس منٹ کی نہیں ہیں عمر بھر کی ہے میں کیسے تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں بڑی مشکل سے ہم نے آپا کو سنبھالا تھا جیسے ہی میت کو اٹھایا گیا اپا غش کھا کر گر پڑی تھی بے ہوش ہو گئی تھی بچے الگ رورو کے بحال ہو رہے تھے آپا کے تین بچے تھے دو بیٹے اور ایک سب سے چھوٹی بیٹی بس پانچ برس کی تھی بڑا بیٹا 15 سال کا اور دوسرا دس سال کا اپا کو ہوش ہی نہیں آرہا تھا شام تک انہیں ہوش آیاز بر دستی میں نے دودھ لے کے ان کے منہ میں ڈالنے لگی کہنے لگی ساجدہ تم تو جانتی ہو کلیم اسے اتنی محبت کرتے تھے

 کہتے تھے کہ ایک ہی قبر میں دونوں جائیں گے اور دیکھو تو اپنی بات کے کتنے کچے نکلے مجھ سے پہلے ہی چلے گئے پھر کہنے لگی کہ مجھے لگتا تھا کہ اگر کلیم کو کبھی کچھ ہوا تو میں اس سے پہلے مر جاؤں گی میرا سانس رک جائے گا دم گھٹ جائے گا کلیم کے بغیر میں ایک لمحہ نہیں جی پاؤں گی لیکن دیکھو چند گھنٹے ہو گئے انہیں سپرد خاک کیے ہوئے اب میں سانس لے رہی ہوں میں نے آپا کے بہتے انسوؤں کو صاف کیا آنسوں تو میرے بھی بہہ رہے تھے واقعی میری بہن اور بہنوئی میں بہت محبت تھی کلیم بھائی ہمارے کزن تھے اور بچپن سے ہی میری اپا اُن کی منگیتر تھی اس لیے محبت کا ہو جانا ایک فطری سی بات تھی

شادی کے بعد جس طرح کی محبت ان دونوں کے بیچ میں تھی ہم انہیں لیلہ مجنوں کہا کرتے تھے میں نے کہا آپا آپ اپنے آپ کو سنبھالیں اپ ہی ایسی باتیں کریں گی تو پھر بچوں کا کیا ہو گا کلیم بھائی تو جاچکے ہیں اب آپ ہی بچوں کے لیے ماں بھی ہیں اور باپ بھی کریم بھائی کی چار پانچ دکانیں تھیں جو کرائے پہ چڑھائی گئی تھی اب وہ کرایا اتنا تھا کہ گھر کا خرچہ با آسانی سے چل سکتا تھا میری والدہ بہت ضعیف تھی اور یہ غم بھی بہت بڑا تھا اس سے کہنے لگی کہ میں تو صفیہ کے پاس زیادہ دن نہیں گزار سکتی اسے یوں روتا دیکھتی ہوں تو میر کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے میں نے کہا کہ آپ بے فکر ہو کے گھر جائیں میں یہی ہوں آپا کے پاس ہی رہوں گی پھر آپا کی اور میری دوستی بھی بہت زیادہ تھی

چھوٹی بہنیں بھی شادی شدہ تھی لیکن اپا سے دکھ سکھ کا رشتہ میرا ہی تھا میں آپا کے پاس ہی رک گئی بھانجی کو بھی سنبھالتی اور اپا کو بھی بڑا بھانجا سمجھدار تھا جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا تھا اپنی ماں کو بہت تسلی دیتا تھا دسویں جماعت کا طالب علم تھا بہر حال نیا نیا غم تھا اور کلیم بھائی کا مزاج بھی بہت اچھا تھا محلے داروں سے ہر ایک سے ان کے تعلقات بہت اچھے تھے اس لیے لوگوں کا تانتا سا بندہ ہوا تھا وہ روزانہ صبح ہوتی تو کوئی نہ کوئی افسوس کے لیے چلا آتا اپا سے کہتا کہ تمہارا شوہر تو بہت ہی نیک تھا ہمارے گھر کی چھت گر رہی تھی تو اسی نے بنوا کر دی تھی کوئی کہتا میری بیٹی کی شادی تھی تو چپ چاپ میرے ہاتھوں میں لاکھوں روپے رکھ دیے تھے 

جنتی شخص تھا لوگوں سے محبت کرتا تھا اس لیے اللہ کو بھی پیارا لگا اس لیے جلدی ہی چلا گیا جب بھی کوئی آتا اپا کہتی کہ ساجدہ اج تک کلیم نے کسی کو بھی بنا ناشتے پانی کے نہیں بھیجا تمہیں زحمت تو ہو گی لیکن جو بھی مہمان ائے شربت پانی چائے کچھ نہ کچھ ضرور بنا کر دینا آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ہمارے گھر آیا ہو اور وہ پیاسا یا بھوکا چلا جائے کلیم تو اس بات پر مجھ سے لڑنے جھگڑنے لگتے تھے ویسے تو انہوں نے کبھی کچھ نہیں کہا لیکن کہنے لگے کہ کوئی میرے گھر پر آئے اور پیاسا یا بھو کا چلا جائے تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گا میں نے کہا یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے اپا ظاہر سی بات ہے کریم بھائی تھے ہی اتنے اچھے آپ بے فکر رہیں جب بھی کوئی آئے گا شربت پانی چائے کا انتظام میں خود کر دوں گی

 اور کھانے کا وقت ہوا تو کھانا بھی کھلا کر ہی بھیجوں گی کیونکہ آپا کو لوگوں کے پاس بیٹھنا پڑتا تھا اس لیے میری ڈیوٹی ذرا بڑھ گئی تھی ایک کے بعد ایک مہمان افسوس کے لیے آتا اور میں شربت پانی بنا بنا کر رات تک نڈھال سی ہو گئی تھی پھر اپا ہر بار رونے لگتی غم ان کا تازہ ہو جاتا اور میں انہیں تسلیاں دیتی اپنے ساتھ لگاتی حوصلہ دیتی رات کو مجھ سے کہنے لگی کہ تم ہو تو مجھے بڑی ڈھارس ہے تمہارے ہونے سے یہ سوچتی ہوں کہ جب تم چلی جاؤ گی تو میں کیا کروں گی میں نے کہا ماشاء اللہ سے اللہ نے اپ کو دو بیٹوں سے نوازا ہے چھوٹی بیٹی بھی ہے اپنے بچوں سے دل لگائیں اپا میں کب تک رہ سکتی ہوں کہنے لگی ہاں کہہ دو تم صحیح رہی ہوا بھی میں آپا سے باتیں کر ہی رہی تھی رات کے 12 بج گئے تھے کہ اچانک سے کچھ لوگ اور ملنے والے اگئے میں نے گھڑی دیکھی تو دل میں سوچا لوگوں کو بھی چین نہیں ہے منہ اٹھاتے ہیں اور آ جاتے ہیں 12 بج رہے ہیں اپا کو بھی ارام کی ضرورت ہے

بہر حال اپا بھی کلیم بھائی کے ساتھ رہ رہ کر ان جیسے ہی ہو گئی تھی کہنے لگی میں ان سے مل لیتی ہوں تم بس شربت ہی بنا کر لے آنا اور پھر تم سو جانا میں تھکن سے بہت زیادہ چور ہو چکی تھی میں نے شربت بنایا مہمانوں کے سامنے رکھا اور دوبارہ اپا کے کمرے میں آگئی اپا کو آنے میں تو ظاہر ہے ایک گھنٹہ ڈیڑھ لگنا تھا لیکن میری آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھی میں کلیم بھائی کے بیڈ پر لیٹی اور سو گئی ابھی مجھے سوئے شاید 15 یا 20 منٹ ہوئے ہوں گے کہ جب مجھے لگا کہ کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھینچ کر جھنجوڑا ہو یک دم میں نے نیند سے بھری انکھیں با مشکل کھولی جیسے ہی میں نے اوپر دیکھا  

 تو میرے ہوش اڑ کر رہ گئے تھے میں تو سانس لینا تک بھول گئی تھی کریم بھائی اوپر ؟؟؟ میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا میں باولی سی ہو گئی جو کچھ میں نے دیکھا تھا جو کچھ میرے ساتھ ہوا تھا وہ ایک ناممکن سی بات تھی میں جس سے بھی کہتی کہ میں نے کلیم بھائی کو کمرے میں دیکھا سب مجھے پاگل سمجھ رہے تھے یہاں تک کہ میری سنگی آپاں بھی کہنے لگی ساجدہ ٹھیک ہے تمہیں اپنے کلیم بھائی بھائیوں کی طرح عزیز تھے لیکن ایک حقیقت سے تم کیسے منہ مڑ سکتی ہو کب سے تم مجھے سمجھا رہی ہو کہ میں حقیقت کو قبول کر لوں اور خود۔۔۔ میں نے کہا خدا کی قسم ایا میں نے کلیم بھائی کو خود دیکھا ہے اپنی انکھوں سے دیکھا ہے اپا کو میری بات پہ کیوں یقین نہیں آرہا تھا

 اپا اب میری شکل کی طرف دیکھنے لگی جیسے میری عقل پر انہیں شبہ ہو رہا ہے ان کے پاس بیٹھی خواتین میں سے ایک نے کہا کہ شاید کلیم کی روح آئی ہو ؟ پھر وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ جب کوئی انسان فوت ہو جاتا ہے تو تین دن تک اس کی روح گھر میں اتی ہے اور اس لیے نظر بھی آجاتی ہے مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے ایسا ہی کچھ دیکھا تھا جیسے ہی میری آنکھ کھلی اوپر چھت پر دھواں ہی دھواں دیکھائی دیا اس کے بعد سفید رنگ کی شلوار قمیض میں کلیم بھائی مسکراتے ہوئے نظر ائے مجھے لگا میں نے شاید کوئی خواب دیکھا ہے میں نے اپنی آنکھوں کو زور زور سے مسئلا کہ شاید یہ منظر آنکھوں سے غائب ہو جائے لیکن اس کے باوجود کلیم بھائی میرے سامنے تھے

 یہ دیکھ کر تو میری چیخیں بلند ہوئی تھی میں نے آنکھیں زور سے میچ لیں اور چلانا شروع کر دیا اپا اور جو مہمان اپا سے ملنے آئے تھے وہ بھی کمرے میں داخل ہو گئے میں چینے چلائے جارہی تھی جب اپانے مجھے کندھے سے ہلا یا مجھے لگا شاید مجھے دوبارہ سے کلیم بھائی نے بازو سے جھنجھوڑا ہے میں جھٹ سے گھبرا کر پیچھے ہٹی اور چیختے ہوئے میں نے آنکھیں کھلی لیکن سامنے آپاں تھی اپا کو دیکھ کےمیری جان میں جان آئی میں سانس لیتے ہوئے ہانپ رہی تھی میرے منہ سے الفاظ تیک تصیح طرح سے ادا نہیں ہو رہے تھے میں نے کہا نہیں ایا خواب نہیں میں نے سچ مچ کلیم بھائی کو دیکھا ہے میری بات سن کر اپا کہنے لگی کہ نہیں تم نے کوئی خواب دیکھا ہو گا میں روتے ہوئے کہنے لگی کہ آپ کو میری بات کا یقین کیوں نہیں ہے میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے کلیم بھائی کو سچ مچ دیکھا ہے

 لیکن اپا میری بات کو جھوٹ سمجھ رہی تھی ان کے ساتھ ائے مہمان بھی یہی کہنے لگے کہ تم نے خواب دیکھا ہو گا تم ڈر گئی ہو اور کوئی بات نہیں رات بھر میں اپا کو ایک ہی بات کا یقین دلا رہی تھی خوف کے مارے مجھے پوری رات نیند نہیں آئی اگلی صبح بھی بہت سی خواتین اپا سے ملنے آئی اور میں یہی بات ان سے کہہ رہی تھی کہ میں نے خود اپنی انکھوں سے کلیم بھائی کو دیکھا ہے میری والدہ میری بہنیں بھی اپاں کی بلانے پر آگئی تھی اپا کہنے لگی کہ نہ جانے اس کو کیا ہو گیا ہے دیوانوں جیسی باتیں کر رہی ہے ایک فون جواد کو بھی جا چکا تھا اور وہ بھی بڑے پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہوئے تھے 

 میں ان کے ساتھ لگ کر رونے لگی میں نے کہا کہ کوئی بھی میری بات کا اعتبار نہیں کر رہا جواد میں سچ کہہ رہی ہوں میں نےکلیم بھائی کو خود اپنی انکھوں سے دیکھا ہے جواد مجھے قریبی ڈاکٹر بھی لے گئے ڈاکٹر نے میری پوری بات سنی اور اسے جھوٹ سمجھ کر مجھے نیند کی گولیاں دے دی کہنے لگے یہ بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار ہے شاید کئی راتوں سے سکون سے سوئی نہیں ہے یہ دوائیں اسے دیں میں دواؤں کے زیر اثر پوری رات سوئی رہی لیکن میرا دل خوف کے مارے کانپتارہا اگلے روز جواد مجھے اپنے ساتھ واپس لے ائے لیکن مجھے بخار ہو گیا تھا تین چار راتیں میں بخار میں ہی پڑی رہی اور یہی کہتی رہی کہ میں نے سچ سچ کلیم بھائی کو دیکھا ہے

چار دن بعد جب بخار اترا تو تب جاکر میں کچھ سمبھل گئی تھی اس بات کو چند سال بیت چکے ہیں لیکن اب بھی جب مجھے وہ منظر یاد آتا ہے میرا دل بری طرح سے کانپ جاتا ہے میں پسینے سے شرابور ہو جاتی ہوں میرا تنفس پوری طرح سے چلنے لگتا ہے خوف کے مارے مجھ پہ لرزہ طاری ہو جاتا ہے چار سال سے میں ڈپریشن کی گولیاں کھا رہی ہوں اور اس واقعے کو بھولنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن ابھی بھی مجھے لگتا ہے جیسے یہ واقعہ میرے لیے کل کی بات ہو شاید کچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان چاہ کر بھی اسے بھلا نہیں سکتا اور میرے لیے یہ ایسا ہی تھا

Dream or reality

When my brother-in-law died, I went to stay at my sister’s house in Khadrianwala. It was summer. I was tired of giving water to the guests all day. All the responsibility of the house was on me. When night came, I went to my sister-in-law’s bed and lay down. When I opened my eyes, my brother-in-law was on top of me. I woke up in the morning when I heard such a news that I was left in a daze. He brought the phone and gave it to me and said, take it, talk to your elder sister, your sisters don’t care, at least let your husbands go to work. I looked at Jawad with my eyes out

I put a plate of fried eggs and bread in his hand, I said now go have breakfast, I will bring you tea, I was surprised that you never called me early in the morning, we always used to talk in the evening and today anyway. She was busy. Kaleem Bhai’s condition was not good. He was busy with his responsibility. I did not even talk to you for a long time. I picked up the phone and put it on my ear. I said yes. Before, there was a sound of sobbing and crying, now she was crying profusely, my heart started to panic. Which resurrection is broken

She started crying and said that Sajida Kaleem has left me alone, she started crying and I felt that Mir Adamagh has lost her mind. She was young, her children were also small and her brother-in-law was not very old. Tears were flowing from my eyes and it seemed as if my voice was lost.

They started encouraging me that it is Allah’s will. I said, Jawad, I have to go to Khadrianwala right away. I was crying and I started packing my clothes. Jawad said that if you cry like this, who will comfort your sister? I said my nephews and nieces have become orphans at a young age. How can I be patient? This is not a small thing. What will happen to my sister? How will she spend the whole life like this? I could not be patient even for a moment. However, I spent the entire bus journey crying like this

Jawad kept consoling me when I reached Apa’s house, Apa was sitting in a corner completely lost, mother and sisters were crying. Kareem Bhai’s dead body was placed in front of her. I also started crying with her and said, “Be patient.” She didn’t answer. I could not see them. After some time, my Apa’s elder son, who was only 15 years old, entered the house and said, “Mom, talk to Abu. He has to take the dead body for ten minutes. He also had tears in his eyes.”

Apa got up and sat next to Kareem Bhai’s dead body. Kareem, are you listening to your son? What is he saying? Are 10 minutes enough for a lifetime? Appa had fainted and collapsed. The children were recovering separately. Appa had three children, two sons and the youngest daughter was only five years old. The eldest son was 15 years old and the second was ten years old. He was not regaining consciousness till the evening when he regained consciousness, I took milk and put it in his mouth and said Sajida, you know that Kaleem used to love him so much.

They used to say that both of them will go to the same grave and see how many of their words came out before me. Then she said that I thought that if anything happened to Kaleem, I would die before him. I hold my breath. He will be suffocated, I won’t be able to live a moment without him, but look, it’s been a few hours, he was buried, now I’m breathing, I wiped your tears, my tears were really flowing My sister and brother-in-law were very much in love, Kaleem Bhai was our cousin and my grandmother was his fiance since childhood, so falling in love was a natural thing.

After the marriage, the kind of love that was between them, we used to call them Laila Majnu, I said, take care of yourself, you are the only one who will do such things, then what will happen to the children, Kalim Bhai, you are gone now. There is a mother for the children and a father as well. Karimbhai had four or five shops which were rented out.

Ba could walk easily. My mother was very weak and this grief was also very great. She said that I cannot spend many days with Safia. Don’t worry, go home, I am the same, I will stay with you.

My younger sisters were also married, but I had a sad and sad relationship with Apa. He was a student of the 10th standard, however, there was a new grief and Kaleem Bhai’s mood was also very good. His relations with the villagers were very good. Someone would come to apologize and tell you that your husband was very good, the roof of our house was falling, so he had built it.

He was a heavenly person, he loved people, that’s why he loved Allah too, so he left early. Guests, make sure to make some syrup, water, tea, or something. Till date, it has never happened that someone came to our house and left thirsty or hungry. Kaleem used to fight with me about this, but they never said anything. But they said that if someone comes to my house and leaves thirsty or hungry, what will I answer to Allah? Even if someone comes, I will arrange the syrup, water and tea myself

And when it’s time to eat, I will send the food as well, because you had to sit with people, so my duty was a little increased. It was over and then Appa would start crying every time, her grief would be fresh and I would console her and encourage her. So what will I do? I said, Masha Allah, Allah has blessed you with two sons. You also have a little daughter. Take care of your children. How long can I stay? I was talking, it was 12 o’clock in the night when suddenly some people and visitors came. I looked at the clock and thought in my heart. Required

In any case, Appa also became like Kaleem Bhai by staying with him. I made it and placed it in front of the guests and came back to Apa’s room. It was obvious that it would take an hour and a half for Apa to come, but my eyes were closing from sleep. It must have been minutes when I felt someone grab me by the arm and jerk me. Suddenly I opened my sleepy eyes with difficulty as I looked up.

So my consciousness was gone, I even forgot to breathe, Kareem Bhai above ??? My mind stopped working I became paranoid what I had seen what had happened to me was an impossible thing I told anyone that I saw Kalam Bhai in the room everyone thought I was crazy. Even my sister-in-law Aapan also started saying, Sajida, well, you were dear like your Kaleem brothers, but how can you turn away from a fact, since when have you been telling me that I should accept the truth and myself. I said, I swear to God, I have seen Kaleem Bhai myself, I have seen it with my own eyes, why did you not believe me?

Appa now started looking at my appearance as if she was doubting my sanity. One of the women sitting next to her said that maybe the soul of Kaleem has come. Then the woman said that I have heard that when a person dies, his spirit stays in the house for three days and that is why it is visible. I opened my eyes and saw smoke on the roof, after that I saw Kaleem Bhai smiling in a white shalwar shirt. I thought I might have seen a dream. Disappeared, but still Kaleem Bhai was in front of me.

Seeing this, my screams were loud, I took the match with my eyes and started shouting Appa and the guests who had come to meet Appa also entered the room. I felt that Kaleem bhai has hit me with his arm again. I was scared and turned back screaming. I opened my eyes but there was Apa in front of me. They were not paying properly. I said no, it was not a dream. I have really seen Kaleem Bhai. Hearing my words, Appa said, “No, you must have seen a dream.” I am not sure why I am telling the truth, I have really seen Kalim Bhai.

But Appa was taking my words as a lie along with them, the guests also said the same thing that you must have seen a dream, you are scared and there is no problem. Throughout the night, Appa was assuring me of the same thing out of fear. I did not sleep the whole night and the next morning many women came to meet Appa and I was telling them the same thing that I have seen Kaleem Bhai with my own eyes. I don’t know what has happened to her.

I started crying next to him, I said that no one is believing my words, Jawad, I am telling the truth, I have seen Kaleem Bhai with my own eyes, Jawad also took me to a nearby doctor, the doctor listened to my whole story. And believing it to be a lie, they gave me sleeping pills and said that she is suffering from a lot of depression, maybe she has not slept peacefully for many nights, give her these medicines. Roz Jawad took me back with him, but I had fever, I remained feverish for three or four nights and kept saying that I have indeed seen Kaleem Bhai.

After four days, when the fever subsided, then I went and got some relief. It’s been a few years, but even now, when I remember that scene, my heart trembles badly. I start to walk in a way that makes me shake with fear. For four years I have been taking depression pills and try to forget about this incident, but it still seems like it happened to me yesterday. There are some accidents that a person cannot forget even if he wants to and it was like that for me.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *